جنت نظیر وادی سوات یا وادی اجل
اشاعت کی تاریخ: 3rd, July 2025 GMT
قدرتی حسن سے مالا مال جنت نظیر وادی سوات حکمرانوں کی نااہلی کی وجہ سے وادی اجل بن چکی ہے کیونکہ ہر سال آنے والا سیلاب، سیر و تفریح کے لیے آنے والے درجنوں سیاحوں کی زندگیاں نگل کر ریاست کے منہ پر کالک مل کر شہداء کے پسماندگان سمیت پوری قوم کو غم زدہ چھوڑ جاتے ہیں۔
گزشتہ سالوں کی طرح ہفتہ کی صبح بھی سوات کی جنت نظیر خوبصورت وادی میں سیلابی ریلے کی بے رحم موجیں 16 انسانوں کی زندگیوں کو نگل گئیں۔ اس سانحہ نے پوری قوم کو جھنجھوڑ کر رکھ دیا۔ مرنے والوں کا تعلق مردان اور ڈسکہ سے تھا۔ ڈسکہ سے تعلق رکھنے والی فیملی کے دس افراد کو سیلابی ریلا اپنے ساتھ بہا کر لے گیا۔ بدقسمت فیملی جمعہ کی رات سیر و تفریح کی غرض سے ناران جا رہی تھی لیکن دوران سفر ارادہ تبدیل ہوگیا وہ ناران جانے کے بجائے سوات چلی گئی۔
صبح سویرے سوات پہنچے تو ناشتے کے لیے دریائے سوات کے کنارے ایک ہوٹل پر رکے، جہاں کچھ لوگ تصاویر بنانے کے لیے بچوں کے ساتھ دریا میں اتر گئے اور کچھ ہوٹل میں ہی بیٹھ گئے، اس وقت دریا میں معمول کے مطابق مناسب پانی تھا، سیاح دریا سوات کے حسن بیمثال سے لطف اندوز ہورہے تھے اور یہ دلکش مناظر موبائل فونز میں محفوظ کررہے تھے مگر موت بڑی تیزی کے ساتھ ان کی جانب بڑھ رہی ہے کیونکہ ایک رات قبل وادیٔ سوات اور اوپر کے علاقوں میں تیز بارش ہوئی تھی بارش کا پانی ایک بڑے سیلابی ریلے کی صورت میں سوات میں اس مقام پر اچانک پہنچ گیا جہاں ڈسکہ اور مردان سے آئے ہوئے سیاح دریا کے اندر کھڑے تصاویر بنا رہے تھے۔
اچانک سیلابی پانی نے انھیں گھیر لیا، سیلاب کے تند و تیز پانی نے کسی کو کنارے تک پہنچنے کا موقع ہی نہیں دیا اور سب دریا میں موجود ایک ٹیلے پر کھڑے ہو کر مدد مانگتے اور زندگی کی دہائیاں دیتے رہے۔ جولوگ ہوٹل میں رک گئے تھے وہ کنارے پر چیختے چلاتے مدد کے لیے پکارتے رہے، مقامی لوگ انتظامیہ اور ریسکیو ٹیموں کو کالیں کرتے رہے مگر ڈیڑھ گھنٹے تک کوئی ان کی مدد کو نہ پہنچا۔ ریاستی مشینری نظر آئی، کوئی ریسکیو ٹیم پہنچی اور نہ ہی کوئی ضلعی افسر۔ وہ ڈیڑھ گھنٹے تک زندگی اور موت کی کشمکش میں رہے۔
اس دوران سوات کا ایک بہادر نوجوان ہلال خان سیلابی ریلے میں پھنسے لوگوں کے لیے امید کی ایک کرن بن کر سامنے آیا۔ ہلال خان سرکاری اہلکار ہے نہ ہی کسی این جی او کا ملازم۔ وہ ایک عام مگر درد دل رکھنے والا غیر معمولی اور بڑا انسان ہے، جو ہر سال بلا معاوضہ صرف اللہ کی رضا کی خاطر دریا میں ڈوبنے والے درجنوں افراد کو موت کے منہ سے نکالتے اور سیلابی ریلوں میں بہہ جانے والے لوگوں کی لاشیں تلاش کر کے ان کے لواحقین کے حوالے کرتا ہے، جب 2022ء کے سیلاب میں سوات مکمل تباہ ہو گیا تھا، ہر طرف قیامت اور نفسا نفسی کا سماں تھا، اس وقت بھی ہلال خان اپنی جان کی پرواہ کیے بغیر کمزور سی جھونپڑی جیسے تیرنے والے جھولے میں لوگوں کی جانیں بچانے نکلا۔ چاروں طرف نفسانفسی کا عالم تھا مگر ہلال پانی میں پھنسے مصیبت زدہ انسانوں کی طرف امید کی کرن بن کر بڑھ رہا تھا۔
