اسرائیلی آبادکاروں کے حملے منظم تشدد اور امتیازی پالیسی کا نتیجہ ہیں، اقوام متحدہ
اشاعت کی تاریخ: 1st, July 2025 GMT
data-id="863a0a8" data-element_type="widget" data-widget_type="theme-post-content.default">
رام اللہ:اقوام متحدہ نے مقبوضہ مغربی کنارے کے شہر رام اللہ میں اسرائیلی آبادکاروں کے حالیہ مہلک حملوں کی شدید مذمت کرتے ہوئے انہیں “منظم اور امتیازی قانون نافذ کرنے کے ایک واضح نمونے” کا حصہ قرار دیا ہے۔
بین الاقوامی میڈیا رپورٹس کےمطابق اقوام متحدہ کے انسانی حقوق کے دفتر کے ترجمان ثمین الخطیب نے کہا ہے کہ یہ واقعات معمولی نہیں بلکہ ایک واضح تسلسل کا حصہ ہیں جس میں اسرائیلی قابض افواج فلسطینی آبادی کو تحفظ فراہم کرنے میں مکمل ناکام ہو رہی ہیں۔
اقوام متحدہ کے مطابق 25 جون کو درجنوں مسلح اسرائیلی فوجیوں نے رام اللہ اور نابلس کے کئی دیہات پر منظم حملے کیے، جن میں فلسطینی گھروں اور گاڑیوں کو نذر آتش کیا گیا اور براہ راست گولیاں چلائی گئیں،رام اللہ کے قریب ایک گاؤں میں ہونے والے حملے کے دوران تین فلسطینی اسرائیلی سکیورٹی فورسز کی فائرنگ سے شہید ہوئے جبکہ کم از کم چھ دیگر افراد کو بھی گولیاں مار کر زخمی کر دیا گیا۔
ثمین الخطیب نے بتایا کہ اقوام متحدہ کے انسانی حقوق دفتر کی ہلاکتوں سے متعلق ٹریکنگ کے مطابق 7 اکتوبر 2023 کے بعد سے اسرائیلی آبادکاروں کے ہاتھوں مغربی کنارے میں کم از کم 14 فلسطینی شہید ہو چکے ہیں، جن میں دو بچے بھی شامل ہیں۔ مزید سات فلسطینی، جن میں ایک بچہ بھی شامل ہے، اسرائیلی فورسز یا آبادکاروں کے ہاتھوں مارے گئے۔
خیال رہےکہ فلسطینی وزارت صحت کے مطابق 7 اکتوبر 2023 سے اب تک اسرائیلی فورسز اور غیر قانونی آبادکاروں کے حملوں میں مغربی کنارے میں کم از کم 986 فلسطینی شہید اور 7,000 سے زائد زخمی ہو چکے ہیں۔
یاد رہے کہ جولائی 2023 میں بین الاقوامی عدالت انصاف (ICJ) نے اپنے ایک تاریخی فیصلے میں اسرائیل کے فلسطینی علاقوں پر قبضے کو غیر قانونی قرار دیتے ہوئے مغربی کنارے اور مشرقی یروشلم میں تمام یہودی بستیوں کے خاتمے اور انخلاء کا مطالبہ کیا تھا۔
اقوام متحدہ نے زور دیا ہے کہ بین الاقوامی قوانین کی سنگین خلاف ورزیوں کو روکنے اور فلسطینی عوام کے تحفظ کو یقینی بنانے کے لیے فوری اقدامات کیے جائیں۔ عالمی برادری سے مطالبہ کیا جا رہا ہے کہ وہ ان حملوں پر خاموش تماشائی بننے کے بجائے موثر اور عملی ردعمل دے۔
.
