کراچی میں 13 کروڑ کی ڈکیتی معمہ بن گئی، گرفتاریوں کے بعد پولیس کی پُراسرار خاموشی
اشاعت کی تاریخ: 30th, June 2025 GMT
شہر قائد کے علاقے پی ای سی ایچ ایس میں کار ڈیلر کے گھر ہونے والی 13 کروڑ روپے کی بڑی ڈکیتی کا معاملہ کئی سوالات کو جنم دینے لگا ہے۔
ایکسپریس نیوز کے مطابق پی ای سی ایچ ایس میں چند روز قبل ہونے والی 13 کروڑ نقد اور دیگر قیمتی اشیا کی ڈکیتی اور اس میں معروف ٹک ٹاکر کی گرفتاری کے بعد پولیس کی پراسرار خاموشی ایک بڑا معمہ بن گئی ہے۔
ذرائع کے مطابق مدعی مقدمہ سالک اور نامزد ملزم شہریار کے درمیان روابط کا انکشاف ہوا ہے۔ دونوں نہ صرف ایک ہی جم میں ورزش کرتے تھے بلکہ اسنوکر کلب میں بھی ایک ساتھ وقت گزارتے رہے ہیں۔
ذرائع کے مطابق، ایک ماہ قبل دونوں کے درمیان کسی ذاتی نوعیت کے معاملے پر جھگڑا بھی ہوا تھا۔
پولیس نے شوبز انڈسٹری سے وابستہ ملزمہ یسرا زیب کو اس کے گھر کے قریب سے گرفتار کیا، جبکہ دیگر دو ملزمان نمرا اور شہریار کو ڈیفنس فیز 5 کے ایک بنگلے سے حراست میں لیا گیا۔
ذرائع کا کہنا ہے کہ ملزمان حالیہ دنوں میں اپنے اہل خانہ کے ہمراہ پی ای سی ایچ ایس سے ڈیفنس فیز 5 میں کرائے کے گھر میں منتقل ہو رہے تھے۔
ذرائع کے مطابق، پولیس نے ملزمان کے گھر پر دو مرتبہ چھاپے مارے جن میں دوسرا چھاپہ 29 جون کی صبح کیا گیا، جس دوران تیسری بہن نوراہ معمولی زخمی بھی ہوئی۔
درج ایف آئی آر کے مطابق، ڈکیتی کے مقدمے میں تین خواتین اور دو مرد نامزد ہیں، اور گرفتار افراد بھی درحقیقت پانچ بہن بھائی ہی ہیں۔
پولیس اب تک لوٹی گئی 13 کروڑ کی رقم، قیمتی سامان اور واردات میں استعمال ہونے والی ڈبل کیبن گاڑی کا سراغ لگانے میں ناکام رہی ہے۔
واقعے میں پولیس کی خاموشی اور تفتیشی پیش رفت نہ ہونے پر سوالات اٹھنے لگے ہیں۔
.
ذریعہ
ذریعہ: Express News
پڑھیں:
کراچی: کیماڑی میں 6 سالہ بچی کے اغوا اور قتل میں ملوث مرکزی ملزم مبینہ پولیس مقابلے میں ہلاک
کراچی کے ساحلی علاقے کیماڑی میں پولیس نے ایک 6 سالہ بچی کے اغوا اور سفاکانہ قتل میں ملوث مرکزی ملزم کو مبینہ پولیس مقابلے کے دوران ہلاک کرنے کا دعویٰ کیا ہے۔
پولیس ترجمان کے مطابق یہ پیش رفت جیرکسن تھانے کی حدود میں پیش آئی، جہاں مبینہ ملزم کی موجودگی کی اطلاع پر پولیس پارٹی نے مبارک مسجد کے قریب چھاپہ مارا۔ پولیس کو دیکھتے ہی ملزم نے اہلکاروں پر براہِ راست فائرنگ شروع کر دی، جس پر پولیس نے بھی جوابی فائرنگ کی۔ اس تبادلے میں ملزم گولی لگنے سے شدید زخمی ہوا اور بعد میں دم توڑ گیا۔
یہ بھی پڑھیں: کمسن بچی کے قتل کیس میں مجرم کی اپیل مسترد، سزائے موت برقرار
تفتیشی حکام کا کہنا ہے کہ ملزم تک رسائی مختلف علاقوں کی سی سی ٹی وی فوٹیج کی تفصیلی جانچ پڑتال اور دیگر تکنیکی و جغرافیائی شواہد کی مدد سے ممکن ہوئی۔ اس سے قبل، معصوم بچی کی لاش منوہرہ کے قریب جھاڑیوں سے برآمد ہوئی تھی۔
پولیس سرجن ڈاکٹر سمیہ سید نے میڈیکو لیگل کا جائزہ لینے کے بعد تصدیق کی کہ بچی کو بدترین جنسی تشدد اور جسمانی تشدد کا نشانہ بنایا گیا ہے، جبکہ اس کے پورے جسم پر تشدد کے واضح نشانات موجود ہیں۔ بچی کی موت کی حتمی وجہ کا تعین فارنسک لیبارٹری کو بھیجے گئے نمونوں کی رپورٹ آنے کے بعد کیا جائے گا۔
یہ بھی پڑھیں: پشاور: 8 سالہ بچی مبینہ زیادتی کے بعد قتل، لاش ہمسائے کے صندوق سے برآمد
پولیس کے مطابق جیرکسن تھانے میں پہلے ہی بچی کے اغوا اور قتل کے حوالے سے پاکستان پینل کوڈ کی دفعات 364-A اور 302 کے تحت مقدمہ (FIR No. 265/2026) درج تھا۔ اب پولیس مقابلے کا ایک الگ کیس بھی اسی تھانے میں درج کیا جا رہا ہے اور کرائم سین کو سیل کر کے تمام سائنسی و فارنسک ثبوت تحویل میں لے لیے گئے ہیں۔
اس واقعے سے چند ہی دن قبل بھی کراچی میں 6 سالہ بچے کے اغوا، زیادتی اور قتل کے الزام میں ایک 20 سالہ نوجوان کو گرفتار کیا گیا تھا، جس کی لاش بوری میں بند کر کے ویران پلاٹ پر پھینکی گئی تھی۔
آپ اور آپ کے پیاروں کی روزمرہ زندگی کو متاثر کرسکنے والے واقعات کی اپ ڈیٹس کے لیے واٹس ایپ پر وی نیوز کا ’آفیشل گروپ‘ یا ’آفیشل چینل‘ جوائن کریں
we news پولیس مقابلہ زیادتی قتل کراچی کمسن بچی ملزم ہلاک