اپنی مدد آپ اور ذاتی خرچ پربنائے گئے ضروری آلات کو لے کر اور اپنی جان کو خطرے میں ڈال کر کئی جانیں بچائیں۔ مگر ریاستی ردعمل اس وقت بھی شرمناک تھا اور آج بھی۔ یہی وجہ ہے کہ جب بھی دریا کسی کو نگل لیتا ہے، لوگ پولیس یا انتظامیہ سے پہلے ہلال خان کو یاد کرتے ہیں۔ کیونکہ وہ جانتے ہیں کہ ہلال خان کام نہیں فرض نبھاتا ہے۔ اس بار بھی سب سے پہلے ہلال خان اپنی تیار کی ہوئی کشتی لے کر تند و تیز سیلابی ریلے میں اترا۔ یہ کام اگر ناممکن نہیں تو مشکل ضرور تھا لیکن ہلال خان نے اس لیے جان کی بازی لگا دی کہ "جس نے کسی ایک انسان کی جان بچائی گویا اس نے تمام انسانیت کی جان بچائی"۔ ہلال خان بے رحم موجوں پر اپنی کشتی کے ساتھ موجود تھااس کی کشتی ہچکولے کھاتی ہوئی اس ٹیلے تک پہنچ گئی جہاں ڈسکہ کی فیملی کے تیرہ لوگ پھنسے ہوئے تھے۔ جونہی اس نے اپنی کشتی ٹیلے کے قریب کی کچھ لوگوں نے اسے تھامنے کی کوشش کی۔ ان تیرہ لوگوں میں سے صرف تین کی جان بچائی جاسکی باقی ایک ایک کرکے سیلابی ریلے میں بہہ گئے۔ تین جانیں بچانے پر ہلال خان کو ستارہ جرات اور سوات میں ریسکیو ٹیم کا تاحیات انچارج بنانا چاہیے۔
حیرت ہے کہ دو درجن کے لگ بھگ سیاح دریا میں ایک ٹیلے پر کئی گھنٹے ریاستی اداروں کی مدد کے منتظر رہے مگرضلعی انتظامیہ اور ریسکیو 1122 کا عملہ ان کی مدد کو نہیں پہنچ سکا۔ اور کافی وقت گزرنے کے بعد جو لوگ آئے تو ان کے پاس پھنسے ہوئے لوگوں کو نکالنے کے لیے کوئی سامان موجود نہیں تھا۔ وہ سامان لانے کا کہہ کر گئے اور سیلاب کا بے رحم پانی 16 انسانوں کی زندگیاں نگلنے تک واپس نہیں آئے۔ موقع پر موجود لوگوں کو بتایا گیا کہ وزیراعلیٰ خیبرپختونخوا علی امین گنڈا پور کا ہیلی کاپٹر پھنسے ہوئے لوگوں کو ریسکیو کرنے آرہا ہے۔
اب کون انھیں سمجھاتا کہ یہ عمران خان کی فیملی نہیں جسے بچانے کے لیے فوری ہیلی کاپٹر آجاتے، یہ بیچارے عام لوگ ہیں جن کی زندگیاں ان بے رحم حکمرانوں کے نزدیک کیڑے مکوڑوں سے زیادہ اہمیت نہیں رکھتی تو پھر انھیں بچانے کے لیے اسلام آباد میں بانی پی ٹی آئی سے ملنے کا رونا رونے والے وزیراعلیٰ اپنا ہیلی کاپٹر کیوں بھیجتے؟ ان سے ایک صحافی نے سوال کیا کہ" آپ کے صوبے میں لوگ سیلابی ریلے میں بہہ رہے ہیں ان کے لیے آپ نے کیا اقدامات کیے ہیں تو گنڈاپور نے جواب دیا کہ وہاں انتظامیہ موجود ہے میں نے جا کر انھیں تمبو تھوڑا دینے ہیں"۔ ایسے بے حس حکمرانوں سے کیا توقع کی جا سکتی ہے۔
