data-id="863a0a8" data-element_type="widget" data-widget_type="theme-post-content.default">

رام اللہ:اقوام متحدہ نے مقبوضہ مغربی کنارے کے شہر رام اللہ میں اسرائیلی آبادکاروں کے حالیہ مہلک حملوں کی شدید مذمت کرتے ہوئے انہیں “منظم اور امتیازی قانون نافذ کرنے کے ایک واضح نمونے” کا حصہ قرار دیا ہے۔

بین الاقوامی میڈیا رپورٹس کےمطابق اقوام متحدہ کے انسانی حقوق کے دفتر کے ترجمان ثمین الخطیب نے کہا ہے کہ یہ واقعات معمولی نہیں بلکہ ایک واضح تسلسل کا حصہ ہیں جس میں اسرائیلی قابض افواج فلسطینی آبادی کو تحفظ فراہم کرنے میں مکمل ناکام ہو رہی ہیں۔

اقوام متحدہ کے مطابق 25 جون کو درجنوں مسلح اسرائیلی فوجیوں نے رام اللہ اور نابلس کے کئی دیہات پر منظم حملے کیے، جن میں فلسطینی گھروں اور گاڑیوں کو نذر آتش کیا گیا اور براہ راست گولیاں چلائی گئیں،رام اللہ کے قریب ایک گاؤں میں ہونے والے حملے کے دوران تین فلسطینی اسرائیلی سکیورٹی فورسز کی فائرنگ سے شہید ہوئے جبکہ کم از کم چھ دیگر افراد کو بھی گولیاں مار کر زخمی کر دیا گیا۔

ثمین الخطیب نے بتایا کہ اقوام متحدہ کے انسانی حقوق دفتر کی ہلاکتوں سے متعلق ٹریکنگ کے مطابق 7 اکتوبر 2023 کے بعد سے اسرائیلی آبادکاروں کے ہاتھوں مغربی کنارے میں کم از کم 14 فلسطینی شہید ہو چکے ہیں، جن میں دو بچے بھی شامل ہیں۔ مزید سات فلسطینی، جن میں ایک بچہ بھی شامل ہے، اسرائیلی فورسز یا آبادکاروں کے ہاتھوں مارے گئے۔

خیال رہےکہ فلسطینی وزارت صحت کے مطابق 7 اکتوبر 2023 سے اب تک اسرائیلی فورسز اور غیر قانونی آبادکاروں کے حملوں میں مغربی کنارے میں کم از کم 986 فلسطینی شہید اور 7,000 سے زائد زخمی ہو چکے ہیں۔

یاد رہے کہ جولائی 2023 میں بین الاقوامی عدالت انصاف (ICJ) نے اپنے ایک تاریخی فیصلے میں اسرائیل کے فلسطینی علاقوں پر قبضے کو غیر قانونی قرار دیتے ہوئے مغربی کنارے اور مشرقی یروشلم میں تمام یہودی بستیوں کے خاتمے اور انخلاء کا مطالبہ کیا تھا۔

اقوام متحدہ نے زور دیا ہے کہ بین الاقوامی قوانین کی سنگین خلاف ورزیوں کو روکنے اور فلسطینی عوام کے تحفظ کو یقینی بنانے کے لیے فوری اقدامات کیے جائیں۔ عالمی برادری سے مطالبہ کیا جا رہا ہے کہ وہ ان حملوں پر خاموش تماشائی بننے کے بجائے موثر اور عملی ردعمل دے۔

.

ذریعہ

ذریعہ: Jasarat News

کلیدی لفظ: آبادکاروں کے اقوام متحدہ رام اللہ

پڑھیں:

ایرانی جزیرے پر امریکی حملے کے بعد ایران کا جوابی وار، بحرین، عراق اور قطر میں سائرن بج گئے

امریکی فوج کی جانب سے ایرانی جزیرے قشم پر کارروائی کے دعوے کے بعد ایران نے خطے میں موجود امریکی مفادات اور فوجی تنصیبات کو نشانہ بنانے کا اعلان کرتے ہوئے جوابی حملوں کا دعویٰ کیا ہے۔

امریکی سینٹرل کمانڈ (سینٹ کام) کے مطابق امریکی افواج نے قشم جزیرے میں موجود ایک ایرانی فوجی تنصیب کو نشانہ بنایا۔

امریکی حکام کا کہنا ہے کہ یہ کارروائی ایران کی جانب سے میزائل اور ڈرون حملوں کے ردعمل میں کی گئی۔

