کے الیکٹرک کو ڈیوٹی کی مد میں وصول کیے جانیوالے 70 کروڑ روپے ہر ماہ سندھ حکومت کو دینے کا حکم
اشاعت کی تاریخ: 30th, June 2025 GMT
کراچی:
سندھ کی پبلک اکاؤنٹس کمیٹی (پی اے سی) نے کے الیکٹرک کو ڈیوٹی کی مد میں وصول کیے جانے والے ماہانہ 70 کروڑ روپے ہر ماہ صوبائی حکومت کو ادا کرنے کی ہدایت کردی۔
ایکسپریس نیوز کے مطابق سندھ پبلک اکاؤنٹس کمیٹی نے واٹر اینڈ سیوریج کارپوریشن اور سندھ حکومت کے اداروں کے 30.9 ارب روپے کے واجبات ادائیگی تک کے الیکٹرک کو ستمبر 2024 سے ہر ماہ صارفین سے ڈیوٹی کی مد میں وصول کیے جانے والے 70 کروڑ روپے ہر ماہ سندھ حکومت کو ادا کرنے کا حکم دیا ہے۔
پیر کو پی اے سی کا اجلاس چیئرمین نثار کھوڑو کی صدارت میں سندھ اسمبلی کے کمیٹی روم میں ہوا۔ اجلاس میں کمیٹی کے اراکین قاسم سراج سومرو، خرم کریم سومرو اور مخدوم فخرالزمان سمیت کے الیکٹرک کی سعدیہ دادا، واٹر کارپوریشن کے انجنیئر اسداللہ خان، محکمہ انرجی کے سیکریٹری مشتاق احمد، ڈی جی آڈٹ سندھ سمیت دیگر متعلقہ حکام نے شرکت کی۔
پی اے سی نے ستمبر 2024 سے ہر ماہ صارفین سے وصول ڈیوٹی کی رقم سندھ حکومت کو ادا کرنے کے فیصلے پر عملدرآمد نہ کرنے کی صورت میں ڈیوٹی کی رقم پر فنانشل چارجز عائد کرنے اور کمیٹی کا استحقاق مجروح کرنے سمیت کے الیکٹرک کے خلاف کارروائی شروع کرنے کے لیے کے الیکٹرک کو خبردار کردیا ہے۔
کے الیکٹرک نے اگست 2024 تک صارفین سے وصول ڈیوٹی کی مد میں 32 ارب کی سندھ حکومت کو ادائیگی کا معاملہ کراچی سیوریج واٹر کارپوریشن پر 23.
اجلاس میں کے الیکٹرک کا ڈیوٹی کی مد میں صارفین سے وصول 32 ارب روہے کی سندھ حکومت کو ادائیگی کے معاملے کا جائزہ لیا گیا۔
چیئرمین پی اے سی نثار کھوڑو نے استفسار کیا کہ کے الیکٹرک کراچی کے کتنے صارفین سے بجلی کے بلوں کے ذریعے سندھ حکومت کی طرف سے الیکٹرک ڈیوٹی کی مد میں ماہانہ پیسے وصول کررہی ہے؟
کے الیکٹرک کی سعدیہ دادا نے بتایا کہ کے ای کراچی میں 65 لاکھ صارفین سے 6 فیصد الیکٹرک ڈیوٹی کی مد میں ماہانہ 500 سے 700 ملین روپے وصول کررہی ہے۔
نثار کھوڑو نے استفسار کیا کہ کے ای ہر ماہ صارفین سے ڈیوٹی تو وصول کررہی ہے مگر وہ رقم سندھ حکومت کو کیوں ادا نہیں کررہی، کے ای صارفین سے وصول ڈیوٹی کی رقم اپنے پاس رکھنے کی مجاز نہیں ہے۔
کمیٹی رکن قاسم سومرو نے کہا کہ کس قانون کے تحت کے ای ڈیوٹی کی رقم اپنی پاس رکھ رہی ہے اس متعلق کوئی قانون بتائیں۔ نثار کھوڑو نے کہا کہ کے ای صارفین سے وصول ڈیوٹی کی رقم سندھ حکومت کو ادا نہ کرکے کیا رقم ہڑپ کرنا چاہتی ہے۔