اگر سیلابی ریلے میں پھنسے ہوئے ان بدقسمتوں کو بروقت مدد پہنچ جاتی تو ان کی جانیں بچ سکتی تھیں اس کا مطلب ہے سیلاب نہیں حکمرانوں کی بے حسی، غفلت اور بد انتظامی ان 16 زندگیوں کو نگل گئی۔ کیوں کہ نیشنل ڈیزاسٹر مینجمنٹ اتھارٹی (NDMA) کی وارننگ کے باوجود ضلعی حکومت نے کوئی حفاظتی اقدامات کیے اور نہ ہی سیاحوں کو بروقت خبردار کیا گیا۔ کیا سیاحت کے فروغ کا مطلب یہ ہے کہ سیاح کو غیر محفوظ راستوں پر بغیر کسی حکومتی رہنمائی کے چھوڑ دیا جائے؟ یہ خیبرپختونخوا میں اس نوعیت کا پہلا حادثہ نہیں، ایسے حادثات ہر سال درجنوں سیاحوں اور مقامی لوگوں کی جانیں نگلتے ہیں۔
2022ء میں سیلاب نے وادی سوات میں تباہی مچا کر رکھ دی تھی، اسی دوران سیلاب میں ہونے والے حادثات کی ویڈیوز اور تصاویر آج بھی عوام کے دلوں کو دہلا رہی ہیں۔ جب 25 اگست کو خیبرپختونخوا میں سیلاب میں مدد کے منتظر افراد کے ڈوبنے سے لوگ آبدیدہ ہوگئے اور سوشل میڈیا صارفین نے کے پی حکومت کوآڑے ہاتھوں لیا۔
سوشل میڈیا پر وائرل ہونے والی ایک مختصر ویڈیو میں خیبرپختونخوا کے علاقے کوہستان میں تیز سیلاب میں پانچ افراد کو ایک پتھر پر مدد کے لیے منتظر دیکھا جا سکتا ہے۔ سوال یہ ہے پچھلے بارہ سال سے خیبرپختونخوا میں پی ٹی آئی کی حکومت ہے اس نے صوبے میں تباہی و بربادی اور کرپشن کی نت نئی کہانیاں چھوڑنے کے علاوہ کیا کیا؟ پورے صوبے میں ہنگامی صورتحال کا مقابلہ کرنے کے لیے ریسکیو کا نظام تک موجود نہیں اور وزیراعلیٰ ہاؤس کی شاہ خرچیوں کے چرچے ہیں۔ اتنی بڑی غفلت پر دو چار افسروں کو معطل کرنے کے بجائے وزیر اعلیٰ پختونخوا سمیت پورے حکومتی ذمے داران کو مستعفی ہو کر گھر چلے جانا چاہیے کیونکہ نااہل لوگوں کو حکمرانی کا کوئی حق نہیں۔
پانی زندگی ہے اور ہمارے نبی رحمت العالمین حضرت محمد مجتبیٰ ﷺ نے وضو کے دوران بھی پانی کے ضیاع اور اصراف سے منع کیا ہے۔ آج پوری دنیا میں انسانیت کو پانی کی قلت کا سامنا ہے اور ہر ملک، ریاست اور قوم پانی کا ایک ایک قطرہ محفوظ کرنے کے لیے جدید ترین ٹیکنالوجی کا استعمال کر رہے ہیں، گھر گھر میں "واٹر ریزرویشن بورز" جیسے طریقوں سے بارش کے پانی کو واپس زمین کے سینے میں اتار کر زمین میں پانی کی سطح کو بلند کرنے کی کوشش کررہے ہیں مگر کلمہ طیبہ کے نام پر بنے پاکستان میں ہر سال کروڑوں نہیں اربوں لیٹر بارش کا پانی نہ صرف ضایع ہو کر سمندر برد ہورہا ہے بلکہ سیکڑوں انسانوں، ہزاروں مال مویشیوں کو نگل کر اربوں روپے کی فصلوں اور پراپرٹیز کو بہا کر لے جاتا ہے زندگی کی علامت "پانی" موت بانٹتے بانٹتے سمندر میں غرق ہوجاتا ہے۔
حکومت وقت اگر پانی کا ضیایع نہیں روک سکتی تو کم از کم انسانی زندگیوں کو محفوظ بنانے کو تو یقینی بنائے اور اگر نہیں تو پھر ہر اس طرح کے موت کی ایف آئی آر ان نااہل حکمرانوں کے خلاف درج ہونا چاہیے۔ آخر میں متاثرہ خاندانوں سے دلی ہمدردی کا اظہار کرتاہوں۔ اور بحیثیت قوم ہمیں یہ عزم بھی کرنا ہوگا کہ اس طرح کے حادثات پر صرف افسوس نہ کریں بلکہ اس نظام کو جھنجھوڑ کر جگائیں یا جڑ سے اکھاڑ پھینکیں، جو وقت پر شتر مرغ کی طرح آنکھیں بند کرکے ریت میں سر دبا لیتا ہے۔
.