سینٹ کام کے مطابق امریکی اور اتحادی دفاعی نظام نے متعدد ایرانی میزائل اور ڈرون راستے میں ہی تباہ کر دیے۔

امریکی بیان میں یہ دعویٰ بھی کیا گیا کہ ایران کی جانب سے داغے گئے بعض بیلسٹک میزائل اپنے اہداف تک پہنچنے میں ناکام رہے۔

کویت کی جانب فائر کیے گئے دو میزائل راستے میں گر گئے جبکہ بحرین کی طرف بڑھنے والے تین میزائل امریکی اور بحرینی فورسز نے فضا میں ہی تباہ کر دیے۔

اسی دوران امریکی فوج نے ایک ایسے آئل ٹینکر کو بھی ناکارہ بنانے کا دعویٰ کیا ہے جو مبینہ طور پر ایرانی جزیرے خارگ کی جانب رواں تھا۔

امریکی حکام کے مطابق مذکورہ جہاز پر بوٹسوانا کا پرچم لہرا رہا تھا۔

مزید پڑھیں

ایران کے ساتھ مذاکرات جاری ہیں، ڈونلڈ ٹرمپ

امریکا، اسرائیل کو جارحیت کے دوران ایرانی فضائی دفاع نے بھاری نقصان پہنچایا، ایرانی کمانڈر

دوسری طرف ایرانی پاسدارانِ انقلاب نے امریکی کارروائی کا فوری جواب دینے کا اعلان کرتے ہوئے کہا ہے کہ قشم میں کمیونیکیشن انفراسٹرکچر کو نشانہ بنانے کے بعد امریکی فوجی اڈوں پر میزائل اور ڈرون حملے کیے گئے ہیں۔

ایرانی ذرائع ابلاغ کے مطابق جوابی کارروائی میں بحرین میں موجود امریکی ففتھ فلیٹ کے ہیڈکوارٹر، بعض فضائی تنصیبات اور ہیلی کاپٹر مراکز کو ہدف بنایا گیا۔

پاسدارانِ انقلاب کا کہنا ہے کہ امریکی حملوں کا جواب دینا ناگزیر تھا اور خطے میں کسی بھی جارحیت کا بھرپور ردعمل دیا جائے گا۔

عرب میڈیا کے مطابق بحرین، کویت اور عراق میں سیکیورٹی الرٹ جاری کر دیا گیا ہے جبکہ بحرین کے مختلف علاقوں میں خطرے کے سائرن بھی بجائے گئے۔

بحرینی وزارتِ داخلہ نے شہریوں کو احتیاطی تدابیر اختیار کرنے کی ہدایت کی ہے۔

ادھر ایرانی میڈیا نے دعویٰ کیا ہے کہ آبنائے ہرمز کے قریب ایک ایرانی آئل ٹینکر کو نشانہ بنائے جانے کے بعد پاسداران انقلاب نے ایک بحری جہاز پر میزائل حملہ کیا۔

ایرانی حکام کا کہنا ہے کہ آبنائے ہرمز کی سلامتی کو خطرے میں ڈالنے کی قیمت امریکا کو چکانا پڑے گی۔

متعلقہ مضامین

  • ایرانی جزیرے پر امریکی حملے کے بعد ایران کا جوابی وار، بحرین، عراق اور قطر میں سائرن بج گئے
  • مسجد اقصیٰ میں اسرائیلی آبادکاروں کی دراندازی: پاکستان سمیت 8 ممالک کا شدید ردعمل، پورا حرم صرف مسلمانوں کی عبادت گاہ قرار
  • لبنان میں اسرائیلی حملے پر بھارتی وزیراعظم نریندر مودی خاموش کیوں ہیں، جے رام رمیش
  • بنگلہ دیش کے وزیر خارجہ ڈاکٹر خلیل الرحمان اقوام متحدہ کی جنرل اسمبلی کے 81ویں اجلاس کے صدر منتخب
  • بحرین میں اہل تشیع سے امتیازی سلوک
  • جاپان میں جنگلی ریچھ نے حملے کر کے چار افراد کو زخمی کر دیا
  • اتحاد مذاہب کیلئے سعودی فتویٰ، مولانا زاہدالراشدی اور مولانا فضل الرحمان خلیل کی تائید
  • تاریخ میں پہلی بار پاکستان کے دو پروجیکٹ اقوام متحدہ کی سطح پر شارٹ لسٹ
  • پاکستان کی لبنان پر اسرائیلی حملوں کی مذمت
  • چیمپئنز لیگ جیتنے کی خوشی تشدد میں بدل گئی، پیرس میں جلاؤ گھیراؤ اور پولیس سے جھڑپیں