صدر مملکت ، وزیراعظم اور وزیر داخلہ کا بھارتی حمایت یافتہ 30خوارج کو جہنم واصل کرنے پر فورسز کو خراج تحسین
اشاعت کی تاریخ: 4th, July 2025 GMT
اسلام آباد(ڈیلی پاکستان آن لائن)صدر مملکت آصف زرداری، وزیراعظم شہبازشریف اور وزیر داخلہ محسن نقوی نے بھارتی حمایت یافتہ 30خوارج کو جہنم واصل کرنے پر فورسز کو خراج تحسین پیش کیا ہے۔
صدر مملکت نے اپنے بیان میں کہا ہے کہ بھارتی حمایت یافتہ دہشتگردوں کیخلاف فورسز کی کامیاب کارروائیاں خوش آئند ہیں،دہشتگردوں کے خاتمے تک سکیورٹی فورسز کی کارروائیاں جاری رہیں گی،دہشتگردوں کے خاتمے اور دفاع وطن کا ہمارا عزم غیرمتزلزل ہے۔
وزیراعظم شہبازشریف نے پاک افغان بارڈر سے دراندازی ناکام بنانے پر سکیورٹی فورسز کو خراج تحسین پیش کیا ہے،وزیراعظم نے 13خوارجی دہشتگردوں کو ہلاک کرنے پر سکیورٹی فورسز کی ستائش کرتے ہوئے کہاکہ ملک کی حفاظت کیلئے بہادر افواج سیسہ پلائی ہوئی دیوار کی طرح کھڑی ہیں،پوری قوم سکیورٹی فورسز کو سلام پیش کرتی ہے،ملک سے ہر قسم کی دہشتگردی کے مکمل خاتمے کیلئے پرعزم ہیں۔
سموگ سے نمٹنے کے اقدامات: لاہور ہائیکورٹ کا کینال روڈ سے درخت نہ کاٹنے کا حکم
وفاقی وزیر داخلہ محسن نقوی نے فتنہ الہندوستان کی دراندازی ناکام بنانے پر فورسز کو خراج تحسین پیش کیا اور سکیورٹی فورسز کی پیشہ ورانہ صلاحیتوں کو سراہا،محسن نقوی نے کہاکہ سکیورٹی فورسز کی فتنہ الہندوستان کے 30دہشتگردوں کو جہنم واصل کیا، دہشتگردوں اور سہولت کاروں کو کسی صورت نہیں چھوڑیں گے،قوم کو سکیورٹی فورسز کی پیشہ ورانہ مہارت اور جرأت پر فخر ہے،قوم سکیورٹی فورسز کے شانہ بشانہ کھڑی ہے۔
مزید :.
ذریعہ
ذریعہ: Daily Pakistan
کلیدی لفظ: فورسز کو خراج تحسین سکیورٹی فورسز کی
پڑھیں:
گورنر خیبر پختونخوا کی وزیراعظم سے ضم شدہ اضلاع کیلئے ٹیکس استثنیٰ بحال کرنے کی درخواست
فیصل کریم کنڈی نے خط میں کہا کہ صوبائی حکومت ضم شدہ اضلاع اور پاٹا کے تمام صوبائی ٹیکس ختم کر چکی ہے، تاہم وفاقی ٹیکسز کے خاتمے کے بغیر قبائلی عوام کو مکمل ٹیکس ریلیف نہیں مل سکتا۔ اسلام تائمز۔ گورنر خیبر پختونخوا فیصل کریم کنڈی نے وزیراعظم پاکستان کے نام خط لکھ کر ضم شدہ قبائلی اضلاع اور پاٹا کے لیے وفاقی ٹیکس استثنیٰ بحال کرنے اور اس میں توسیع کی درخواست کی ہے۔ انہوں نے کہا کہ وفاقی ٹیکس استثنیٰ بحال کر کے انضمام کے وقت کیے گئے وعدوں کی پاسداری کی جائے۔ گورنر فیصل کریم کنڈی نے خط میں مطالبہ کیا کہ قبائلی اضلاع اور پاٹا میں انکم ٹیکس، سیلز ٹیکس اور دیگر وفاقی محصولات کے نفاذ پر نظرثانی کی جائے۔ انہوں نے کہا کہ صوبائی حکومت ضم شدہ اضلاع اور پاٹا کے تمام صوبائی ٹیکس ختم کر چکی ہے، تاہم وفاقی ٹیکسز کے خاتمے کے بغیر قبائلی عوام کو مکمل ٹیکس ریلیف نہیں مل سکتا۔
انہوں نے تجویز دی کہ وفاقی اور صوبائی حکومتوں پر مشتمل مشترکہ کمیٹی قائم کر کے قبائلی اضلاع کی معاشی صورتحال کا جائزہ لیا جائے۔ ان کا کہنا تھا کہ نئے ٹیکسوں کے نفاذ سے قبل ضم شدہ اضلاع اور پاٹا کی معاشی و مالی صورتحال کا جائزہ لینا ضروری ہے، جبکہ ٹیکسوں کا معاملہ مشترکہ مفادات کونسل یا کسی مناسب آئینی فورم پر فوری طور پر پیش کیا جائے۔
گورنر خیبر پختونخوا نے کہا کہ قبائلی عوام نے پاکستان کے امن، استحکام اور سلامتی کے لیے بے مثال قربانیاں دی ہیں۔ وفاق اور صوبے کی یکساں ٹیکس پالیسی قبائلی عوام کا ریاست پر اعتماد بحال کرنے میں مددگار ثابت ہوگی، جبکہ ٹیکس ریلیف سے ضم شدہ اضلاع کی سماجی و معاشی ترقی اور قومی دھارے میں انضمام کا عمل مزید تیز ہوگا۔