ذریعہ
ذریعہ: Express News
کلیدی لفظ: سیلابی ریلے میں پھنسے ہوئے سیلاب میں دریا میں لوگوں کو ہلال خان کے لیے ا نے والے کی جان مدد کے کو نگل ہر سال
پڑھیں:
جنگ امن اور معیشت کی کہانی
پاکستان کو اگر ترقی کے تناظر میں آگے بڑھنا ہے تواسے معاشی ترقی کو بنیاد بنانا ہوگا۔سیاست بھی عام آدمی یا محروم طبقات کے مفادات یا ان کو معاشی طور پر مستحکم کرنے سے جڑی ہونی چاہیے۔یہ عمل اس وقت تک ممکن نہیں جب تک اول ہم داخلی ،علاقائی اور خارجی محاذ پر موجود تنازعات سے باہر نہیں نکلیں گے۔
دوئم ہمیں اپنے داخلی نظام میں شفافیت، جوابدہی،احتساب ،درست ترجیحات کا تعین ،وسائل کی منصفانہ تقسیم اور ادارہ جاتی عمل کو مضبوط کرنے اور ان کو آئین اور قانون کی حکمرانی کے تابع کرنے سے جوڑنا ہوگا۔امن ہماری بنیادی ضرورت ہے اور اہم بات یہ ہے کہ اس نظام میں وہ لوگ جو مختلف سیاسی ،سماجی اور معاشی یا قانونی انصاف کی محرومی کا شکار ہیں ان کونظرانداز کرکے ہم معاشی ترقی کے اہداف حاصل نہیں کرسکیں گے۔ لوگوںکے ذہن میں موجود سیاسی اور معاشی نظام نے اس کے مسائل کو اور زیادہ گھمبیر بنادیا ہے۔
علاقائی سیاست میں جو نئی تبدیلیاں رونما ہورہی ہیں ہمیں اس کے لیے جہاں اپنی علاقائی سطح کی پالیسیوں پر نئی فکر اور سوچ کو اختیار کرنا ہے وہیں اسی کی بنیاد پر اپنی داخلی سیاست کے خدوخال یا دائرہ کار میں بھی بنیادی نوعیت کی تبدیلیوں کی ضرورت ہے ۔بالخصوص جب ہمیں ایک ہی وقت میں بھارت اور افغانستان سے جنگ یا کشیدگی کا سامنا ہے یا ان دونوں ممالک کی بنیاد پر پاکستان مخالف گٹھ جوڑ یا ان کی پاکستان مخالف پراکسی کی موجودگی میں ہم اپنی داخلی اور علاقائی سیاست کو کیسے مضبوط کرسکیں گے ،اہم سوال بنتا ہے ۔
کیونکہ اب جو ہم نئی تبدیلیاں علاقائی یا خلیجی ممالک کی سطح پر دیکھ رہے ہیں اور جس انداز سے یو اے ای سمیت دیگر خلیجی ممالک کی پالیسیوں میں تبدیلیاں پیدا ہورہی ہیں اس میں ہمیں بھی ایک نئے فریم ورک کی ضرورت ہے ۔اسی طرح چین،روس،امریکا کی سطح پر جو حالات بن رہے ہیں ان میں ہمارے تعلقات کی نوعیت یاسیاسی و معاشی روابط کی بنیاد کیا ہوگی ۔بنیادی سوال انسانی ترقی کا ہے ۔لیکن کیا انسانی ترقی کے اس ماڈل میں ہم صرف اسلحہ اور جنگوں پر وسائل خرچ کرکے یا اپنے دفاع کو مضبوط کرکے انسانی ترقی کو نئی جہت دے سکیں گے اس پر سنجیدگی سے غور کرنے کی ضرورت ہے ۔اس میں کوئی شک نہیں کہ کسی بھی ریاست کا دفاع اس کی بنیادی ضرورت بنتا ہے اور بالخصوص موجودہ حالات میں دفاع کا مضبوط ہونا اہم ہے ۔لیکن اسی تناظر میں ایک متوازن پالیسی دفاع اور انسانی ترقی کی بنیاد پر قائم ہونی چاہیے اور یہ ہی تعلق بنیادی طور پر ریاست،حکومت اور شہریوں کے درمیان تعلقات کو مضبوط بنانے اس کی ساکھ کو قائم کرنے میں مدد دے گا۔
