خیبر پختونخوا؛ ریسکیو کو ڈرونز اور جدید آلات سے لیس کرنے کا فیصلہ
اشاعت کی تاریخ: 30th, June 2025 GMT
فائل فوٹو
چیف سیکریٹری خیبر پختونخوا شہاب علی شاہ نے سیلابی صورتحال سے نمٹنے کے لیے ریسکیو کو جدید آلات سے لیس کرنے کی ہدایت کر دی۔
چیف سیکریٹری خیبر پختونخوا کی زیر صدارت اجلاس میں ریسکیو اداروں کو جدید آلات اور ڈرونز سے لیس کرنے کا فیصلہ کیا گیا۔
تربیتی مشقیں جاری رکھنے، ندی نالوں کی صفائی اور دریا کے اطراف دفعہ 144 پر عملدرآمد یقینی بنانے کی ہدایت دی گئی۔
سیاحتی مقامات پر ہوٹلز کو سیفٹی آلات مہیا کرنے اور عوام کو آگاہی مہم کے ذریعے خبردار کرنے کا حکم بھی جاری کیا گیا۔ محکمہ سیاحت کو باقاعدہ ٹریول ایڈوائزری جاری کرنے کی ہدایت کی گئی۔
ضلعی انتظامیہ کے مطابق سنگوٹہ تک 49 ہوٹلز اور ریستوران کے خلاف کارروائی کی جا رہی ہے۔
اجلاس سے خطاب کرتے ہوئے چیف سیکریٹری کا کہنا تھا کہ دریاؤں کے اطراف دفعہ 144 کا اطلاق یقینی بنایا جائے، عوام کو دریا کے قریب جانے سے روکنے کیلئے آگاہی مہم تیز کی جائے، ہوٹلز کو لائف جیکٹس و دیگر سیفٹی آلات رکھنے کا پابند بنایا جائے اور خلاف ضابطہ این او سی جاری کرنے والوں کے خلاف کارروائی کی جائے۔
چیف سیکریٹری نے مزید کہا کہ ہرضلع میں ایڈیشنل ڈپٹی کمشنر ریلیف کا دفتر فرسٹ رسپانس کیلئے مختص ہوگا۔
اجلاس میں فیصلہ کیا گیا کہ ریسکیو ٹیمز کو ڈرونز اور جدید آلات سے لیس کیا جائے گا اور مقامی کمیونٹی کو ایمرجنسی رسپانس کی تربیت دی جائے گی۔
چیف سیکریٹری نے کہا کہ ریسکیو 1122 میں میرٹ پر بھرتیاں یقینی بنائی جائیں۔
.
ذریعہ
ذریعہ: Jang News
کلیدی لفظ: چیف سیکریٹری جدید آلات سے لیس
پڑھیں:
خبردار اپنی سمز کسی اور کو نہ دیں۔۔۔ پی ٹی اے نے اہم ہدایات جاری کردیں۔
پاکستان ٹیلی کمیونیکیشن اتھارٹی (پی ٹی اے) نے موبائل فون صارفین کو سمز کے غیر قانونی استعمال اور فراڈ سے بچنے کے لیے اہم ہدایات جاری کرتے ہوئے خبردار کیا ہے کہ اپنی سم کسی دوسرے شخص کو دینا قابلِ سزا جرم ہے، کیونکہ آپ کے نام پر رجسٹرڈ سم کسی بھی غیر قانونی سرگرمی میں استعمال ہو سکتی ہے، جس کی قانونی ذمہ داری بھی سم ہولڈر پر عائد ہو سکتی ہے۔پی ٹی اے کی جانب سے جاری کردہ آگاہی پیغام میں کہا گیا ہے کہ تمام صارفین اپنی رجسٹرڈ سمز کی تعداد کی باقاعدگی سے جانچ کریں تاکہ کسی بھی غیر مجاز یا غیر ضروری سم کی بروقت نشاندہی کرکے اسے بلاک کرایا جا سکے۔ اس مقصد کے لیے صارفین cnic.sims.pk پر جا کر یا اپنا 13 ہندسوں پر مشتمل شناختی کارڈ نمبر بغیر ڈیش کے 668 پر ایس ایم ایس کرکے اپنے نام پر رجسٹرڈ سمز کی تفصیلات حاصل کر سکتے ہیں۔اتھارٹی نے ہدایت کی کہ اگر کسی صارف کے نام پر ایسی سم رجسٹرڈ ہو جس کے بارے میں وہ لاعلم ہو یا جس کی ضرورت نہ ہو تو اسے فوری طور پر متعلقہ موبائل کمپنی سے رابطہ کرکے بند کرایا جائے تاکہ کسی بھی ممکنہ دھوکا دہی یا غیر قانونی استعمال سے بچا جا سکے۔پی ٹی اے نے مزید کہا کہ نئی سم ہمیشہ متعلقہ موبائل کمپنی کی مستند فرنچائز یا کسٹمر سروس سینٹر سے ہی حاصل کی جائے اور بائیو میٹرک تصدیق کے عمل کے دوران مکمل احتیاط برتی جائے۔ صارفین اس بات کو یقینی بنائیں کہ ان کی اجازت اور علم کے بغیر ان کے شناختی کارڈ پر کوئی نئی سم رجسٹرڈ نہ کی جائے۔اتھارٹی نے ایک بار پھر عوام کو متنبہ کیا کہ "مفت سم" یا دیگر پرکشش پیشکشوں کے لالچ میں اپنی بائیو میٹرک تصدیق ہرگز نہ کرائیں، کیونکہ دھوکے باز عناصر اس عمل کے ذریعے آپ کے نام پر اضافی سمز جاری کرا سکتے ہیں، جو بعد ازاں جرائم یا فراڈ میں استعمال ہو سکتی ہیں۔پی ٹی اے نے شہریوں پر زور دیا کہ وہ اپنی ذاتی معلومات، شناختی دستاویزات اور بائیو میٹرک ڈیٹا کی حفاظت کو یقینی بنائیں اور کسی بھی مشتبہ سرگرمی کی صورت میں فوری طور پر متعلقہ موبائل آپریٹر یا پی ٹی اے سے رابطہ کریں تاکہ محفوظ اور ذمہ دارانہ موبائل استعمال کو فروغ دیا جا سکے۔