جیکب آباد ،چائلڈ میرج کے خاتمے پر ڈائیلاگ کا انعقاد
اشاعت کی تاریخ: 1st, July 2025 GMT
data-id="863a0a8" data-element_type="widget" data-widget_type="theme-post-content.default">
جیکب آباد (نمائندہ جسارت)جیکب آباد میں سماجی تنظیم کی جانب سے چائلڈ میرج کے خاتمے کے لیے نوجوانوں اور ضلعی اداروں کے درمیان ڈائیلاگ کا انعقاد۔تفصیلات کے مطابق جیکب آباد کی سماجی تنظیم پیس بائی یوتھ کے زیر اہتمام کم عمری اور جبری شادیوںکے خاتمے کے لیے ایک ضلع سطح کا نوجوان، حکومتی مکالماتی اجلاس منعقد کیا گیا،جس میں فوکل پرسن این جی اواسسٹنٹ مختار کار ٹھل ذوالفقار شاہ ،آغا سجاد،سول سرجن ڈاکٹر واجد حسین بھٹو،محکمہ سماجی بہبود کے نجم الدین نوناری ،محمد فاروق اورشوکت علی و دیگر نے شرکت کی۔ اس ڈائیلاگ کا مقصد نوجوانوں کو سرکاری اداروں کے ساتھ براہِ راست مکالمہ کرنے کا موقع فراہم کرنا تھا تاکہ وہ اپنی آواز، مسائل اور سفارشات مؤثر طریقے سے سامنے رکھ سکیں،یہ مکالمہ نہ صرف نوجوانوں کو خود اعتمادی سے اظہار کا موقع فراہم کرتا ہے بلکہ سرکاری محکموں کو زمینی حقائق سمجھنے میں مدد دیتا ہے۔اجلاس میں ضلع جیکب آباد کے پانچ ہدفی یونین کونسلز کے یوتھ CEFM چیمپئنز اور ضلعی سطح کے اہم سرکاری اداروں کے نمائندگان نے شرکت کی۔ اس موقع پر ٹیم لیڈر سجاد علی نے کہا کہ نوجوان جب اپنی آواز حکومتی سطح پر بلند کرتے ہیں تو یہ ایک پائیدار تبدیلی کی بنیاد بنتی ہے۔ آج کا مکالمہ اس بات کا ثبوت ہے کہ نوجوان، شراکت داری کے ذریعے پالیسی سازی میں بھی مثبت کردار ادا کر سکتے ہیں۔
.
ذریعہ
ذریعہ: Jasarat News
کلیدی لفظ: جیکب ا باد
پڑھیں:
کراچی کے سرکاری کالجز میں انٹرسال اول کیلیے داخلے شروع نہ ہوسکے، سوا لاکھ طلبا منتظر
محکمہ کالج ایجوکیشن سندھ واضح اعلان کے باوجود کراچی میں سرکاری کالجوں میں داخلہ شروع نہیں کرسکا ہے اور کم از کم سوا لاکھ طلبہ انٹر سال اول میں داخلوں کے منتظر ہیں۔
تفصیلات کے مطابق انٹر سال اول میں داخلہ یکم جون سے شروع ہونے تھے اس سلسلے میں 23 مئی کو قومی اخبارات میں اشتہارات جاری کیے گئے تھے جس کے مطابق تمام سرکاری کالجوں میں انٹر سال اول میں نویں جماعت کے نتائج کی بنیاد پر یکم جون سے داخلہ فارم کی رجسٹریشن شروع ہوجانی تھی جبکہ داخلہ فارم رجسٹریشن کی آخری تاریخ 15 جولائی مقرر کی گئی ہے۔
انٹر سال اول میں صرف کراچی کے سرکاری کالجوں میں سوا لاکھ کے قریب طلبہ داخلہ لیتے ہیں جن کے لیے سینٹرلائزڈ ایڈمیشن پالیسی کے تحت 6 مختلف فیکیلٹیز پری انجینئرنگ، پری میڈیکل، کمپیوٹر سائنس ، کامرس ، ہیومینیٹیز اور ہوم اکنامکس میں داخلے دیے جاتے ہیں۔
اس سلسلے میں جب میٹرک کا امتحان دینے والے داخلے کے خواہشمند طلبہ نے www.seccap.dgcs..gos.pk کے پورٹل پر داخلہ رجسٹریشن فارم تک پہنچنے کی کوشش کی تو معلوم ہوا کہ یہ پورٹل ہی بند ہے۔
ادھر "ایکسپریس" نے اس سلسلے میں ڈائریکٹر جنرل کالجز سندھ پروفیسر زاہد راجپر سے جب اس سلسلے میں رابطہ کیا تو ان کا کہنا تھا کہ تکنیکی وجوہات کی بنا پر پورٹل بند ہے ہماری ٹیکنیکل ٹیم کام کررہی ہے۔
انہوں نے کہا کہ پوری امید ہے کہ بدھ کی صبح تک پورٹل کھل جائے جس کے بعد طلبہ داخلے کے لیے اپلائی کرسکیں گے۔
ڈی جی کالجز کا یہ بھی کہنا تھا کہ اس بار ہم نے تمام سرکاری کالجوں میں "ڈیس ایبل" کوٹہ مختص کیا ہے تاکہ ایسے طلبہ اس کوٹے کی بنیاد پر اپنے قرب و جوار کے کالجوں میں بھی اپلائی کرسکتے ہیں۔