بدقسمتی سے ہمیں علاقائی تعلقات کی بحالی میں جو تعاون بھارت اور افغانستان سے درکار ہے، اس میں کافی چیلنجز کا سامنا ہے اور ایسے لگتا ہے کہ ان دونوں ممالک کی ترجیحات میںپاکستان سے تعلقات کو بہتر بنانا ایجنڈے کا حصہ نہیں ۔اگرچہ پچھلے دنوں سے کچھ آوازیں ہمیں بھارت کی جانب سے سننے کو ملی ہیں جہاں کچھ بڑے انفرادی لوگوں نے مودی حکومت کو کہا ہے کہ وہ جنگ کے ماحول سے نکل کر پاکستان سے تعلقات کی بہتری میں بات چیت کے راستے کھولیں ۔لیکن کیا نریندر مودی کی حکومت اس معاملے میں کوئی بڑی پیش رفت دکھاتی ہے، اس پر کچھ کہنا قبل ازوقت ہوگا ۔لیکن ایک بات طے ہے کہ بھارت اور افغانستان سے پاکستان سے تعلقات کی بہتری محض ان ملکوں تک ہی محدود نہیں ہوگی بلکہ مجموعی طور پر علاقائی سیاست میں سیاسی اور معاشی استحکام دیکھنے کو ملے گا۔پا کستان،بھارت اور افغانستان کو تعلقات کی بہتری کے لیے موجودہ کشیدہ حالات کے خاتمہ میں غیر معمولی اقدامات اور اپنے قد سے اوپر اٹھ کر کچھ ایسا کرکے دکھانا ہوگا جو ان ممالک کو ایک دوسرے کے قریب لاسکے ۔لیکن یہ عمل کسی سیاسی تنہائی میں نہیں ہوگا اس میں بڑی طاقتوں جن میں امریکا،چین اور روس کو ایک موثر سطح کا کردار ثالثی کا ادا کرنا ہوگا ۔
کیونکہ پاکستان ،بھارت اور افغانستان کے درمیان جو بھی تعلقات کی بہتری کا فریم ورک بنے گا وہ ان بڑے ممالک کی حمایت اور نگرانی کے ممکن نہیں ہے۔بالخصوص دہشت گردی جو پاکستان، بھارت اور افغانستان کا مشترکہ مسئلہ ہے اس کے لیے عملی طور پر ان ممالک کے درمیان اس سے نمٹنے کے لیے مشترکہ میکنزئم درکار ہے اور یہ عمل عالمی حمایت کے بغیر ممکن نہیں ۔کیونکہ محض الزام تراشی کی بنیاد پر مسائل کا علاج تلاش نہیں کیا جاسکے گا اور نہ ہی ان مسائل کا حل مزید جنگ یا تنازعات کو آگے بڑھانے سے ممکن ہوسکے گا لیکن کیا ہم اپنی اس حکمت عملی نظرثانی کے لیے تیار ہیں اس کا جواب بھی تلاش کرنا ہوگا۔یہ بات طے ہے کہ پاکستان سمیت کوئی بھی ملک اسٹیٹس کو کی بنیاد پر علاقائی تعلقات کی بہتری میں کوئی بڑی مثبت تبدیلیاں پیدا نہیں کرسکے گا اور نہ ہی معاملات بہتری کی طرف جاسکیں گے۔
لیکن سوال یہ ہی بنتا ہے کہ بلی کے گلے میں گھنٹی کون باندھے گا اور کون معاملات کی درستگی کو ممکن بنانے میں پہل کرے گا یا ایسا کیا قدم اٹھائے گا جوعملا دوسروں کو ترغیب دے کہ وہ بھی امن کا راستہ بات چیت کی مدد سے طے کرے ۔مگر یہ جو اعتماد سازی یا بداعتمادی کا بحران ہے اس نے مجموعی طور پر علاقائی سیاست کو ایک بڑے بحران کی طرف دکھیل دیا ہے اور ایسے لگتا ہے کہ ہم اپنی حقیقی منزل سے کافی دور ہیں۔ان دوریوں کو ختم کرنا علاقائی سیاست اور ان میںشامل ممالک کی مشترکہ حکمت عملی کا حصہ ہونا چاہیے۔
