واشنگٹن(نیوز ڈیسک)امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ نے ٹیسلا، اسپیس ایکس اور سوشل میڈیا پلیٹ فارم ایکس کے مالک ایلون مسک کو امریکا سے ڈی پورٹ کرنے پر غور شروع کر دیا ہے۔

واشنگٹن سے امریکی اخبار کے مطابق ٹرمپ سے صحافی نے سوال کیا کہ ایلون مسک کو ڈی پورٹ کریں گے؟ تو انھوں نے ایلون مسک کو ڈی پورٹ کرنے کے سوال پر جواب میں کہا ہم اسے دیکھیں گے۔

امریکی اخبار کے مطابق دنیا کے امیر ترین شخص ایلون مسک کی پیدائش جنوبی افریقا کی ہے، ایلون مسک ری پبلکن ٹیکس بل کے کھلے عام مخالف ہیں۔

اخبار کے مطابق ری پبلکن ٹیکس بل کی بدولت الیکٹرک گاڑیوں کی خریداری پر کنزیومر کریڈٹ ختم ہو جائے گا، الیکٹرک گاڑیوں کی بڑھتی ہوئی فروخت کی بڑی وجہ کنزیومر کریڈٹ کی دستیابی ہے۔

قانون سازی پر ڈونلڈ ٹرمپ کے ساتھ جھگڑے کے بعد ایلون مسک نے کئی ہفتوں سے اختیار کی ہوئی خاموشی توڑتے ہوئے امریکی سینیٹ میں پیش ہونے والے 5 ٹریلین ڈالرز کے اخراجات کے بل کو’پاگل پن‘ قرار دیا تھا۔

امریکی اخبار کے مطابق ایلون مسک الیکٹرک گاڑیاں بنانے والی بڑی کمپنی ٹیسلا کے مالک ہیں۔
مزیدپڑھیں:پی ٹی آئی کے اسیر رہنماؤں کا پارٹی قیادت کو کھلا خط، حکومت سے مذاکرات کا مشورہ

.

ذریعہ

ذریعہ: Daily Ausaf

کلیدی لفظ: اخبار کے مطابق ایلون مسک کو ڈی پورٹ

پڑھیں:

’سب کچھ تیار ہے‘ ٹرمپ نے ایران پر تاریخ کے سب سے بڑے حملے کا اشارہ دیدیا

امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ نے کہا ہے کہ وہ ایران پر اب تک کے سب سے بڑے فوجی حملے کی منظوری دینے کے قریب ہیں۔

امریکی خبر رساں ادارے سے گفتگو میں صدر ٹرمپ نے کہا کہ میں ایران پر ایک بہت بڑے حملے پر غور کر رہا ہوں جو پہلے ہونے والے تمام حملوں سے کہیں بڑا ہوگا۔

انھوں نے مزید کہا کہ اگرچہ ابھی حتمی فیصلہ نہیں کیا گیا۔ تمام عسکری آپشنز زیر غور ہیں۔ میں فیصلہ کرنے کے بہت قریب ہوں اور اس کی تمام تیاریاں بھی مکمل ہیں۔

امریکی صدر ٹرمپ نے یہ دعویٰ بھی کیا کہ اگر وہ چاہیں تو اسرائیل دو منٹ میں اس کارروائی میں شامل ہو جائے گا تاہم ہمیں کسی کی ضرورت نہیں۔

قبل ازیں ایران کے حمایت یافتہ یمنی حوثیوں کے بحیرہ احمر میں دو سعودی آئل ٹینکروں پر حملے کے بعد امریکی صدر نے ایران اور حوثیوں دونوں کو بڑی فوجی سزا دینے کی دھمکی بھی دی تھی۔

صدر ٹرمپ نے سوشل میڈیا پر لکھا تھا کہ اگر حوثیوں نے دوبارہ ایسے حملے کیے تو امریکا انھیں ایران کی کارروائی تصور کرے گا کیونکہ حوثی اس کے حمایت یافتہ گروہ ہیں۔

دوسری جانب مشرقِ وسطیٰ میں بڑھتی ہوئی کشیدگی کے باعث عالمی منڈی میں برینٹ خام تیل کی قیمت ایک بار پھر 100 ڈالر فی بیرل سے تجاوز کرچکی ہے۔

بحیرہ احمر اور باب المندب میں جہاز رانی کو لاحق خطرات نے عالمی توانائی منڈی میں تشویش بڑھا دی ہے۔

ادھر اقوامِ متحدہ کے سیکریٹری جنرل انتونیو گوتریس نے نے کہا کہ صورتحال قابو سے باہر ہوتی جا رہی ہے۔ خطہ مسلسل وسیع ہوتے تصادم کی لپیٹ میں آ رہا ہے۔ ایک بحران دوسرے بحران کو جنم دے رہا ہے اور ہر نئی کشیدگی اگلی کشیدگی کا سبب بن رہی ہے۔

 

متعلقہ مضامین

  • ٹرمپ انتظامیہ نے 60 تجارتی شراکت داروں پر نئے ٹیرف عائد کر دیئے
  • بحری جہازوں کو ہونے والے نقصان کا ازالہ منجمد ایرانی اثاثوں سے کیا جائے گا، ٹرمپ کا بڑا اعلان
  • ٹرمپ کا نیا ٹیرف پاکستان، بھارت، چین، یورپی یونین سمیت 60 شراکت داروں پر آج سے نافذ
  • حکومت کا بڑا ریلیف، الیکٹرک بائیکس پر سبسڈی اور بلاسود قرض کا اعلان
  • امریکا کے ایران پر مسلسل 13ویں شب بھی حملے، ٹرمپ نے مزید بڑی کارروائی کا عندیہ دے دیا، تہران کا سخت ردعمل
  • امریکا نے ایران پر مسلسل 13 ویں رات بھی فضائی حملے شروع کر دیے، سینٹکام
  • ٹرمپ کو ریلیف مل گیا؛ امریکی سینیٹ نے ایران جنگ ختم کرنے کی قرارداد مسترد کر دی
  • ’سب کچھ تیار ہے‘ ٹرمپ نے ایران پر تاریخ کے سب سے بڑے حملے کا اشارہ دیدیا
  • ایلون مسک نے ’اوڈیسی‘ کا اے آئی ورژن اسی سال پیش کرنے کا اعلان کردیا
  • ٹرمپ نے سعودی عرب سے سول جوہری معاہدے کو معاہدہ ابراہیمی میں شمولیت سے مشروط کردیا