لیورپول کے معروف پرتگالی فٹبالر اسپین میں ٹریفک حادثے میں جاں بحق
اشاعت کی تاریخ: 3rd, July 2025 GMT
لیورپول اور پرتگال کے معروف فٹبالر دیوگو ژوٹا (Diogo Jota) 28 سال کی عمر میں اسپین میں ایک ہولناک ٹریفک حادثے میں جاں بحق ہو گئے۔ ان کے ساتھ ان کے 26 سالہ بھائی بھی حادثے کا شکار ہوئے۔ پرتگالی فٹبال فیڈریشن نے اس افسوسناک خبر کی تصدیق کی ہے۔
حادثہ شمال مغربی اسپین کے علاقے زامورا کے قریب پیش آیا، جہاں دونوں بھائی جس لامبورگینی گاڑی میں سفر کر رہے تھے وہ سڑک سے پھسل کر ایک درخت سے ٹکرا گئی اور فوراً آگ بھڑک اٹھی۔ کاستیل و لیون کے علاقائی فائر ڈیپارٹمنٹ کے مطابق حادثہ جمعرات اور جمعہ کی درمیانی شب پیش آیا اور جائے وقوعہ پر پہنچنے پر دونوں افراد مردہ حالت میں پائے گئے۔
پرتگالی فٹبال فیڈریشن نے بیان میں کہا کہ ہم نے 2 چیمپیئنز کھو دیے ہیں۔ ان کی موت پرتگالی فٹبال کے لیے ناقابل تلافی نقصان ہے، اور ہم ہر روز ان کی میراث کو خراجِ عقیدت پیش کرنے کی کوشش کریں گے۔
مزید پڑھیں: ’پرتگالی ہوں، لیکن سعودی عرب سے ہوں‘ رونالڈو کا النصر کے ساتھ نئی کامیابیوں کا عزم
اسپین کی پولیس کے مطابق ابھی تک سرکاری طور پر شناخت نہیں کی گئی، تاہم تمام شواہد اس بات کی جانب اشارہ کر رہے ہیں کہ متوفی دیوگو ژوٹا اور ان کے بھائی ہی ہیں۔ لاشیں زامورا کے قریبی فرانزک یونٹ منتقل کر دی گئی ہیں، جہاں پوسٹ مارٹم کیا جائے گا۔
ژوٹا نے حال ہی میں 28 جون کو شادی کی تھی۔ وہ لیورپول کے لیے گزشتہ سیزن میں پریمیئر لیگ جیتنے میں اہم کردار ادا کر چکے ہیں، اور ساتھ ہی ایف اے کپ اور لیگ کپ بھی جیتا۔ ژوٹا نے 2020 میں وولورہیمپٹن سے لیورپول میں شمولیت اختیار کی تھی اور کلب کے لیے 182 میچوں میں 65 گولز اسکور کیے۔
بین الاقوامی سطح پر، ژوٹا نے پرتگال کی نمائندگی کرتے ہوئے 49 میچ کھیلے اور 2 بار یوئیفا نیشنز لیگ جیتی۔ دیوگو ژوٹا کا شمار پرتگال اور لیورپول کے مقبول ترین کھلاڑیوں میں ہوتا تھا، اور ان کی اچانک موت نے دنیائے فٹبال کو شدید صدمے سے دوچار کر دیا ہے۔
آپ اور آپ کے پیاروں کی روزمرہ زندگی کو متاثر کرسکنے والے واقعات کی اپ ڈیٹس کے لیے واٹس ایپ پر وی نیوز کا ’آفیشل گروپ‘ یا ’آفیشل چینل‘ جوائن کریں
Diogo Jota اسپین پرتگال لیورپول ہولناک ٹریفک حادثہ.
ذریعہ
ذریعہ: WE News
کلیدی لفظ: اسپین پرتگال لیورپول کے لیے
پڑھیں:
شارع فیصل، کس لین میں گاڑی چلائی تو چالان نہیں ہوگا؟
کراچی میں شارع فیصل پر ٹریفک کی روانی کو بہتر بنانے کے لیے ٹریفک لین کی پاسداری کرانے کے لیے قوانین پر سختی عملدرآمد کیا جارہا ہے۔
ٹریفک لین کی خلاف ورزی پر 24 گھنٹوں کے دوران 96 چالان جاری کیے گئے ہیں۔
کراچی میں ٹریفک جام اور حادثات کی بڑھتی ہوئی تعداد کے پیچھے کئی وجوہات ہیں، لیکن ایک بڑی وجہ ٹریفک قوانین کی خلاف ورزی ہے۔
شہر کی سڑکوں پر مختلف گاڑیوں کے لیے مخصوص لینز تو موجود ہیں، اور زیادہ تر شہری اس بات سے واقف بھی ہیں کہ کون سی لین کس قسم کی گاڑی کے لیے مختص ہے، مگر وقت بچانے اور جلد منزل تک پہنچنے کی دوڑ میں اکثر لوگ ان اصولوں کو نظرانداز کر دیتے ہیں۔
ٹریفک قوانین کی خلاف ورزی کو روکنے اور سڑکوں پر نظم و ضبط بہتر بنانے کے لیے ٹریفک پولیس نے پہلے ہی ای-ٹکٹنگ سسٹم نافذ کیا ہوا ہے، لیکن اب شارع فیصل پر لین کی خلاف ورزی کرنے والوں کو خودکار طریقے سے جرمانے جاری کیے جائیں گے۔
ڈی آئی جی ٹریفک پیر محمد شاہ کے مطابق ٹریفک جام کی صورت میں شہریوں کو لین تبدیل کرنے کی رعایت ہے، لیکن سست ٹریفک پر شہریوں کو مقررہ لین میں ہی رہنا ہوگا اور ہیوی بائیک رائڈرز بھی لین کی خلاف ورزی کریں گے تو چالان ہوگا۔
دوسری جانب شہریوں نے اس اقدام کو ٹریفک نظم و ضبط کی جانب ایک مثبت پیشرفت قرار دیا ہے۔
ان کا کہنا ہے کہ قوانین پر مؤثر عملدرآمد کے ساتھ ساتھ عوامی آگاہی بھی انتہائی ضروری ہے تاکہ زیادہ سے زیادہ لوگ نئے نظام اور لین ڈسپلن کے اصولوں سے واقف ہو سکیں۔
قانون تو موجود ہے، اب اصل امتحان اس پر عملدرآمد اور شہریوں کے تعاون کا ہے۔ اگر دونوں ساتھ چلیں تو شاید کراچی کی سڑکیں زیادہ محفوظ اور منظم بن سکیں۔