ذریعہ
ذریعہ: Jasarat News
کلیدی لفظ: آبادکاروں کے اقوام متحدہ رام اللہ
پڑھیں:
حکومت نے نیشنل امیگریشن اینڈ ویلفیئر پالیسی 2026 کا اجرا کر دیا
وفاقی وزیر اوورسیز پاکستانیز چوہدری سالک حسین نے نیشنل امیگریشن اینڈ ویلفیئر پالیسی 2026 کا اجرا کر دیا۔تقریب سے خطاب کرتے ہوئے انہوں نے کہا کہ آج کا دن پاکستان میں لیبر مائیگریشن کے نظم و نسق کو مضبوط بنانے کی جانب ایک اہم سنگ میل ہے۔ یہ پالیسی ہر اس پاکستانی سے کیے گئے قومی عزم کی عکاس ہے جو بہتر مواقع کی تلاش میں اپنا گھر چھوڑتا ہے۔انہوں نے کہا کہ محفوظ اور منظم نقل مکانی، مہارتوں کی ترقی، کارکنوں کا تحفظ، تارکینِ وطن کی شمولیت اور وطن واپس آنے والوں کی بحالی اس پالیسی کے بنیادی ستون ہیں۔ تکنیکی جدت، آبادیاتی تبدیلیاں اور لیبر مارکیٹ کے بدلتے ہوئے تقاضے دنیا بھر کی معیشتوں کو نئی شکل دے رہے ہیں. اس لیے پاکستان کو اپنی افرادی قوت کو آج اور مستقبل دونوں کے مواقع کے لیے تیار کرنا ہوگا۔ ان کا کہنا تھا کہ نیشنل امیگریشن اینڈ ویلفیئر پالیسی 2026 اس سمت میں ایک اہم قدم اور پاکستان کی افرادی قوت کو مستقبل کے تقاضوں سے ہم آہنگ کرنے میں سنگ میل ثابت ہوگی۔چوہدری سالک حسین نے کہا کہ ایک کروڑ 20 لاکھ پاکستانی دنیا بھر میں مقیم ہیں اور اپنی پیشہ ورانہ مہارت، دیانت داری اور محنت کی بدولت پاکستان کے سفیر بن چکے ہیں۔ گزشتہ مالی سال میں سمندر پار پاکستانیوں نے 41 ارب امریکی ڈالر سے زائد کی ترسیلاتِ زر وطن بھیجیں، جو ملکی تاریخ کی بلند ترین رقم ہے۔ انہوں نے کہا کہ بیرون ملک مقیم پاکستانیوں کی کامیابی پاکستان کی کامیابی ہے اور ان کی فلاح و بہبود ہماری قومی ذمہ داری ہے۔انہوں نے کہا کہ یہ پالیسی اداروں، تجربات اور شراکت داریوں کو ایک مشترکہ وژن کے تحت یکجا کرتی ہے تاکہ ہر پاکستانی کارکن نقل مکانی کے پورے سفر کے دوران بہتر طور پر تیار، محفوظ اور معاونت یافتہ ہو۔ اس پالیسی کا محور ہر اس پاکستانی کا سفر ہے جو مواقع کی تلاش میں اپنا گھر چھوڑتا ہے، جبکہ ذمہ داری روانگی سے پہلے ہی شروع ہو جاتی ہے، جہاں نوجوان کارکنوں کو متعلقہ مہارتیں، قابلِ اعتماد معلومات اور اخلاقی بھرتی تک رسائی فراہم کی جائے گی۔وفاقی وزیر نے کہا کہ اس پالیسی کی کامیابی وفاقی اور صوبائی حکومتوں، نفاذ کرنے والے اداروں، آجروں، تربیتی اداروں، ترقیاتی شراکت داروں، نجی شعبے اور سمندر پار پاکستانیوں کے باہمی تعاون سے مشروط ہے۔ انہوں نے صوبائی حکومتوں، آئی سی ایم پی ڈی (ICMPD)، دیگر ترقیاتی شراکت داروں اور تمام اسٹیک ہولڈرز کا مشاورتی عمل میں تعاون پر شکریہ ادا کیا، جبکہ اسپیشل انویسٹمنٹ فیسیلیٹیشن کونسل (SIFC) کی مسلسل معاونت کو بھی سراہا۔انہوں نے کہا کہ ہجرت یا نقل مکانی غیر یقینی کا سفر نہیں بلکہ مواقع، وقار اور قومی ترقی کا راستہ ہونا چاہیے۔ آئیں مل کر ایسا مستقبل بنائیں جہاں ہر پاکستانی اعتماد کے ساتھ بیرون ملک جائے، فخر کے ساتھ وطن واپس آئے اور ہمیشہ ایک ایسی قوم سے جڑا رہے جو اس کی خدمات کی قدر اور عزت کرتی ہو۔ انہوں نے دعا کی کہ اللہ تعالیٰ اس وژن کو عوام کے لیے بامعنی ترقی، پاکستان کے لیے دیرپا خوشحالی اور ہر سمندر پار پاکستانی اور اس کے خاندان کے روشن مستقبل کا ذریعہ بنائے۔