قاسم سومرو نے کہا کہ واجبات کی رقم ادا نہ کرنے پر پارلیمینٹیرینز کی رکنت معطل ہوجاتی تو کہیں کے ای کے ساتھ بھی ایسا نہ ہوجائے۔ کے ای کی سعدیہ دادا نے پی اے سی کو بتایا کہ کے الیکٹرک نقصان میں جارہا ہے اس کے باوجود کے ای نے ڈیوٹی کی مد میں ماہ اپریل 2024 میں 721 ملین روپے اور مئی 2024 میں 545 ملین روپے سندھ حکومت کو ادا کیے ہیں۔
چیئرمین نثار کھوڑو نے کہا کہ کے ای صرف 2 ماہ کی ڈیوٹی کی رقم سندھ حکومت کو ادا کرکے دانہ نہ ڈالے، باقی 32 ارب روپے سندھ حکومت کو کب ادا کیے جائیں گے۔ کے ای عوام سے وصول انکم ٹیکس، سیلز ٹیکس سمیت دیگر ٹیکسز کی ادائگیاں کررہا ہے تو الیکٹرک ڈیوٹی کی مکمل رقم سندھ کو کیوں نہیں دی جارہی۔ کے ای کا ڈیوٹی کی رقم ادا نہ کرنا غیرآئینی عمل ہے۔
کے الیکٹرک کی سعدیہ دادا نے کہا کہ کے الیکٹرک کے کراچی واٹر سیوریج کارپوریشن پر 23.5 ارب روپے کی ریکنسائیل رقم کی واجبات ہیں اور سندھ حکومت کے مختلف اداروں پر 7.4 ارب کے واجبات ہیں اگر یہ ادارے کے ای کو ادائیگیاں کردیں تو کے ای سندھ حکومت کو واجبات ادا کرسکے گی۔
قاسم سومرو نے کہا کے یہ شرط ہی غیر قانونی ہے کہ کے ای کو واٹر کارپوریشن یا سندھ کے اداروں سے واجبات ادا ہونگے تو ہی کے ای ڈیوٹی کی رقم سندھ حکومت کو دے گی۔ اگر کے ای عوام سے وصول ڈیوٹی کی مد میں 32 ارب روپے سندھ حکومت کو ادا نہیں کرے گی تو سندھ قرض سمجھ کر 32 ارب پر مزید فنانشل چارجز عائد کرے گا۔ کراچی واٹر اینڈ سیوریج کارپوریشن نے 23.5 ارب روپے کے، کے الیکٹرک کے واجبات کی ادائیگی کا ذمہ دار وفاقی حکومت کو قرار دے دیا۔
انجنیئر اسداللہ خان نے بتایا کہ 14 نومبر 2005 اور 13 اپریل 2009 میں وفاقی حکومت اور ابراج گروپ کے درمیان معاہدہ ہوا جس کے تحت واٹر بورڈ، جیل، ہائی کورٹ سمیت اگر کسی اسٹریٹیجک کسٹمر نے بجلی کے بلوں کے واجبات ادا نہیں کیے تو وہ رقم وفاقی حکومت ادا کرے گی۔ وفاقی حکومت اور ابراج گروپ کے درمیان معاہدے میں واٹر بورڈ اور سندھ حکومت کے دستخط نہیں ہیں اور کے ای کے واٹر بورڈ پر 23.5 ارب کے واجب الادا ہیں۔
ذریعہ
ذریعہ: Express News
کلیدی لفظ: ڈیوٹی کی رقم سندھ حکومت کو سیوریج کارپوریشن اور سندھ حکومت کے سندھ حکومت کو ادا ڈیوٹی کی مد میں کے الیکٹرک کو کی سعدیہ دادا نثار کھوڑو نے وفاقی حکومت واجبات ادا کے واجبات نے کہا کہ ارب روپے پی اے سی کہ کے ای ہر ماہ
پڑھیں:
مینگو شیک کے لیے کون سا آم بہترین ہے؟ ذائقے اور کریمی ٹیکسچر کو بدل دینے والے راز
گرمیوں کی آمد کے ساتھ ہی آموں کی خوشبو اور مٹھاس ہر طرف پھیل جاتی ہے، اور بازاروں، ریڑھیوں اور گھروں میں مختلف اقسام کے آم اپنی رنگینی بکھیرنے لگتے ہیں۔
پاکستان میں آم کی کئی مشہور اقسام پائی جاتی ہیں جن میں دسہری، کیسر، چونسہ اور سندھ کے بعض علاقوں میں محدود پیمانے پر کاشت ہونے والا الفانسو آم شامل ہے، جسے عام طور پر ’الفنس‘ کے نام سے بھی جانا جاتا ہے۔
