سندھ، 5 ہزار سے زائد اسکاؤٹس محرم کی مجالس و جلوسوں میں خدمات انجام دینگے
اشاعت کی تاریخ: 1st, July 2025 GMT
کراچی میں کراچی اوپن ڈسٹرکٹ کے سیکریٹری آغا طاہر عباس کی سربراہی میں یوم عاشور پر تقریباً تین ہزار سے زائد اسکاؤٹس سرگرم عمل ہونگے۔ اسلام ٹائمز۔ سندھ بوائے اسکاؤٹس ایسوسی ایشن کے 5 ہزار سے زائد اسکاؤٹس اور لیڈرز عشرہ محرم الحرام شہادت امام حسینؑ کے سلسلے میں ہونے والی مجالسِ اور جلوسوں میں خدمات انجام دیں گے۔ سندھ بھر میں اسکاؤٹس کی خدمات کو مانیٹر کرنے کیلئے صوبائی اسکاؤٹ ہیڈ کوارٹر اور ڈویژنل اسکاؤٹ ہیڈکوارٹر خیرپور اور شکارپور میں کنٹرول روم قائم کیے جائیں گے، یہ بات سندھ بوائے اسکاؤٹس ایسوسی ایشن کے صوبائی سیکریٹری سید اختر میر نے ایک اجلاس میں بتائی۔ انہوں نے کہا خیرپور، رانی پور، سکھر، جیکب آباد، کشمور کندھ کوٹ، لاڑکانہ، شکار پور، نو شہرو فیروز، مورو، قمبر شہداد کوٹ، دادو، حیدر آباد، بدین، میر پور خاص سمیت سندھ کے اضلاع میں 2 ہزار، جبکہ کراچی میں 3 ہزار سے زائد اسکاؤٹس، اسکاؤٹ لیڈرز اور گرلز اسکاؤٹس محرم الحرام کے دوران ہونے والی مجالس اور جلوسوں میں خدمات انجام دیں گے۔
جلوسوں میں خدمات انجام دینے والے اسکاؤٹس کو ایمرجنسی ریسپانس، طبی امداد، فائر فائٹنگ، گاڑیوں اور افراد کی تلاشی سمیت بم کی شناخت کرنے کے حوالے سے خصوصی تربیت پاکستان رینجرز سندھ، سندھ پولیس، بم ڈسپوزل اسکواڈ اور ریڈ کریسنٹ کے تعاون سے دی گئی ہے۔ انہوں نے کہا یہ تربیت یافتہ اسکاؤٹس کسی بھی ممکنہ صورتحال میں امن و امان کو بحال کرنے اور لوگوں کی مدد کرنے کے امور سے واقف رہ کر صورتحال کو کنٹرول کرنے میں ضلعی انتظامیہ کی معاونت کریں گے۔ سندھ بھر کے اسکاؤٹس سے رابطے اور انہیں مکمل سہولیات فراہم کرنے کیلئے صوبائی اسکاؤٹ ہیڈ کوارٹرز کراچی میں ڈپٹی سیکرٹری فرقان یوسفی، جبکہ خیرپور میں مشتاق آریجو اور شکارپور ڈویژنل اسکاؤٹ ہیڈکواٹرز میں شوکت بلوچ کی سربراہی میں کنٹرول روم قائم کیے گئے ہیں، جہاں سندھ کے تمام شہروں میں خدمات دینے والے اسکاؤٹس سے رابطہ رکھا جائے گا۔
کراچی میں کراچی اوپن ڈسٹرکٹ کے سیکریٹری آغا طاہر عباس کی سربراہی میں یوم عاشور پر تقریباً تین ہزار سے زائد اسکاؤٹس سرگرم عمل ہوں گے، جو مرکزی جلوسوں اور مجالس میں شرکت کرنے والوں کی جامہ تلاشی، رہنمائی، پارکنگ ایریا میں خدمات انجام دیں گے، جگہ جگہ طبی امدادی کیمپ قائم ہوں گے جہاں غمگساران امام حسینؑ کو طبی امداد دی جائے گی، جبکہ متاثرین کو ایمبولینس کے ذریعہ اسپتال پہنچایا جائے گا۔ نیز مرکزی جلوس کے ہمراہ کنٹینرز میں موبائل اسپتال بھی ہوں گے، جس میں چھوٹے آپریشن کی بھی سہولت میسر ہوگی۔ علاوہ ازیں محرم الحرام کے دوران گرلز اسکاؤٹس اور بوائز اسکاؤٹس کے علاوہ پاکستان کرسچین اسکاؤٹس بھی شانہ بشانہ سرگرم عمل ہوں گے۔
