نیویارک:

پاکستان نے کہا ہے کہ اقوام متحدہ کے سیکرٹری جنرل کی رپورٹ جو سلامتی کونسل کی قرارداد 2334 (قابض فلسطینی علاقوں میں اسرائیلی غیر قانونی بستیوں) پر عملدرآمد سے متعلق ہے، غزہ میں تکلیف اور سفاکی کی سطح کو حیران کن اور ناقابل برداشت قرار دیتی ہے۔

اقوام متحدہ کی سلامتی کونسل کے مشرق وسطیٰ بشمول مسئلہ فلسطین پر بریفنگ کے دوران بیان دیتے ہوئے اقوام متحدہ میں پاکستان کے مستقل مندوب، سفیر عاصم افتخار احمد نے سیکرٹری جنرل کے ان الفاظ کا حوالہ دیا، جنہوں نے رپورٹ میں کہا کہ خاندانوں کو بار بار نقل مکانی پر مجبور کیا گیا ہے اور وہ اب غزہ کی زمین کے پانچویں حصے سے بھی کم جگہ پر محصور ہیں، اور یہ سمٹتی ہوئی جگہیں بھی خطرے سے دوچار ہیں۔

سفیر عاصم نے کہا کہ بچے غذائی قلت کے باعث جان سے ہاتھ دھو رہے ہیں، حالانکہ یونیسیف بارہا خبردار کر چکا ہے کہ غذائی قلت انتہائی تشویشناک حد تک بڑھ رہی ہے۔

صرف مئی کے مہینے میں چھ ماہ سے پانچ سال کی عمر کے 5,100 سے زائد بچوں کو شدید غذائی قلت کے علاج کے لیے داخل کیا گیا۔ مارچ میں عارضی جنگ بندی کے خاتمے کے بعد سے اب تک 6,500 سے زائد مزید جانیں ضائع ہو چکی ہیں۔

انہوں نے کہا کہ سیکرٹری جنرل کی رپورٹ میں اسرائیل کے جنگی طریقوں اور ہتھکنڈوں پر بھی سنگین تحفظات کا اظہار کیا گیا ہے اور مظالم اور بین الاقوامی قوانین کی دیگر خلاف ورزیوں پر فوری احتساب پر زور دیا گیا ہے۔

پاکستانی سفیر نے کہا کہ نام نہاد نیا امدادی تقسیم نظام نہ صرف بین الاقوامی انسانی قانون اور انسانی وقار کے منافی ہے بلکہ یہ بھوکے شہریوں کو براہ راست خطرے میں ڈال دیتا ہے، کیونکہ انہیں کھانے اور پانی کی تلاش میں فعال جنگی علاقوں سے گزرنا پڑتا ہے۔

ان کا کہنا تھا کہ اس کا نتیجہ خوفناک ہے کہ 500 سے زائد افراد کو صرف انسانی امداد حاصل کرنے کی کوشش میں قتل کر دیا گیا۔ یہ واقعی ایک موت کا جال ہے، جیسا کہ سیکرٹری جنرل نے درست طور پر کہا۔

انہوں نے کہا کہ تشدد صرف غزہ تک محدود نہیں ہے۔ اسرائیل نے مغربی کنارے بشمول مشرقی یروشلم میں فوجی چھاپوں میں شدت، غیر قانونی بستیوں کی توسیع اور آبادکاروں کے بے لگام تشدد کو فروغ دیا ہے۔

انہوں نے کہا کہ اوچا کے مطابق 7 اکتوبر 2023 سے 19 جون 2025 تک مغربی کنارے میں 949 فلسطینی جن میں کم از کم 200 بچے شامل ہیں، شہید کیے جا چکے ہیں اور 40,000 سے زائد افراد کو زبردستی بے دخل کیا گیا، جو 1967 کے بعد سب سے بڑی جبری بے دخلی ہے۔

سفیر عاصم نے خبردار کیا کہ اگر سلامتی کونسل اپنی ہی قراردادوں پر عملدرآمد یقینی نہ بنائے تو اس کے سنگین نتائج عالمی امن و سلامتی کے لیے پیدا ہوں گے اور خود سلامتی کونسل کی ساکھ اور اختیار کو زک پہنچے گی۔

