گلگت بلتستان میں ای آفس سسٹم کا باقاعدہ آغاز
اشاعت کی تاریخ: 3rd, July 2025 GMT
سیکریٹری سروسز عثمان احمد نے ای آفس سسٹم کی نمایاں خصوصیات بیان کرتے ہوئے کہا کہ اس نظام سے کاغذی فائلوں سے مکمل نجات ہو گا اور تمام ڈیٹا ایک کلک پر دستیاب ہو گا، شفافیت، نگرانی و جوابدہی میں بہتری آئے گی، ریکارڈز کی 24/7 دستیابی، فائل کی نوعیت کے مطابق کارروائی کا وقت، ورک فلو کی تخصیص، ورک فرام ہوم، موبائل ایکسیس کی سہولت، محفوظ مواصلات، ڈیزاسٹر ریکوری سسٹم، ایگزیکٹو ڈیش بورڈز، ٹاسک مینجمنٹ، بائیومیٹرک حاضری، اور گاڑیوں کا لاگ سسٹم، و دیگر امور سسٹم میں شامل ہوں گے۔ اسلام ٹائمز۔ گلگت بلتستان نے ملک کے دیگر صوبوں پر سبقت حاصل کرتے ہوئے ای آفس سسٹم کے باضابطہ آغاز کے ساتھ جدید انتظامی اصلاحات کی جانب ایک اہم قدم اٹھایا ہے۔ اس اقدام کے تحت گلگت بلتستان پاکستان کا پہلا صوبہ بن گیا ہے جہاں سرکاری امور کو مکمل طور پر ڈیجیٹل انداز میں انجام دیا جا رہا ہے۔ سرکاری بیان کے مطابق ای آفس سسٹم کے پہلے مرحلے میں اسے سیکریٹریٹ سطح پر متعارف کرایا گیا ہے، جبکہ دوسرے مرحلے میں اسے ڈائریکٹریٹ سطح تک وسعت دی جائے گی۔ اس جدید نظام سے دفتری کارکردگی، شفافیت، جوابدہی اور رفتار میں نمایاں بہتری متوقع ہے۔ اس حوالے سے منعقدہ تقریب میں وزیر انفارمیشن ٹیکنالوجی ثریا زمان، معاون خصوصی برائے اطلاعات ایمان شاہ، سیکریٹری سروسز اینڈ جنرل ایڈمنسٹریشن عثمان احمد، سیکریٹری اطلاعات دلدار احمد ملک، ڈائریکٹر پی ایم آر یو طلحہ طلعت، ڈپٹی ڈائریکٹر ڈاکٹر ادریس احمد و دیگر اعلیٰ افسران شریک ہوئے۔ معاون خصوصی اطلاعات ایمان شاہ اور وزیر انفارمیشن ٹیکنالوجی ثریا زمان نے اپنے گفتگو میں کہا کہ ڈیجیٹل تبدیلی صرف سہولت نہیں، ترقی کا واحد راستہ ہے اور ای آفس گلگت بلتستان کو پاکستان کا پہلا مکمل ڈیجیٹل صوبہ بنائے گا۔
اس موقع پر سیکریٹری سروسز عثمان احمد نے ای آفس سسٹم کی نمایاں خصوصیات بیان کرتے ہوئے کہا کہ اس نظام سے کاغذی فائلوں سے مکمل نجات ہو گا اور تمام ڈیٹا ایک کلک پر دستیاب ہو گا، شفافیت، نگرانی و جوابدہی میں بہتری آئے گی، ریکارڈز کی 24/7 دستیابی، فائل کی نوعیت کے مطابق کارروائی کا وقت، ورک فلو کی تخصیص، ورک فرام ہوم، موبائل ایکسیس کی سہولت، محفوظ مواصلات، ڈیزاسٹر ریکوری سسٹم، ایگزیکٹو ڈیش بورڈز، ٹاسک مینجمنٹ، بائیومیٹرک حاضری، اور گاڑیوں کا لاگ سسٹم، و دیگر امور سسٹم میں شامل ہوں گے۔ ڈائریکٹر پی ایم آر یو طلحہ طلعت اور ڈپٹی ڈائریکٹر ڈاکٹر ادریس احمد نے پرفارمنس انڈیکیٹرز، سسٹمز اور ڈیجیٹل حکمت عملی پر تفصیلی بریفنگ دی اور مستقبل میں نادرا سمیت دیگر قومی اداروں سے سسٹم کی انضمام کے امکانات پر بھی روشنی ڈالی۔ ان کا مذید کہنا تھا یہ نظام ابتدائی مراحل میں ہے، لیکن مستقبل قریب میں پچاس ہزار سے زائد سرکاری ملازمین اس ڈیجیٹل سسٹم سے منسلک ہوں گے، جس سے گلگت بلتستان کے دفتری نظام میں انقلاب آئے گا۔
ذریعہ
ذریعہ: Islam Times
کلیدی لفظ: گلگت بلتستان
پڑھیں:
صرف مسلم لیگ (ن) ہی گلگت بلتستان کو ترقی کی راہ پر گامزن کر سکتی ہے، ثروت صباء
آپ اور آپ کے پیاروں کی روزمرہ زندگی کو متاثر کرسکنے والے واقعات کی اپ ڈیٹس کے لیے واٹس ایپ پر وی نیوز کا ’آفیشل گروپ‘ یا ’آفیشل چینل‘ جوائن کریں