آم کو صرف ایک پھل نہیں بلکہ گرمیوں کی پہچان سمجھا جاتا ہے، اسی لیے اس موسم میں اس سے آئس کریم، میٹھے پکوان، آم رس، سلاد اور مختلف مشروبات تیار کیے جاتے ہیں۔ تاہم ٹھنڈا اور گاڑھا مینگو شیک آج بھی سب سے زیادہ پسند کیے جانے والے مشروبات میں شمار ہوتا ہے، اور اکثر یہ سوال سامنے آتا ہے کہ آخر مینگو شیک کے لیے بہترین آم کون سا ہے؟
ماہرین اور شوقین افراد کے مطابق الفانسو آم مینگو شیک کے لیے بہترین انتخاب سمجھا جاتا ہے۔ اس کی گودے دار ساخت قدرتی طور پر کریمی ہوتی ہے، اس میں ریشہ نہ ہونے کے برابر ہوتا ہے اور اس کی مٹھاس دودھ کے ساتھ بخوبی گھل جاتی ہے، جس سے شیک ہموار اور ملائم بنتا ہے۔ بعض آم بلینڈ کرنے کے بعد ریشے دار محسوس ہوتے ہیں، لیکن الفانسو شیک کو ایک یکساں اور کریمی ساخت دیتا ہے۔
الفانسو آم کی ایک اور نمایاں خصوصیت اس کی خوشبو ہے، جو سادہ دودھ کے شیک کو بھی ایک خاص ذائقہ اور مہک عطا کرتی ہے۔ چونکہ یہ قدرتی طور پر بہت میٹھا ہوتا ہے، اس لیے اکثر افراد اس میں اضافی چینی ڈالنے کی ضرورت محسوس نہیں کرتے۔
ماہرین کا کہنا ہے کہ ہر آم مینگو شیک کے لیے یکساں طور پر موزوں نہیں ہوتا۔ ایک اچھے شیک کے لیے ایسے آم کا انتخاب بہتر ہے جس میں ریشہ کم ہو، گودا قدرتی طور پر میٹھا اور خوشبودار ہو، ساخت گاڑھی اور کریمی ہو، جبکہ گٹھلی چھوٹی اور گودا زیادہ ہو۔
الفانسو کے علاوہ کیسر آم بھی ایک اچھا انتخاب سمجھا جاتا ہے، جو اپنے شوخ نارنجی گودے اور بھرپور مٹھاس کے باعث گاڑھا اور لذیذ شیک تیار کرتا ہے۔ اسی طرح دسہری آم اپنی خوشبو اور رس دار خصوصیات کی وجہ سے ہلکے اور تازگی بخش شیک کے لیے موزوں مانا جاتا ہے۔
ماہرین یہ بھی خبردار کرتے ہیں کہ بہت زیادہ پکے ہوئے آم استعمال نہ کیے جائیں، کیونکہ اگرچہ وہ زیادہ میٹھے ہوتے ہیں لیکن بعض اوقات ان میں خمیر جیسی بو پیدا ہو سکتی ہے جو شیک کے ذائقے کو متاثر کرتی ہے۔
گھر میں بہترین مینگو شیک بنانے کے لیے چند آسان طریقے بھی مددگار ثابت ہوتے ہیں۔ آموں کو استعمال سے پہلے ٹھنڈا کر لیا جائے تو برف کی ضرورت کم ہو جاتی ہے، جبکہ مکمل چکنائی والے ٹھنڈے دودھ سے شیک زیادہ کریمی بنتا ہے۔ آم کے ٹکڑوں کو فریز کر کے استعمال کرنے سے شیک مزید گاڑھا ہو جاتا ہے، اور ذائقے میں بہتری کے لیے ہلکی سی الائچی یا زعفران بھی شامل کیا جا سکتا ہے۔
ماہرین کے مطابق ضرورت سے زیادہ بلینڈنگ سے شیک پتلا بھی ہو سکتا ہے، اس لیے اسے مناسب وقت تک ہی بلینڈ کرنا بہتر سمجھا جاتا ہے۔ مجموعی طور پر کہا جا سکتا ہے کہ گرمیوں میں بہترین مینگو شیک کا راز صرف ترکیب میں نہیں بلکہ صحیح آم کے انتخاب میں بھی چھپا ہوتا ہے۔