انہوں نے کہا کہ یہ سال اقوام متحدہ کے چارٹر کا 80 واں سال ہے، جو انصاف، امن اور تمام اقوام کی خودمختاری کے اصولوں پر مبنی ہے۔ مگر غزہ اور مقبوضہ فلسطینی علاقوں میں اس چارٹر کے بنیادی اصولوں کو مکمل بے خوفی کے ساتھ مسلسل پامال کیا جا رہا ہے،

انہوں نے کہا کہ سلامتی کونسل محض تماشائی نہ بنے۔ اصل مسئلے یعنی غیر قانونی اسرائیلی قبضے کا خاتمہ ناگزیر ہے۔

انہوں نے کہا کہ الزام تراشی سے گریز کیا جائے۔ اب وقت ہے کہ مشترکہ عالمی عزم کے تحت مشرق وسطیٰ میں منصفانہ اور پائیدار امن کے لیے سنجیدہ اور ٹھوس اقدامات کیے جائیں۔

سفیر عاصم افتخار نے کہا کہ مسئلہ فلسطین عرب اسرائیل تنازع کا مرکزی نکتہ ہے۔ اس مسئلے کو منصفانہ اور پائیدار طریقے سے حل کرنے کے لیے سلامتی کونسل کو فوری اور دو ٹوک اقدام کرنا ہو گا۔

انہوں نے پاکستان کے مطالبات دہراتے ہوئے کہا کہ اسرائیل غزہ اور مغربی کنارے میں تمام فوجی کارروائیاں فوری طور پر بند کرے۔ مستقل جنگ بندی بلا تاخیر قائم کی جائے۔

انسانی امداد پر عائد تمام پابندیاں مکمل اور غیر مشروط طور پر ختم کی جائیں۔ اقوام متحدہ اور امدادی اداروں کو محفوظ اور بلا رکاوٹ رسائی دی جائے۔

غزہ کی تعمیر نو کے لیے عرب لیگ–او آئی سی منصوبے کی حمایت کی جائے۔ یہ منصوبہ امید بحال کرنے اور پائیدار امن کی بنیاد رکھنے کے لیے کلیدی حیثیت رکھتا ہے۔

سلامتی کونسل کی قرارداد 2334 پر عملدرآمد کے لیے قابل عمل اور وقت مقرر اقدامات کیے جائیں تاکہ دو ریاستی حل کی گنجائش باقی رہ سکے اور زمین پر مزید غیر قانونی تبدیلیاں روکی جا سکیں۔

قابل اعتبار اور ناقابل واپسی سیاسی عمل کا آغاز کیا جائے تاکہ دو ریاستی حل ممکن ہو، جو جون 1967 سے پہلے کی سرحدوں پر مبنی ہو، اور القدس الشریف (یروشلم) کو فلسطینی ریاست کا دارالحکومت تسلیم کیا جائے۔

سفیر عاصم افتخار نے مزید کہا کہ اعلیٰ سطحی بین الاقوامی کانفرنس کے جلد از جلد انعقاد کی حمایت کی جائے تاکہ اس مقصد کو عملی شکل دی جا سکے۔

.

ذریعہ

ذریعہ: Express News

کلیدی لفظ: انہوں نے کہا کہ سلامتی کونسل سیکرٹری جنرل اقوام متحدہ سفیر عاصم کیا گیا کیا جا کے لیے

پڑھیں:

انتقال کی خبریں بے بنیاد،طاہرہ سید نے ویڈیو پیغام جاری کر دیا

نامور غزل اور لوک گلوکارہ طاہرہ سید(Tahira Syed) نے سوشل میڈیا پر اپنی وفات سے متعلق زیر گردش خبروں کو سختی سے مسترد کرتے ہوئے واضح کیا ہے کہ وہ بالکل خیریت سے ہیں اور ان کے بارے میں پھیلائی جانے والی تمام افواہیں بے بنیاد ہیں۔

