خیبر پختونخوا اور گلگت بلتستان کے علاقوں میں گلیشیائی جھیل پھٹنے سے سیلاب کا خطرہ
اشاعت کی تاریخ: 4th, July 2025 GMT
فائل فوٹو
محکمہ موسمیات کا کہنا ہے کہ موسمی نظام کے باعث برف پوش علاقوں میں گلیشیائی جھیل پھٹ سکتی ہیں، جھیلیں پھٹنے سے پیدا ہونے والے سیلاب کے خطرات کا امکان ہے۔
خیبر پختونخوا اور گلگت بلتستان کے برف پوش علاقوں میں گلیشیائی جھیل پھٹنے سے سیلاب کا خطرہ ہے، ان علاقوں میں مسلسل بلند درجہ حرارت برف اور گلیشیئرز کے پگھلنے کی رفتار تیز کر سکتا ہے۔
این ڈی ایم اے نے 7 جولائی سے ملک بھر میں دریاوں میں پانی کے بہاؤ اور سیلاب سے متعلق الرٹ جاری کر دیا ہے۔
محکمہ موسمیات کا کہنا ہے کہ آئندہ ہفتے گلیشیائی جھیلوں کے پھٹنے اور اچانک طغیانی جیسے واقعات پیش آ سکتے ہیں، تمام متعلقہ اداروں کو ہدایت کی جاتی ہے کہ وہ الرٹ رہیں۔
محکمہ موسمیات نے متعلقہ اداروں کو ہدایت کی ہے کہ کسی بھی ناخوشگوار صورتحال سے بچنے کے لیے بروقت حفاظتی اقدامات کریں۔
.
ذریعہ
ذریعہ: Jang News
کلیدی لفظ: علاقوں میں
پڑھیں:
وزیراعلی سندھ مراد علی شاہ کا مون سون کے پیش نظر انتظامیہ کو الرٹ رہنے کا حکم
وزیراعلی مراد علی شاہ نے تمام ڈپٹی کمشنرز، ضلعی انتظامیہ، بلدیاتی اداروں، آبپاشی حکام، محکمہ صحت، امدادی اداروں اور مقامی حکومت کے اداروں کو مکمل طور پر چوکس رہنے، ہنگامی ردعمل کی ٹیموں کو تیار رکھنے، نکاسی آب کے نظام کو فعال رکھنے اور انسانی جانوں اور املاک کے تحفظ کے لیے تمام ضروری اقدامات کرنے کی ہدایت کی ہے۔ اسلام ٹائمز۔ سندھ کے وزیر اعلی سید مراد علی شاہ کی ہدایت پر صوبائی ڈیزاسٹر مینجمنٹ اتھارٹی (پی ڈی ایم اے) نے سندھ بھر کی ضلعی انتظامیہ کو ہائی الرٹ کر دیا ہے اور تمام متعلقہ محکموں کو احتیاطی اور ہنگامی ردعمل کے اقدامات کرنے کی ہدایت کی ہے، کیونکہ بحیرہ عرب سے آنے والے مون سون کے طاقتور ہوائی سلسلے صوبے کو متاثر کر رہے ہیں۔ پی ڈی ایم اے کی جانب سے جاری کردہ موسمیاتی ایڈوائزری کے مطابق، پاکستان محکمہ موسمیات (پی ایم ڈی) کی پیش گوئی کی بنیاد پر ملک میں داخل ہونے والے مون سون کے طاقتور ہوائی سلسلے، بالائی اور وسطی علاقوں کو متاثر کرنے والے مغربی موسمی نظام کے ساتھ مل کر، 23 جولائی سے 25 جولائی تک سندھ کے کئی اضلاع میں وسیع پیمانے پر بارش، گرج چمک اور بعض مقامات پر موسلا دھار بارش کا سبب بن سکتے ہیں۔
وزیراعلی مراد علی شاہ نے تمام ڈپٹی کمشنرز، ضلعی انتظامیہ، بلدیاتی اداروں، آبپاشی حکام، محکمہ صحت، امدادی اداروں اور مقامی حکومت کے اداروں کو مکمل طور پر چوکس رہنے، ہنگامی ردعمل کی ٹیموں کو تیار رکھنے، نکاسی آب کے نظام کو فعال رکھنے اور انسانی جانوں اور املاک کے تحفظ کے لیے تمام ضروری اقدامات کرنے کی ہدایت کی ہے۔ وزیر اعلی نے ڈویژنل کمشنرز اور بلدیاتی اداروں کو مزید ہدایت کی کہ وہ نشیبی علاقوں، شہری مراکز اور حساس مقامات کی کڑی نگرانی کریں، امدادی سامان اور آلات کی دستیابی یقینی بنائیں اور موسمیاتی پیش گوئی کی مدت کے دوران تمام محکموں کے درمیان بلاتعطل رابطہ برقرار رکھیں۔