Daily Mumtaz:
2026-06-03@04:29:20 GMT

سانحہ سوات ، تحقیقاتی ٹیم نےابتدائی رپورٹ جمع کرادی

اشاعت کی تاریخ: 3rd, July 2025 GMT

سانحہ سوات ، تحقیقاتی ٹیم نےابتدائی رپورٹ جمع کرادی

سوات: صوبائی تحقیقاتی ٹیم کو کمشنر مالاکنڈ کی جانب سے سانحہ سوات کی رپورٹ جمع کرا دی گئی۔
کمشنر مالاکنڈ کی جانب سے سانحہ سوات کی جمع کرائی گئی رپورٹ 5 صفحات پر مشتمل ہے۔ رپورٹ میں کہا گیا ہے کہ معمول سے زیادہ بارش ہونے کے باعث دریائے سوات میں خوازہ خیلہ کے مقام پر پانی کی سطح 77 ہزار 782 کیوسک تک پہنچ گئی تھی۔
ابتدائی رپورٹ کے مطابق سیلاب میں 17 سیاح پھنس گئے تھے۔ جن میں سے 10 سیاحوں کا تعلق سیالکوٹ پنجاب سے تھا اور 6 کا تعلق مردان اور ایک مقامی شخص تھا۔ دریائے سوات میں تعمیراتی کام کی وجہ سے پانی کا رخ دوسری جانب کر دیا گیا۔ اور پانی کا رخ تبدیل ہونے کی وجہ سے جائے حادثے میں پانی کی سطح کم تھی اور سیاح وہاں پہنچے۔
رپورٹ کے مطابق متاثرہ سیاح 8بجکر 31 منٹ پر ہوٹل پہنچے اور 9 بجکر 31 منٹ پر دریا میں گئے۔ ہوٹل سیکیورٹی گارڈ نے سیاحوں کو دریا میں جانے سے روکا تھا۔ لیکن وہ ہوٹل کی پچھلی طرف سے چلے گئے۔ 9 بجکر 45 منٹ یعنی سیاحوں کے دریا میں داخل ہونے کے 14 منٹ بعد پانی کی سطح بڑھنے پر ریسکیو کو کال کی گئی۔ متعلقہ حکام 20 منٹ بعد 10 بجکر 5 منٹ پر جائے وقوعہ پر پہنچے۔
سیلاب کے خطرات کے پیش نظر تمام متعلقہ اداروں کو الرٹ کیا گیا تھا۔ اور سیلاب کنجنٹنسی پلان 2025 کو مئی کے مہینے میں تیار گیا تھا۔ اور خراب موسم کے بارے میں کئی الرٹ بھی متعلقہ اداروں سے موصول ہوئے تھے۔ متعلقہ افسران کو ایمرجنسی کی صورت میں ڈیوٹیاں پہلے ہی سے تفویض کی گئی تھیں۔
رپورٹ کے مطابق دریا کے کنارے قائم تجاوزات کے خلاف آپریشن کا فیصلے سیلاب سے قبل ہی ہوا تھا اور 2 جون سے ایک مہینے کے لیے ملاکنڈ ڈویژن میں دفعہ 144 نافذ کی گئی تھی۔ 24 جون کو دفعہ 144 کو مزید توسیع دیتے ہوئے دریائے سوات میں نہانے اور کشتی رانی پر پابندی عائد کی گئی تھی۔
17 پھنسے سیاحوں میں 4 کو اُسی وقت ریسکیو کر لیا گیا تھا۔ جبکہ 12 پھسنے افراد کی لاشیں نکال لی گئیں اور ایک کی تلاش تاحال جاری ہے۔ سوات کے مختلف علاقوں میں کل 75 افراد بہہ گئے تھے۔
حادثے کے بعد حکومت نے ڈپٹی کمشنر، ایڈیشنل ڈپٹی کمشنر، اسسٹنٹ کمشنر بابوزئی اور خوازہ خیلہ سوات کو معطل کر دیا۔ ڈسٹرکٹ ایمرجنسی افیسر سوات اور تحصیل میونسپل افیسر سوات کو بھی معطل کیا گیا۔

حادثے کے بعد 28 جون کو چیف سیکرٹری خیبرپختونخوا نے جائے وقوعہ کا دورہ کیا اور ہر قسم کی مائننگ پر پابندی عائد کر دی۔

Post Views: 3.

