پشاور میں جھگڑے کے دوران اسلحے کا آزادانہ استعمال، ٹیوشن جانے والا بچہ گولی لگنے سے جاں بحق
اشاعت کی تاریخ: 30th, June 2025 GMT
پشاور کے علاقے بڈھ بیر میں جھگڑے کے دوران ہونے والی فائرنگ کی زد میں آکر ننھا بچہ جاں بحق ہوگیا۔
ایکسپریس نیوز کے مطابق بڈھ بیر میں جھگڑے کے دوران اسلحے کے آزادنہ استعمال اور فائرنگ کی زد میں آکر ٹیوشن سے گھر جانے والا کمسن بچہ جاں بحق ہوگیا۔
اسکول یونیفارم میں طالب علم کی لاش آبائی علاقہ مردان پہنچا دی گئی سوشل میڈیا پر پشاور میں کلاشنکوف کلچر کے خلاف مہم ، کاروائی کا مطالبہ زور پکڑ گیا۔
ابتدائی تفصیلات کے مطابق تھانہ بڈھ بیر کی حدود بازید خیل میں سابقہ قتل مقاتلے کی دشمنی کی بنا پر فریق اول کامران ساجد پسران سفیر نے فریق دوم عاطف کے درمیان فائرنگ کا تبادلہ ہوا۔
جس میں اسکول کا طالب علم اسحاق گولی کی زد میں آکر جاں بحق ہوگیا۔
واقعے کی اطلاع ملتے ہی ڈی ایس پی بڈھ بیر سرکل ظفر خان مقامی پولیس کے ہمراہ فوری موقع پر پہنچ کر نعش کو پوسٹ مورٹم کیلئے منتقل کردیا۔
ملوث ملزمان کی گرفتاری کیلئے چھاپہ مارا گیا لیکن کوئی گرفتاری عمل میں نہیں لائی جا سکی۔
.
ذریعہ
ذریعہ: Express News
کلیدی لفظ: بڈھ بیر
پڑھیں:
خان سر کے کوچنگ سینٹر کے باہر فائرنگ، کوچنگ سینٹر کو دو دن میں اڑانے کی دھمکی دی گئی
مقامی لوگوں کا کہنا ہے کہ پٹنہ کے مشلہ پور میں خان سر کوچنگ سینٹر کے باہر فائرنگ کی گئی جس سے علاقے میں کچھ دیر کیلئے خوف و ہراس پھیل گیا، لوگوں نے پتھراؤ کی بھی اطلاع دی۔ اسلام ٹائمز۔ پٹنہ کے کدم کنواں تھانہ علاقے میں کل دیر رات افراتفری مچ گئی، جب کچھ شرپسند عناصر معروف استاد خان سر کے کوچنگ سینٹر میں گھس گئے اور توڑ پھوڑ اور لوگوں کے ساتھ مار پیٹ کی۔ واقعے میں کوچنگ سینٹر میں موجود کئی سامان کو نقصان پہنچا جب کہ وہاں تعینات ایک گارڈ شدید زخمی ہوگیا۔ سر میں چوٹ لگنے کے بعد اسے علاج کے لئے اسپتال میں داخل کرایا گیا ہے۔ واقعہ کی اطلاع ملتے ہی پٹنہ پولیس حرکت میں آگئی۔ پٹنہ کے ایس ایس پی، کدم کنواں پولس اسٹیشن اور دیگر پولیس افسران کے ساتھ جائے وقوعہ پر پہنچے اور معاملے کی جانچ شروع کی۔ پولیس کی ٹیمیں رات گئے تک جائے وقوعہ پر موجود رہیں اور عہدیدارون کی جانب سے شواہد اکٹھے کئے گئے۔
واقعہ کے بعد جائے وقوعہ پر پہنچنے والے خان سر نے الزام لگایا کہ حال ہی میں ان کے کوچنگ انسٹی ٹیوٹ سے ہزاروں طلباء کو بہار پولیس بھرتی امتحان میں منتخب کیا گیا تھا، جس نے کچھ کمپٹیشن کرنے والے کوچنگ اداروں کو پریشان کر دیا تھا۔ انہوں نے دعویٰ کیا کہ انہیں مسلسل دھمکیاں مل رہی تھیں، جس کے نتیجے میں حملہ اور توڑ پھوڑ کی گئی۔ خان سر نے کہا کہ یہ لوگ پوچھ رہے ہیں، ہم اتنی کم فیس پر کیوں پڑھا رہے ہیں، ہمیں اتنے اچھے نتائج کیوں مل رہے ہیں۔ انہوں نے مزید کہا کہ جب ہزاروں طلباء کے نتائج آتے ہیں تو کچھ سماج دشمن عناصر کو خطرہ محسوس ہوتا ہے۔
مقامی لوگوں کا کہنا ہے کہ پٹنہ کے مشلہ پور میں خان سر کوچنگ سینٹر کے باہر فائرنگ کی گئی جس سے علاقے میں کچھ دیر کے لئے خوف و ہراس پھیل گیا۔ لوگوں نے پتھراؤ کی بھی اطلاع دی۔ حملے میں ایک سکیورٹی گارڈ زخمی ہوا ہے جسے علاج کے لئے اسپتال میں داخل کرایا گیا ہے۔ واقعہ کے بعد سے علاقے میں کشیدگی پائی جاتی ہے۔ جائے وقوعہ پر پولیس کی بھاری نفری تعینات کر دی گئی ہے۔ پٹنہ کے ایس ایس پی کارتکیہ کے شرما نے بتایا کہ ابتدائی تحقیقات سے پتہ چلا ہے کہ کچھ طلباء نے کوچنگ سینٹر پر حملہ کیا اور توڑ پھوڑ کی۔ واقعے میں ایک گارڈ زخمی ہوا، اس کا بیان قلمبند کیا جائے گا۔