امریکی گلوکارہ کنسرٹ میں خوفناک حادثے سے بال بال بچ گئیں؛ ویڈیو وائرل
اشاعت کی تاریخ: 1st, July 2025 GMT
امریکا کی عالمی شہرت یافتہ گلوکارہ بیونسے ہزاروں شائقین کے سامنے پرفارمنس دیتے ہوئے ایک ہولناک حادثے کا شکار ہوتے ہوتے بچ گئیں۔
عالمی خبر رساں ادارے کے مطابق یہ کنسرٹ ہیوسٹن میں جاری تھا اور اسٹیڈیم مداحوں سے کھچا کھچ بھرا تھا۔
گلوکارہ بیونسے نے ہوا میں معلق گاڑی میں بیٹھ کر انٹری دینی تھی۔ وہ اپنے ایک مشہور گانے پر پُرفارمنس دے رہی تھیں۔
اس دوران اچانک وہ کار ایک جانب جھکنے لگتے ہے۔ کار اتنی زیادہ ایک جانب جھک جاتی ہے کہ بیونسے کو لگتا ہے وہ بلندی سے نچے گر جائیں گی۔
گلوکارہ بیونسے نے حاضر دماغی کا مظاہرہ کرتے ہوئے کار جن رسیوں سے لٹکی ہوتی ہے اسے پکڑ لیا تاکہ توازن برقرار رکھ سکیں اور گاڑی سے نیچے نہ گریں۔
بیونسے نے بغیر گھبرائے صورت حال کی سنجیدگی کا اندازہ لگایا اور گانا فوری بند کر کے کہا "رک جاؤ، رک جاؤ!" اسی لمحے موسیقی بند ہوگئی۔
منتظمین نے صورت حال کو سنبھالا اور کار کو آہستی آہستہ نیچے لے آئے۔ گلوکارہ نے مسکراتے ہوئے شائقین کو مخاطب کرتے ہوئے کہا کہ "آپ کے صبر کا شکریہ"۔
گاڑی سے بخیروعافیت اتر کر بیونسے نے مداحوں کی تالیوں کا جواب ہاتھ ہلا کر دیا اور کہا کہ اگر میں کار سے گرتی بھی تو مجھے معلوم ہے آپ لوگ مجھے سنبھال لیتے۔
جس پر اسٹیڈیم تالیوں سے گونج اُٹھا اور گلوکارہ بیونسے نے اپنی ادھوری پُرفامارمنس کو اسٹیج پر مکمل کیا۔ ایک دفعہ پھر سماں بندھ گیا۔
.
ذریعہ
ذریعہ: Express News
کلیدی لفظ: گلوکارہ بیونسے بیونسے نے
پڑھیں:
فراری کی پہلی الیکٹرک کار متعارف، رونمائی کے فوراً بعد تنقید کا طوفان
پُرتعیش گاڑیاں بنانے والی عالمی شہرت یافتہ کمپنی فراری کی پہلی مکمل الیکٹرک گاڑی منظرِ عام پر آتے ہی شدید تنقید کی زد میں آ گئی، جس کے اثرات کمپنی کی مارکیٹ پوزیشن پر بھی نمایاں طور پر دیکھے جا رہے ہیں۔
’لُوچے‘نامی اس نئی الیکٹرک گاڑی کو معروف ڈیزائنر سر جونی آئیو کے تخلیقی وژن کے تحت تیار کیا گیا ہے۔ اطالوی زبان میں ’لُوچے‘ کا مطلب ’روشنی‘ ہے۔ تاہم، گاڑی کا ڈیزائن اور مجموعی تصور صارفین اور ناقدین کی توقعات پر پورا نہ اتر سکا۔
فراری کی تاریخ میں پہلی بار متعارف کرائی گئی پانچ نشستوں والی اس الیکٹرک گاڑی کو غیرمعمولی کارکردگی کے ساتھ پیش کیا گیا ہے۔
کمپنی کے مطابق یہ گاڑی محض ڈھائی سیکنڈ میں صفر سے 96 کلومیٹر فی گھنٹہ کی رفتار حاصل کر سکتی ہے۔ اس کی قیمت 6 لاکھ 40 ہزار ڈالر، یعنی پاکستانی کرنسی میں تقریباً 18 کروڑ روپے رکھی گئی ہے۔
گاڑی کی تقریبِ رُونمائی میں اٹلی کی اہم شخصیات سمیت ملک کے صدر اور عیسائی برادری کے روحانی پیشوا پوپ لیو کو بھی مدعو کیا گیا تھا۔ تاہم، شاندار تقریب کے باوجود مارکیٹ کا ردِعمل فراری کے لیے حوصلہ افزا ثابت نہ ہو سکا۔
رونمائی کے صرف ایک دن بعد ہی کمپنی کے شیئرز کی قیمت میں آٹھ فی صد تک کمی ریکارڈ کی گئی، جسے سرمایہ کاروں کی مایوسی اور مارکیٹ کے منفی ردِعمل کی علامت قرار دیا جا رہا ہے۔
دوسری جانب ناقدین، سرمایہ کاروں اور بعض سیاسی شخصیات نے بھی گاڑی کے ڈیزائن اور تصور پر سوالات اٹھائے ہیں، جبکہ سوشل میڈیا پر اس کے منفرد انداز کو لے کر ملا جلا ردِعمل سامنے آ رہا ہے۔
ماہرین کا کہنا ہے کہ الیکٹرک گاڑیوں کی بڑھتی ہوئی عالمی مارکیٹ میں فراری کا یہ قدم تاریخی ضرور ہے، مگر کمپنی کو روایتی اسپورٹس کار کے شوقین صارفین کو قائل کرنے کے لیے مزید محنت کرنا پڑ سکتی ہے۔