ذریعہ

ذریعہ: Daily Mumtaz

کلیدی لفظ: گئی تھی کی گئی

پڑھیں:

پنجاب حکومت کے دو پراجیکٹ ورلڈ سمٹ انفارمیشن سوسائٹی کی ٹاپ لسٹ میں شامل، دنیا میں پاکستان کا تشخص نمایاں ہوا: مریم نواز

لاہور (نوائے وقت رپورٹ+ نیوز رپورٹر) وزیراعلیٰ مریم نواز نے’’میرا پیارا‘‘ پراجیکٹ کو یو این گلوبل چیمپئن قرار دئیے جانے پر اظہار تشکر کیا ہے۔ تاریخ میں پہلی بار وزیراعلیٰ  کے وژنری  اقدامات کی بدولت پاکستان کے دو پراجیکٹس کواقوام متحدہ کی ورلڈ سمٹ انفارمیشن سوسائٹی نے ٹاپ لسٹ میں شامل کیا۔ مریم نواز کے ورچوئل سینٹر فار چائلڈ سیفٹی ’’میرا پیارا‘‘ پراجیکٹ کو دنیا کے ٹاپ فائیو میں شامل کیا گیا ہے۔ پنجاب کا ورچوئل ویمن پولیس سٹیشن بھی دنیا بھر کے ٹاپ 20 پراجیکٹس میں شارٹ لسٹ کیا گیا ہے۔ وزیراعلیٰ  نے ’’میرا پیارا‘‘ پراجیکٹ کی ٹیم کو ڈبلیو ایس آئی ایس کی طرف سے گلوبل چیمپئن قرار دیئے جانے پر شاباش دی ہے۔ مریم نواز  نے کہا کہ عوامی خدمات کے معتبر فورم اقوام متحدہ کے تحت (WSIS) پرائزز ڈیجیٹل گورننس پر پنجاب کے دو پروگرامز کا شامل کیا جانا اعزاز ہے۔ ورچوئل سینٹر فار چائلڈ سیفٹی ’’میرا پیارا‘‘ نے 1 لاکھ 45 ہزار سے زائد گمشدہ بچوں کے کیس کی مثال قائم کی۔ ’’میرا پیارا‘‘ پراجیکٹ کے تحت 54 ہزار سے زائد گمشدہ بچوں کے لئے مؤثر کارروائی قابل تحسین ہے۔ ’’میرا پنجاب‘‘ سے بچوں کے استحصال آن لائن ہراسگی اور دیگر معاملات میں معاونت کی گئی۔  ’’میرا پنجاب‘‘ کی عالمی سطح پر پذیرائی ٹیکنالوجی پر مبنی پبلک سروسز کی عالمی سطح پر اعتراف کا ثبوت ہے۔ گمشدہ افراد کے لئے میرا پیارا ایپ دنیا بھر میں پاکستان کا مثبت تشخص نمایاں ہوا۔ یہ امر قابل ذکر ہے کہ پنجاب کے پراجیکٹس کی بدولت پاکستان ڈبلیو ایس آئی ایس کیٹیگری میں دو شارٹ لسٹ شدہ پراجیکٹس کے ساتھ دنیا کا واحد ملک بن گیا۔ ورچوئل سینٹر فار چائلڈ سیفٹی (VCCS) کے ذریعے بچوں سے متعلق 1 لاکھ 45 ہزار سے زائد کیسز نمٹائے گئے۔ ورچوئل سینٹر فار چائلڈ سیفٹی کی بدولت 77 ہزار سے زائد گمشدہ بچے بازیاب کرایا گیا۔ مریم نواز  کی قیادت میں پنجاب حکومت حکومت نے 3 ہزار سپیشل (معذور) بچوں کو بھی تلاش کر کے خاندانوں سے ملوایا۔ ڈبلیو ایس آئی ایس کی رپورٹ کے مطابق پراجیکٹ کے تحت گمشدہ یا اغوا ہونے والے بچوں کے 54 ہزار سے زائد کیسز پر کارروائی کی گئی۔ 77 ہزار سے زائد بچے خاندانوں سے ملوائے گئے جن میں تین ہزار سپیشل بچے بھی شامل ہیں۔ مربوط ڈیجیٹل رسپانس کے ذریعے بدسلوکی، آن لائن استحصال اور کمزور بچوں کے تحفظ کے ہزاروں کیسز حل کیے گئے۔ رپورٹ کے مطابق پنجاب بھر میں اب تک مختلف کیٹیگریز کے کل 1,45,772 کیسز رپورٹ، ریکارڈ 1,36,157کیسز کو کامیابی سے حل کر لیا گیا۔  رپورٹ ہونے والے مقدمات میں سے مجموعی طور پر 26,274 ایف آئی آرز رجسٹرڈ جبکہ 7,081 چالان عدالتوں میں جمع کروا دیے گئے۔ گمشدہ اور اغوا ہونے والے 54,741بچوں میں سے 53,811بچوں کو کامیابی سے تلاش کر کے اہلخانہ سے ملایا گیا۔ ریسکیو ٹیموں کی کارروائی کے نتیجے میں 22,989بچے ملے،جن میں سے 21,178 کو فوری طور پر خاندانوں کے حوالے کیا گیا۔ رپورٹ کے مطابق اس وقت سسٹم میں 930بچے لاپتہ اور1,811بچے تاحال غیر شناخت شدہ ہیں جن کے لیے روزانہ کی بنیاد پر فالو اپ جاری ہے۔ بچوں پر تشدد اور بدسلوکی کے 15,447 کیسز رپورٹ ہوئے، جن پر فوری کارروائی کرتے ہوئے 5,075ایف آئی آرز درج کی گئیں۔ چائلڈ بدسلوکی کیسز میں اب تک 3,830 ملزمان کو گرفتار کر کے 4,168مقدمات کے چالان عدالتوں میں جمع کروائے جا چکے ہیں۔ بچوں کے خلاف آن لائن اور ڈیجیٹل بد سلوکی کے 191کیسز سامنے آئے، جن پر 14 ایف آئی آرز درج اور 5 ملزموں کو گرفتار کیا گیا۔

