ہم کسی سے مذاکرات کی کوئی درخواست نہیں کریں گے، سلمان اکرم راجہ
اشاعت کی تاریخ: 2nd, July 2025 GMT
ہم کسی سے مذاکرات کی کوئی درخواست نہیں کریں گے، سلمان اکرم راجہ WhatsAppFacebookTwitter 0 2 July, 2025 سب نیوز
اسلام آباد (آئی پی ایس )پی ٹی آئی رہنما سلمان اکرم راجا نے کہا ہے کہ ہم کسی سے مذاکرات کی کوئی درخواست نہیں کریں گے، آج نیوز کے پروگرام نیوزانسائیٹ ود عامر ضیا میں گفتگو کرتے ہیں ان کا کہنا تھا کہ اسٹیبلشمنٹ سے بات چیت کے لیے ہم کچھ نہیں کریں گے، یہ کام ان کو کرنا ہے۔
پاکستان تحریک انصاف کے سیکریٹری جنرل سلمان اکرم راجا نے کہا ہے کہ پارٹی کی جانب سے کسی سے مذاکرات کی کوئی درخواست نہیں کی جائے گی۔پاکستان تحریک انصاف کے سیکریٹری جنرل کا کہنا تھا کہ اسٹیبلشمنٹ سے بات چیت کے لیے بھی پی ٹی آئی کوئی قدم نہیں اٹھائے گی۔ یہ ذمہ داری ان کی ہے، ہماری نہیں۔
سلمان اکرم راجا نے واضح کیا کہ ہم اسیر رہنماں کی جانب سے بھی مذاکرات کے لیے کوئی پیغام یا دبا نہیں محسوس کر رہے، اور نہ ہی فی الحال اسمبلیوں سے باہر نکلنے کا کوئی ارادہ رکھتے ہیں۔ ان کا مزید کہنا تھا کہ پی ٹی آئی کے مستقبل کے حوالے سے کوئی بھی حتمی فیصلہ پارٹی کے بانی عمران خان ہی کریں گے۔
روزانہ مستند اور خصوصی خبریں حاصل کرنے کے لیے ڈیلی سب نیوز "آفیشل واٹس ایپ چینل" کو فالو کریں۔
WhatsAppFacebookTwitter پچھلی خبرایشیا کپ میں پاک بھارت ٹاکرا کتنی بار ہوسکتا ہے؟ ممکنہ تاریخیں سامنے آگئیں ایشیا کپ میں پاک بھارت ٹاکرا کتنی بار ہوسکتا ہے؟ ممکنہ تاریخیں سامنے آگئیں ایک یا دو اشخاص اپنی تنخواہ اور الانسز خود بڑھالیں اور ذمہ داری حکومت پر ڈال دیں، خواجہ آصف اے ایف سی ویمن ایشین کپ کوالیفائر میں پاکستان کی تاریخی کامیابی، انڈونیشیا کو ہرادیا جنوبی افریقہ کی فضائیہ کے سربراہ کا ایئر ہیڈ کوارٹرز کا دورہ،سربراہ پاک فضائیہ سے ملاقات غزہ جنگ بندی معاہدے کیلئے ٹرمپ کی تجاویز کا جائزہ لے رہے ہیں: حماس اگر کسی نے ریاست پر حملہ آور ہونے کی جرات کی تو جواب پہلے سے بھی سخت ہوگا، طلال چوہدریCopyright © 2025, All Rights Reserved
رابطہ کریں ہمارے بارے ہماری ٹیم.
ذریعہ
ذریعہ: Daily Sub News
کلیدی لفظ: کسی سے مذاکرات کی کوئی درخواست نہیں نہیں کریں گے سلمان اکرم
پڑھیں:
جارحیت کے باوجود مذاکرات کا دروازہ اب بھی کھلا ہے، ایران نے امریکا کو بڑا پیغام دے دیا
تہران: ایران کے ایک سینئر سفارتی عہدیدار نے کہا ہے کہ موجودہ کشیدگی کے باوجود تہران نے سفارت کاری کا دروازہ بند نہیں کیا اور مختلف علاقائی ثالثوں کے ذریعے امریکا کے ساتھ پیغامات کا تبادلہ اب بھی جاری ہے۔
غیر ملکی میڈیا سے گفتگو کرتے ہوئے ایرانی عہدیدار نے الزام عائد کیا کہ امریکا ایران کے اہم بنیادی ڈھانچے کو نشانہ بنا کر بین الاقوامی قوانین کی خلاف ورزی کر رہا ہے۔ شہری تنصیبات پر حملے جنگی جرائم کے زمرے میں آ سکتے ہیں اور یہ اقدامات امریکا کی بے بسی کو ظاہر کرتے ہیں۔
سینئر ایرانی سفارتی ذریعے نے کہا کہ ایران نے ہمیشہ مذاکرات اور سفارتی حل کے لیے مثبت رویہ اختیار کیا تاہم امریکا کی دھمکی آمیز پالیسی، جارحانہ اقدامات اور مسلسل فوجی کارروائیوں نے مذاکراتی ماحول کو شدید نقصان پہنچایا ہے۔
ان کا کہنا تھا کہ ایران اب بھی اختلافات کے حل کے لیے سفارتی راستے کو اہم سمجھتا ہے، لیکن ساتھ ہی اپنی قومی سلامتی اور مفادات کے تحفظ کے لیے تمام ممکنہ آپشنز بھی زیر غور رکھے ہوئے ہے۔
ایرانی عہدیدار نے مزید دعویٰ کیا کہ موجودہ بحران کی بنیادی وجہ 17 جون کو ہونے والی مفاہمتی یادداشت سے امریکا کی مبینہ دستبرداری ہے۔ ان کے مطابق واشنگٹن نے اپنے وعدوں پر عمل نہیں کیا، جس کے باعث خطے میں کشیدگی دوبارہ شدت اختیار کر گئی۔
ایرانی حکام کے مطابق اگر امریکا اپنی پالیسی میں تبدیلی لاتا ہے اور معاہدے کی شرائط کا احترام کرتا ہے تو سفارتی پیش رفت کی گنجائش موجود ہے، تاہم موجودہ حالات میں تہران اپنی دفاعی اور سیاسی حکمت عملی پر عمل جاری رکھے گا۔
تاحال امریکی حکومت کی جانب سے ایرانی عہدیدار کے ان تازہ الزامات پر کوئی باضابطہ ردعمل سامنے نہیں آیا۔