ذریعہ
ذریعہ: Islam Times
کلیدی لفظ: جلوسوں میں خدمات انجام ہزار سے زائد اسکاو ٹس کراچی میں ہوں گے
پڑھیں:
پائیڈ کی کم از کم ماہانہ اجرت 45 ہزار روپے مقرر کرنے کی سفارش
پاکستان انسٹیٹیوٹ آف ڈویلپمنٹ اکنامکس (Pakistan Institute of Development Economics) نے آئندہ مالی سال 2026-27 کے لیے ملک میں کم از کم ماہانہ اجرت 45 ہزار روپے مقرر کرنے کی سفارش کر دی ہے، جسے موجودہ معاشی حالات اور بڑھتی ہوئی مہنگائی کے تناظر میں ایک اہم پالیسی تجویز قرار دیا جا رہا ہے۔
پائیڈ کی جانب سے جاری کردہ شواہد پر مبنی فریم ورک کے مطابق کم از کم اجرت میں اضافہ صرف ایک انتظامی فیصلہ نہیں بلکہ ایک وسیع معاشی اور سماجی ضرورت ہے، جو گھریلو سطح پر قوتِ خرید، غربت میں کمی، غیر رسمی روزگار کے رجحانات اور مجموعی معاشی استحکام پر براہ راست اثر انداز ہوتی ہے۔
رپورٹ میں کہا گیا ہے کہ اگر مالی سال 2026-27 کے لیے کم از کم اجرت 45 ہزار روپے ماہانہ مقرر کی جاتی ہے تو یہ موجودہ 40 ہزار روپے کی سطح کے مقابلے میں 12.5 فیصد اضافہ ہوگا۔ اس اضافے کو محنت کش طبقے کی مالی مشکلات میں کمی اور ان کی معاشی استعداد بہتر بنانے کی ایک کوشش کے طور پر دیکھا جا رہا ہے۔
پائیڈ کی رپورٹ میں مزید بتایا گیا ہے کہ کم از کم اجرت کی پالیسی کو محض لیبر ڈپارٹمنٹ تک محدود نہیں رکھا جا سکتا، کیونکہ اس کا تعلق براہ راست عام شہریوں کی روزمرہ زندگی، مہنگائی کے دباؤ اور مقامی مارکیٹ کی طلب سے جڑا ہوا ہے۔ رپورٹ کے مطابق اجرت میں مناسب اضافہ نہ صرف مزدور طبقے کے معیارِ زندگی کو بہتر بنا سکتا ہے بلکہ پیداواری عمل میں بھی مثبت اثر ڈال سکتا ہے۔
مزیدپڑھیں:حکومت کا ریئل اسٹیٹ پیکیج تیار، فروخت پر ٹیکس 4.5 فیصد سے 1.5 فیصد تک لانے کی تجویز
اعداد و شمار کے مطابق مالی سال 2026 کے جولائی سے اپریل تک اوسط مہنگائی کی شرح تقریباً 6.19 فیصد رہی، تاہم اپریل 2026 میں سالانہ بنیاد پر مہنگائی بڑھ کر 10.9 فیصد تک پہنچ گئی، جس نے عام شہریوں کی قوتِ خرید کو مزید متاثر کیا۔
موجودہ معاشی صورتحال میں اجرتوں میں اضافہ ایک متوازن پالیسی کے طور پر دیکھا جا رہا ہے، تاہم اس کے ساتھ ساتھ کاروباری لاگت اور روزگار کے مواقع پر بھی اس کے ممکنہ اثرات کا جائزہ لینا ضروری ہوگا۔
پائیڈ کی سفارش کے بعد اب یہ معاملہ حکومتی سطح پر غور کے لیے پیش کیا جائے گا، جہاں حتمی فیصلہ بجٹ پالیسی کا حصہ بنایا جا سکتا ہے۔