متعلقہ مضامین

  • کم از کم ماہانہ اجرت 45 ہزار مقرر کرنے کی سفارش
  • اے این پی نے سوشل میڈیا پر مذہبی اشتعال انگیز مہم کیخلاف این سی سی آئی اے میں درخواست جمع کرادی
  • پنجاب حکومت کے دو پراجیکٹ ورلڈ سمٹ انفارمیشن سوسائٹی کی ٹاپ لسٹ میں شامل، دنیا میں پاکستان کا تشخص نمایاں ہوا: مریم نواز
  • بانی پی ٹی آئی کی بشریٰ بی بی سے ہفتہ وار ملاقات کرادی گئی
  • سانحہ اٹلی، جاں بحق افراد کی شہریت کی تصدیق تاحال نہیں ہو سکی، دفتر خارجہ
  • واشنگٹن میں لبنان اور اسرائیل کے درمیان مذاکرات شروع
  • سوات اور گردونواح میں زلزلے کے شدید جھٹکے
  • سوات: گھر کی چھت اور ہوٹل کا کمرہ گرنے سے بچیوں سمیت 3 افراد جاں بحق
  • کراچی میں کئی ماہ سے جاری پانی کا شدید بحران ختم نہ ہو سکا
  • کراچی: واش روم میں بچے کی پیدائش، تحقیقاتی رپورٹ ڈائریکٹر جناح اسپتال کے حوالے