دریاؤں اور آبی گزرگاہوں میں تجاوزات، چیف سیکریٹری خیبر پختونخوا کا متعلقہ حکام کو خط
اشاعت کی تاریخ: 30th, June 2025 GMT
— فائل فوٹو
چیف سیکریٹری خیبر پختونخوا شہاب علی شاہ نے آبی گزرگاہوں کے تحفظ اور ان میں موجود تجاوزات ختم کرنے کے معاملے پر کمشنرز، ڈپٹی کمشنرز، ریجنل پولیس آفیسرز اور دیگر حکام کو خط لکھ دیا۔
خط میں لکھا کہ تجاوزات پر کارروائی اثر و رسوخ رکھنے والوں سمیت بلا تفریق سب کے خلاف کی جائے۔ دریاؤں، قدرتی ندی نالوں اور آبی گزرگاہوں کی حد بندی اور نقشہ بندی کی جائے، حدی بندی کو متعلقہ ٹیکنیکل محکموں کے تعاون سے مکمل کیا جائے۔
خط میں مزید لکھا کہ دریاوں کی حدود میں غیرقانونی تعمیرات، ڈھانچے اور ان میں کچرا پھینکنا سنگین مسئلہ ہے۔
خط میں 10 دن کے اندر جیوٹیگ شدہ تصاویر، کی گئی کارروائیوں اور دیگر اقدامات کی رپورٹ دینے اور اس کے علاوہ دریاؤں، ندی نالوں اور قدرتی آبی گزرگاہوں میں غیرمجاز تعمیرات کےخلاف مہم شروع کرنے کا حکم دیا گیا ہے۔
وزیر اعلیٰ خیبر پختون خوا علی امین گنڈا پور کی کے ترجمان کا کہنا ہے کہ سانحہ سوات کے پیشِ نظر اہم اقدامات اٹھانے کا فیصلہ کیا گیا ہے۔
خط میں یہ ہدایت کی ہے کہ ان فوری اقدامات پر سختی سے عملدر آمد کیا جائے اور حالیہ نقصانات کے پیش نظر قدرتی ڈرینیج سسٹم، بنیادی ڈھانچے اور انسانی زندگی کے تحفظ کے لیےاقدامات کیےجائیں۔
خط میں لکھا ہے کہ دریاؤں، ندی نالوں اور قدرتی آبی راستوں میں تجاوزات پانی کے بہاؤ میں شدید رکاوٹ ڈالتی ہیں، سیلاب کے خطرات بڑھ جاتے ہیں اور انسانی زندگی کو شدید خطرات لاحق ہوتےہیں۔
خط میں لکھا ہے کہ ریور پروٹیکشن ایکٹ، کینال اینڈ ڈرینیج ایکٹ اور لوکل گورنمنٹ کےقواعد و ضوابط پر عمل درآمد کو یقینی بنائیں۔
خط میں لکھا ہے کہ ریوینیو، آبپاشی اور مقامی حکومت کے محکموں کے ساتھ رابطہ رکھیں، تمام کمشنرز خود انسداد تجاوزات مہمات کی نگرانی کریں، تجاوزات کےخلاف مہمات شفاف، قانونی طور پر درست اور مکمل دستاویزی ہوں۔
خط میں یہ بھی لکھا کہ اس معاملے کو ہنگامی اور سنجیدہ بنیادوں پر لیا جائے، تاخیر یا عدم توجہ کی صورت میں سنگین انتظامی نتائج اور قدرتی آفات سے نقصانات ہو سکتے ہیں۔
.
ذریعہ
ذریعہ: Jang News
کلیدی لفظ: آبی گزرگاہوں خط میں لکھا
پڑھیں:
چینی سائنسدانوں کی اہم پیش رفت، نیند بڑھانے والا قدرتی مالیکیول دریافت
دنیا بھر میں لاکھوں افراد بے خوابی اور نیند کی مختلف خرابیوں کا شکار ہیں، تاہم چینی سائنسدانوں نے ایک ایسے قدرتی مالیکیول کی نشاندہی کی ہے جو دماغ میں نیند کی خواہش کو بڑھانے میں اہم کردار ادا کرتا ہے۔ ماہرین کے مطابق یہ دریافت مستقبل میں بے خوابی اور دیگر نیند کے مسائل کے لیے نئی، محفوظ اور مؤثر ادویات کی تیاری میں اہم سنگ میل ثابت ہو سکتی ہے۔
چینی اکیڈمی آف سائنسز اور دیگر تحقیقی اداروں کے سائنسدانوں کی یہ تحقیق معروف سائنسی جریدےنیچر نیورو سائنس (Nature Neuroscience) میں شائع ہوئی ہے۔ تحقیق کے مطابق ٹرپٹامین (Tryptamine یا TrpA) نامی قدرتی مالیکیول دماغ کو یہ اشارہ دیتا ہے کہ جسم کو آرام اور نیند کی ضرورت ہے۔
محققین کا کہنا ہے کہ مناسب نیند انسانی صحت کے لیے انتہائی ضروری ہے، کیونکہ اسی دوران دماغ یادداشت کو منظم کرتا، نئی معلومات محفوظ بناتا اور روزمرہ سرگرمیوں کے دوران جمع ہونے والے فاضل مادوں کو خارج کرتا ہے۔ اس کے باوجود دنیا بھر میں بے خوابی، ذہنی دباؤ، ڈپریشن، بے چینی اور جسمانی گھڑی (سرکیڈین ردھم) کی خرابی کے باعث لاکھوں افراد مناسب نیند سے محروم رہتے ہیں۔
تحقیق کے دوران سائنسدانوں نے رات کو متحرک رہنے والے چوہوں اور دن میں سرگرم رہنے والے سوروں پر تجربات کیے۔ خصوصی فلوروسینٹ سینسر کی مدد سے جانوروں کے دماغی مائع میں ٹرپٹامین کی مقدار مختلف اوقات میں ریکارڈ کی گئی۔
نتائج سے معلوم ہوا کہ جتنا زیادہ وقت جانور جاگتے رہے، ان کے دماغی مائع میں ٹرپٹامین کی مقدار بھی اتنی ہی بڑھتی گئی۔ اس سے ظاہر ہوا کہ یہ مالیکیول جسم میں بڑھنے والے سلیپ پریشر یعنی نیند کی قدرتی طلب کی عکاسی کرتا ہے۔
مزید تحقیق سے پتا چلا کہ جاگنے کے دوران متحرک مخصوص اعصابی خلیے ٹرپٹامین خارج کرتے ہیں، جو بعد ازاں GPR139 نامی ریسیپٹر سے جڑ کر دماغ کے اس حصے کو متحرک کرتا ہے جو نیند کو فروغ دینے میں اہم کردار ادا کرتا ہے۔
سائنسدانوں نے تجرباتی طور پر ایسے مرکبات بھی استعمال کیے جو GPR139 ریسیپٹر کو متحرک کرتے ہیں۔ نتائج کے مطابق ان مرکبات سے نہ صرف نیند کا دورانیہ بڑھا بلکہ اس کے معیار میں بھی نمایاں بہتری دیکھی گئی۔
ماہرین کا کہنا ہے کہ اگر مستقبل کی تحقیقات میں یہی حیاتیاتی نظام انسانوں میں بھی ثابت ہو جاتا ہے تو بے خوابی اور دیگر نیند کی خرابیوں کے علاج کے لیے ایسی نئی ادویات تیار کی جا سکیں گی جو موجودہ ادویات کے مقابلے میں زیادہ محفوظ، مؤثر اور کم مضر اثرات کی حامل ہوں گی۔