جہاں تک پاکستان کا تعلق ہے تو ایک طرف اسے علاقائی سیاست کا چیلنج ہے تو دوسری طرف حالات کی بہتری کے لیے اسے اپنے داخلی سطح کے معاملات کو درست کرنے پر بھی توجہ دینی ہوگی کیونکہ یہ ممکن نہیں کہ ہم اپنے داخلی معاملات کو درست کیے بغیر علاقائی سیاست میں بہت کچھ حاصل کرسکیں گے۔ اس میں کوئی شبہ نہیں کہ موجودہ ایک برس میں ہم نے عالمی اور علاقائی سفارت کاری کی سطح پر اپنی صلاحیتوں کو خوب منوایا ہے اور اس کی ہر سطح پر پزیرائی بھی کی جارہی ہے۔لیکن اس کے باوجود ہم اپنے داخلی معاملات کی درستگی میں کچھ کمزوریوں کے پہلو ہم کو دیکھنے کو ملتے ہیں۔ہم جہاںعالمی ثالثی میں اپنا کردار ادار کررہے ہیں وہیںہماری داخلی سیاست کی تقسیم کے تناظر میں جو سیاسی کشیدگی اور سیاسی دشمنی یا سیاسی ڈیڈ لاک اسے بھی ختم کرنا ریاست اور حکمرانوں کی ذمے داری کے زمرے میں آتا ہے ۔یہ تسلیم کرنا ہوگا کہ ہماری سیاسی تقسیم نے ہمیں مجموعی طور پر نہ صرف تقسیم کردیا ہے بلکہ اس کے نتیجے میں کشیدگی بھی بڑھ رہی ہے ۔اسی طرح قومی سیکیورٹی یا دہشت گردی سے جڑے مسائل بھی اہم ہیں اور موجودہ دہشت گردی کے داخلی واقعات نے ہمارے لیے سنجیدہ سوالات اٹھائے ہیں ۔
بلوچستان اور خیبر پختونخواہ میں مسلسل دہشت گردی جاری رہنا یا وہاں تسلسل کے ساتھ دہشت گردی کے واقعات کا ہونا، ہماری داخلی کمزوریوں کی نشاندہی کرتا ہے ۔گورننس سے جڑے معاملا ت کا حل تلاش نہ کرنا بھی ہماری مسلسل ناکامی کی نشاندہی کرتا ہے ۔18ویں ترمیم کے باوجود وفاق اور صوبوں کے درمیان گورننس سے مسائل کا حل تلاش نہ کرنا اور اس کا عام فرد پر براہ راست اثر انداز ہونالوگوں میںنظام کے بارے میں ایک بڑے ردعمل کی سیاست پیدا کررہا ہے۔یہ جو ہمارے ملک میں سرمائے کی کمی یا سرمایہ کاری کے نہ ہونے کا داخلی اور خارجی بحران ہے اس کی چند بڑی وجوہات میں ایک وجہ گورننس یا ادارہ جاتی نظام کی ناکامی سے جڑا ہوا بھی پہلو ہے۔
اگر ہم نے داخلی معاملات کو درست نہ کرنے کی سیاسی روش کو برقرار رکھا اور پرانے خیالات کے ساتھ ہی نظام کو چلانا ہے تو یہ نظام جدید تقاضوں کے مطابق نہیں چل سکے گا۔اہم نقطہ یہ ہے کہ پاکستان کے پالیسی سازوں کی عملا ترجیحات میں ہمیں مسلسل کمزوری کے پہلو دیکھنے کو مل رہے ہیں۔ان امور کی نشاندہی مسلسل عالمی مالیاتی ادارے اور تھنک ٹینک بھی پیش کررہے ہیں کہ ہم اپنی داخلی درستگی کے لیے وہ کچھ نہیں کررہے جو ہمیں کرنا چاہیے۔سوال یہ ہی ہے کہ کیا ہم اپنی ترجیحات کو تبدیل کرسکیں گے یا ان تبدیلیوں کے تناظر میں ملک کی سطح پر کوئی بڑے دباؤ کی سیاست کو پیدا کیا جاسکے گا۔کیونکہ بدقسمتی سے جہاں حکمرانی کا نظام کمزور ہوا ہے وہیں دباو ڈالنے والی سیاست اور اس سے جڑے فریق بھی کمزور ہوئے ہیں،یہ بڑا المیہ بھی ہے۔