پاکستان کی چین میں منعقدہ 2025 ایس سی او فلم فیسٹیول میں شرکت
اشاعت کی تاریخ: 4th, July 2025 GMT
بیجنگ : 2025 شنگھائی تعاون تنظیم (ایس سی او) فلم فیسٹیول چین کے شہر چھونگ چھنگ میں شروع ہوگیا۔جمعہ کے روز چینی میڈیا کے مطابق سی پی سی کی مرکزی کمیٹی کے پولیٹیکل بیورو کے رکن اور چھونگ چھنگ میونسپل پارٹی کمیٹی کے سکریٹری یوآن جیاجون نے فلم فیسٹیول کے افتتاح کا اعلان کیا۔ افتتاحی تقریب میں سی پی سی کی مرکزی کمیٹی کے پبلسٹی ڈپارٹمنٹ کے ڈپٹی ڈائریکٹر اور چائنا میڈیا گروپ کے ڈائریکٹر شین ہائی شیونگ، پاکستان کی وفاقی وزارت تعلیم و پیشہ ورانہ تربیت کی وزیر مملکت وجیہہ کمال، روس کی وزارت ثقافت کی اسٹیٹ سیکرٹری اور نائب وزیر جینا الیکسیوا اور ازبکستان کی نیشنل فلم ایڈمنسٹریشن کے ڈائریکٹر شکرت ریزائیف نے شرکت کی اور تقاریر کیں۔شین ہائی شیونگ نے اپنی تقریر میں کہا کہ شنگھائی تعاون تنظیم میں متنوع تہذیبوں کی شکلیں اور وسیع ثقافتی روابطوں کے مناظرجمع ہوئے ہیں۔ ہم اس فلم فیسٹیول میں بین الاقوامی فلم اور ٹیلی ویژن تعاون کا ایک ماڈل تخلیق کرنے اور اپنی “ایس سی او کہانی” بتانے کے منتظر ہیں۔پانچ روزہ فیسٹیول میں شنگھائی تعاون تنظیم ممالک کی 48 فلمیں پیش کی جائیں گی۔
Post Views: 2.
ذریعہ
ذریعہ: Daily Mumtaz
کلیدی لفظ: فلم فیسٹیول
پڑھیں:
جامعہ کراچی میں سالانہ یومِ حسینؑ، شیعہ سنی علماء کا خطاب، اساتذہ و طلباء کی شرکت
تقریب سے جامعہ کراچی کے وائس چانسلر ڈاکٹر خالد محمود عراقی، معروف عالمِ دین مولانا سید شہنشاہ حسین نقوی، معروف اہلِ سنت عالمِ دین مفتی فضل ہمدرد، مولانا سید عروج زیدی اور مولانا سید فرخ عباس سمیت دیگر نے خطاب کیا۔ اس موقع پر شرکاء کے لیے سبیلِ حسینی اور تبرکات کا خصوصی اہتمام کیا گیا، جبکہ ماحولیاتی آلودگی سے آگاہی کے فروغ کے لیے مفت پودے بھی تقسیم کیے گئے۔ اس موقع پر میناب اسکول کے شہداء کو خراج تحسین بھی پیش کیا گیا۔ متعلقہ فائیلیںرپورٹ: میثم عابدی
جامعہ کراچی میں آئی ایس او ڈسٹرکٹ پروفیشنل اور دفترِ مشیر امورِ طلبہ کے زیر اہتمام سالانہ یومِ حسینؑ نہایت عقیدت و احترام کے ساتھ منایا گیا، جس میں جامعہ کے اساتذہ، طلبہ، علمائے کرام اور مختلف مکاتبِ فکر سے تعلق رکھنے والے افراد نے بڑی تعداد میں شرکت کی۔ تقریب سے خطاب کرتے ہوئے جامعہ کراچی کے وائس چانسلر ڈاکٹر خالد محمود عراقی نے کہا کہ حضرت امام حسینؑ کی عظیم قربانی رہتی دنیا تک حق و باطل کے درمیان امتیاز کی علامت بنی رہے گی۔ انہوں نے کہا کہ شہدائے کربلا کی قربانی کا مقصد انسانیت کو گمراہی کے اندھیروں سے نکال کر ہدایت کی روشنی سے آشنا کرنا تھا۔ ان کا کہنا تھا کہ آج جمہوری اسلامی ایران امریکا اور اسرائیل کے خلاف جس استقامت اور ثابت قدمی کا مظاہرہ کر رہا ہے، وہ تعلیماتِ حسینی کا عملی مظہر ہے۔ تقریب کے مقررین میں معروف عالمِ دین مولانا سید شہنشاہ حسین نقوی نے کہا کہ کربلا شعور، بصیرت اور حق شناسی کا راستہ ہے، حضرت امام حسینؑ نے اپنی لازوال قربانی سے دینِ اسلام کو نئی حیات عطا کی جبکہ سیدالشہداءؑ سے محبت درحقیقت رسولِ اکرم ﷺ سے محبت کا اظہار ہے۔ انہوں نے کہا کہ شہدائے کربلا کی قربانی تاریخِ انسانیت کی عظیم ترین قربانی ہے۔
معروف اہلِ سنت عالمِ دین مفتی فضل ہمدرد نے اپنے خطاب میں کہا کہ حضرت امام حسینؑ نے دینِ اسلام کی سربلندی اور حق کی بقا کے لیے عظیم قربانی پیش کی۔ انہوں نے کہا کہ حسینیت کا راستہ ہی پاکستان میں امن، اتحاد اور باہمی ہم آہنگی کو فروغ دے سکتا ہے۔ اسی موقع پر مولانا سید عروج زیدی نے کہا کہ واقعۂ کربلا پوری انسانیت کے لیے ایک ہمہ گیر نمونۂ عمل ہے، جو انسان کو بیداری، حق شناسی اور ظلم کے خلاف ڈٹ جانے کا درس دیتا ہے۔ تقریب کے درمیان شیعہ اور سنی شرکاء نے مولانا سید فرخ عباس کی اقتدا میں باجماعت نمازِ ظہرین ادا کی۔ شرکاء کے لیے سبیلِ حسینی اور تبرکات کا خصوصی اہتمام کیا گیا، جبکہ ماحولیاتی آلودگی سے آگاہی کے فروغ کے لیے مفت پودے بھی تقسیم کیے گئے۔ اس موقع پر میناب اسکول کے شہداء کو خراج تحسین بھی پیش کیا گیا۔ یوم حسینؑ میں مختلف طلبہ تنظیموں کے رہنما بھی شریک تھے۔