منعم ظفر خان کا وزیر اعظم کو خط‘K4کے لیے 40ارب روپے مختص کرنے کا مطالبہ
اشاعت کی تاریخ: 2nd, July 2025 GMT
data-id="863a0a8" data-element_type="widget" data-widget_type="theme-post-content.default">
کراچی(اسٹاف رپورٹر)امیر جماعت اسلامی کراچی منعم ظفر خان نے شہر میں پانی کے سنگین بحران اور K4منصوبے کے حوالے سے وزیر اعظم شہباز شریف کو خط ارسال کیا ہے اور مطالبہ کیا ہے کہK4منصوبے کے لیے وفاقی بجٹ میں رکھی گئی رقم میں فوری طور پر اضافہ اور مطلوبہ 40ارب روپے مختص کیے جائیں، کراچی جو ملک کا سب سے زیادہ ٹیکس دینے والا شہر ہے، وفاقی بجٹ اور ترقیاتی پروگرام میں اس کا جائز حصہ دیا جائے، وفاقی بجٹ میں K4جیسے اہم ترین منصوبے کے لیے فقط 3ارب 20کروڑ روپے رکھے گئے ہیں جبکہ ضرورت کم از کم 40ارب روپے کی ہے‘ جس کا واضح مطلب یہی ہے کہ منصوبہ ختم کر دیا جائے جو ساڑھے 3 کروڑ آبادی والے شہر کے ساتھ زیادتی ہے۔منعم ظفر خان نے اپنے خط میں وزیر اعظم شہباز شریف کو مخاطب کرتے ہوئے کہا کہ آپ جانتے ہیں کہ کراچی پاکستان کی اقتصادی شہ رگ ہے، منعم ظفر خان نے شہباز شریف کو ان کی 30اگست 2021ء کے دورہ کراچی کے دوران بانی ِ پاکستان قائد اعظم محمد علی جناح کے مزار پر حاضری کے موقع پر کیا گیا وعدہ اورا علان یاد دلایا جس میں شہباز شریف نے کہا تھا کہ ان کو’’اگر موقع ملا تو وہ کراچی کوپیرس‘‘ بنا دیں گے۔ منعم ظفر خان نے کہا کہ قسمت نے آپ کو یہ موقع فراہم کر دیا اور آپ ملک کے وزیر اعظم بن گئے، سردست آپ کی توجہ کراچی میں جاری پانی کے سنگین بحران اورK4منصوبے کی طرف مبذول کرانا ہے،ساڑھے 3 کروڑ آبادی والے شہر کو روزانہ کم از کم 1200ملین گیلن پانی در کار ہے مگر شہر کو صرف اس کی ضرورت کا نصف یعنی کم و بیش 650ملین گیلن پانی ملتا ہے، شہر کو پانی کی فراہمی کا آخری منصوبہ K3سابق سٹی ناظم سٹی ڈسٹرکٹ گورنمنٹ کراچی‘ نعمت اللہ خان ایڈووکیٹ کے دور میں مکمل ہوا تھا، اسی دور (2003) میں K4منصوبے کاPC-IIبھی منظور کر لیا گیا تھا۔K4منصوبہ کافی عرصہ تعطل کا شکار رہا مگر گزشتہ 2 سال اس منصوبے میں تیزی دیکھنے میں آئی اور اْمید ہو چلی تھی کہ آئندہ سال یعنی 2026ء کے وسط تک روزانہ 260ملین گیلن پانی کی فراہمی کے اس منصوبے کا فیز 1مکمل ہو جائے گا‘ جو پہلے ہی 650ملین گیلن سے کم کر دیا گیا ہے مگر شومئی قسمت وفاقی بجٹ میں مطلوبہ 40ارب روپے مختص کرنے کے بجائے صرف 3.