وائرل ہونے والی غلط خبروں کے ایک روز بعد طاہرہ سید نے فیس بک پر ایک ویڈیو پیغام جاری کیا، جس میں انہوں نے اپنی صحت کے بارے میں مداحوں کو آگاہ کیا۔ انہوں نے کہا کہ انہیں علم ہوا ہے کہ ان کے انتقال سے متعلق جھوٹی خبریں پھیلائی جا رہی ہیں، تاہم وہ نہ صرف صحت مند ہیں بلکہ اس وقت نیویارک میں اپنی معمول کی زندگی گزار رہی ہیں۔

اپنے ویڈیو پیغام میں انہوں نے عوام سے اپیل کی کہ سوشل میڈیا پر غیر مصدقہ اور جھوٹی خبروں کو پھیلانے سے گریز کیا جائے۔ ان کا کہنا تھا کہ ایسی افواہیں نہ صرف ان کے لیے تکلیف دہ ہیں بلکہ ان کے چاہنے والوں میں بھی غیر ضروری پریشانی کا باعث بنتی ہیں۔ انہوں نے مداحوں کی محبت اور دعاؤں کا شکریہ بھی ادا کیا اور کہا کہ لوگوں کی نیک خواہشات ان کے لیے حوصلے کا باعث ہیں۔

 

View this post on Instagram

 

A post shared by Galaxy Lollywood (@galaxylollywood)

مزیدپڑھیں:امتحان میں کامیابی کے باوجود عبدالمجید نوکری سے محروم، عمر کی حد رکاوٹ بن گئی

اس معاملے کے بعد معروف شخصیات نے بھی گلوکارہ کی صحت کی تصدیق کی۔ فیشن ڈیزائنر حسن شہریار یاسین نے سوشل میڈیا پر ان کی تازہ تصویر شیئر کرتے ہوئے واضح کیا کہ وہ مکمل طور پر صحت مند ہیں۔ اسی طرح سینئر اداکارہ بشریٰ انصاری نے بھی طاہرہ سید کا ویڈیو پیغام اپنے سوشل میڈیا اکاؤنٹ پر شیئر کر کے افواہوں کی تردید کی۔

واضح رہے کہ گزشتہ چند دنوں کے دوران سوشل میڈیا پر طاہرہ سید کے انتقال سے متعلق جھوٹی خبریں تیزی سے پھیل گئی تھیں، جس کے باعث ان کے مداحوں میں شدید تشویش پائی گئی۔ تاہم اب ان کی اپنی وضاحت کے بعد یہ معاملہ واضح ہو گیا ہے کہ یہ خبریں مکمل طور پر بے بنیاد تھیں۔

متعلقہ مضامین

  • محبوبہ مفتی کا نئی دلی سے مذاکرات کیلئے متحدہ سیاسی محاذ بنانے پر زور
  • انتقال کی خبریں بے بنیاد،طاہرہ سید نے ویڈیو پیغام جاری کر دیا
  • 99 ووٹ لے کر بنگلہ دیش نے دنیا کو حیران کردیا، اقوام متحدہ جنرل اسمبلی کی صدارت جیت لی
  • دنیا شدید گرمی اور تباہ کن موسم کے لیے تیار ہوجائے، اقوام متحدہ نے بڑی وارننگ جاری کردی 
  • اسحاق ڈار کا کویتی وزیر خارجہ سے رابطہ‘ بیلجیئم میں تعینات پاکستانی سفیر کی ملاقات
  • قابلِ فخر سعد ایدھی
  • بنگلہ دیش کے وزیر خارجہ ڈاکٹر خلیل الرحمان اقوام متحدہ کی جنرل اسمبلی کے 81ویں اجلاس کے صدر منتخب
  • تاریخ میں پہلی بار پاکستان کے دو پروجیکٹ اقوام متحدہ کی سطح پر شارٹ لسٹ
  • پاکستان کی لبنان پر اسرائیلی حملوں کی مذمت
  • ٹک ٹاکر حکیم بابر کیس میں ملزمان کا موقف بھی سامنے آگیا