ذریعہ
ذریعہ: Jasarat News
کلیدی لفظ: شہباز شریف 40ارب روپے وفاقی بجٹ
پڑھیں:
لاہور ہائی کورٹ کا اہم فیصلہ: ہا ئوسنگ سوسائٹیوں کے پارک، اسکول اور مسجد کی زمین فروخت نہیں کی جا سکتی
لاہور ہائی کورٹ کا اہم فیصلہ: ہا ئوسنگ سوسائٹیوں کے پارک، اسکول اور مسجد کی زمین فروخت نہیں کی جا سکتی WhatsAppFacebookX 0 23 July, 2026 سب نیوز
لاہور(آئی پی ایس )لاہور ہائی کورٹ نے ایک اہم فیصلے میں واضح کیا ہے کہ ہاسنگ سوسائٹیوں میں اسکول، پارک، مسجد، ہسپتال اور دیگر عوامی سہولیات (Amenity Sites) کے لیے مختص زمین عوام کی امانت ہے۔ اگرچہ ایسی زمین کا قانونی ٹائٹل بعض حالات میں لاہور ڈویلپمنٹ اتھارٹی (LDA) کے پاس منتقل ہو سکتا ہے، لیکن LDA اسے اپنی ملکیت سمجھ کر کمرشل مقاصد کے لیے فروخت یا نیلام نہیں کر سکتی۔
مقدمہ AGRICS Cooperative Housing Society اور LDA کے درمیان تھا۔ سوسائٹی نے مقف اختیار کیا کہ وہ Cooperative Societies Act, 1925 کے تحت قائم ہوئی ہے، اس لیے LDA کے بعض قوانین اس پر لاگو نہیں ہوتے، جبکہ LDA کا مقف تھا کہ عوامی سہولیات کے لیے مختص زمین اس کے نام منتقل کیے بغیر اسکول کا بلڈنگ پلان منظور نہیں کیا جا سکتا۔
لاہور ہائی کورٹ نے قرار دیا کہ Cooperative Societies Act سوسائٹی کے اندرونی معاملات سے متعلق ہے، جبکہ LDA Act لاہور میں شہری منصوبہ بندی (Urban Planning) اور ہاسنگ اسکیموں کو منظم کرنے والا خصوصی قانون ہے، اس لیے پلاننگ اور ترقیاتی معاملات میں LDA کے قوانین پر عمل کرنا تمام ہاسنگ سوسائٹیوں کے لیے لازم ہے۔
عدالت نے یہ بھی قرار دیا کہ 1990 کی Mortgage Deed اور سوسائٹی کے اپنے سابقہ ریکارڈ سے ثابت ہوتا ہے کہ متعلقہ عوامی سہولیات کی زمین LDA کے نام منتقل ہو چکی تھی، لہذا سوسائٹی کئی دہائیوں بعد اس مقف سے انکار نہیں کر سکتی۔
فیصلے کا سب سے اہم حصہ Doctrine of Public Trust (پبلک ٹرسٹ ڈاکٹرائن) سے متعلق ہے۔ عدالت نے واضح کیا کہ اگرچہ زمین کا قانونی ٹائٹل LDA کے پاس ہے، لیکن وہ اس کا مطلق مالک نہیں بلکہ صرف Trustee (امین) ہے۔ اس لیے اسکول، پارک، مسجد یا دیگر عوامی سہولیات کے لیے مختص زمین کو کسی اور مقصد، خصوصا تجارتی استعمال یا فروخت کے لیے استعمال نہیں کیا جا سکتا۔ ایسی زمین صرف اسی مقصد کے لیے استعمال ہوگی جس کے لیے اسے مختص کیا گیا تھا۔
عدالت نے یہ بھی نوٹ کیا کہ 30 سال سے زائد عرصہ گزرنے کے باوجود اسکول کے لیے مختص پلاٹ پر اسکول تعمیر نہیں کیا گیا، جس سے علاقے کے رہائشیوں کے بنیادی حقوق متاثر ہوئے۔ اسی بنیاد پر لاہور ہائی کورٹ نے LDA کو تین ماہ کے اندر قانونی طریقہ کار کے مطابق اس پلاٹ کو ایسے ادارے یا فریق کے حوالے کرنے کا حکم دیا جو وہاں اسکول تعمیر کرے، اور مقررہ مدت میں تعمیر نہ ہونے کی صورت میں متعلقہ قانونی کارروائی عمل میں لائی جائے۔
یہ فیصلہ ہاسنگ سوسائٹیوں کے رہائشیوں کے لیے ایک اہم نظیر ہے، جو اس اصول کو مضبوط کرتا ہے کہ عوامی سہولیات کے لیے مختص زمین کسی بھی سرکاری یا نجی ادارے کی تجارتی ملکیت نہیں بلکہ عوام کی امانت ہے، اور اسے صرف عوامی مفاد کے اسی مقصد کے لیے استعمال کیا جا سکتا ہے جس کے لیے وہ مختص کی گئی ہو۔
روزانہ مستند اور خصوصی خبریں حاصل کرنے کے لیے ڈیلی سب نیوز "آفیشل واٹس ایپ چینل" کو فالو کریں۔
WhatsAppFacebookX پچھلی خبروزیراعظم سے چینی کمپنی کے وفد کی ملاقات، غذائی تحفظ کے منصوبوں پر تبادلہ خیال اگلی خبرمقبوضہ کشمیر میں 1989 سے اب تک 96 ہزار 499 شہادتیں، ایک لاکھ 84 ہزار سے زائد گرفتاریاں: رپورٹ پاکستان میں اسمارٹ فون کا استعمال 62 سے بڑھ کر 72 فیصد تک پہنچ گیا، وزیراعظم کو بریفنگ پاکستان کو درپیش خطرات کا باعث بننے والے دہشتگردوں اور ان کے سہولتکاروں کا ہر قیمت پر خاتمہ کیا جائے گا، فیلڈ مارشل سید... صدر ٹرمپ کی پالیسی آنکھ کے بدلے سرکی ہے، ایران کو ہر گزرتی رات کیساتھ بھاری قیمت چکانا ہوگی: مارکو روبیو کا انتباہ ٹرمپ نے سعودی عرب سے سول جوہری معاہدے کو معاہدہ ابراہیمی میں شمولیت سے مشروط کردیا آزاد کشمیر کے شہر میرپور میں 45 روز بعد موبائل فون اور انٹرنیٹ سروس بحال ہونا شروع امریکا کی جانب سے ایران پر بمباری کیلئے برطانوی ائیربیس کا استعمال، پاسداران انقلاب کی برطانیہ کو سخت ردعمل کی دھمکیCopyright © 2026, All Rights Reserved
رابطہ کریں ہماری ٹیم