پی ٹی آئی خیبرپختونخوا کا محرم الحرام کے بعد احتجاجی تحریک دوبارہ شروع کرنے کا اعلان
اشاعت کی تاریخ: 5th, July 2025 GMT
پشاور(نیوز ڈیسک)پاکستان تحریکِ انصاف خیبرپختونخوا نے محرم الحرام کے احترام میں وقتی وقفے کے بعد دوبارہ احتجاجی تحریک شروع کرنے کا فیصلہ کر لیا ہے۔ اس بات کا اعلان پی ٹی آئی کے صوبائی صدر جنید اکبر نے اپنے ایک اہم ویڈیو پیغام میں کیا۔
جنید اکبر کا کہنا تھا کہ دس محرم کے بعد احتجاجی تحریک دوبارہ بھرپور انداز میں شروع کی جائے گی اور اس بار احتجاج میں مزید شدت لائی جائے گی۔ انہوں نے کہا کہ احتجاجی مظاہرے ہر حلقے میں منعقد ہوں گے اور اس تحریک میں صوبائی حکومت بھی مکمل طور پر شامل ہو گی۔
جنید اکبر نے کارکنوں کو مخاطب کرتے ہوئے کہا کہ وہ احتجاجی تیاریوں کا آغاز کریں اور محرم الحرام کے بعد بھرپور شرکت کے لیے تیار رہیں۔
سی ٹی ڈی اور پنجاب پولیس کی مشترکہ کارروائی؛ فتنۃ الہندوستان کے 5 خارجی دہشتگرد ہلاک
.
ذریعہ
ذریعہ: Daily Ausaf
کلیدی لفظ: کے بعد
پڑھیں:
مودی کا امتحانی پرچے لیک کرنے والوں کے خلاف فاسٹ ٹریک عدالتیں قائم کرنے کا اعلان
بھارتی وزیراعظم نریندر مودی نے امتحانی پرچوں کے لیک ہونے کے بڑھتے ہوئے واقعات کے خلاف سخت اقدامات کا اعلان کرتے ہوئے کہا ہے کہ ایسے جرائم میں ملوث افراد کو جلد انصاف کے کٹہرے میں لانے کے لیےفاسٹ ٹریک عدالتیںقائم کی جائیں گی۔ انہوں نے واضح کیا کہ طلبہ کے مستقبل سے کھیلنے والوں کے ساتھ کسی قسم کی رعایت نہیں برتی جائے گی۔
سوشل میڈیا پلیٹ فارم ایکس (X) پر جاری اپنے بیان میں وزیراعظم مودی نے کہا کہ نوجوانوں کا مستقبل حکومت کی اولین ترجیح ہے اور امتحانی نظام میں بدعنوانی یا پرچے لیک کرنے جیسے جرائم میں ملوث عناصر کو سخت اور فوری سزا دی جائے گی۔
یہ امتحانی پرچوں کے لیک ہونے کے معاملے پر وزیراعظم مودی کا پہلا عوامی بیان ہے۔ تاہم ان کے ردعمل کے بعد بھی ملک بھر میں جاری طلبہ احتجاج میں کمی نہیں آئی۔ متعدد طلبہ اور سماجی حلقوں نے سوال اٹھایا کہ حکومت نے اس حساس معاملے پر ردعمل دینے میں اتنی تاخیر کیوں کی۔
دوسری جانب لوک سبھا میں قائد حزب اختلاف راہل گاندھی نے وزیراعظم کے بیان کو تنقید کا نشانہ بناتے ہوئے حکومت پر تعلیمی نظام کو کمزور کرنے کا الزام عائد کیا۔
راہل گاندھی نے ایکس پر اپنی پوسٹ میں لکھا کہ نوجوانوں کے مستقبل کو سب سے زیادہ نقصان موجودہ حکومت نے پہنچایا ہے۔ ان کے مطابق حکومت نے نہ صرف تعلیمی نظام کو تباہ ہونے دیا بلکہ ذمہ دار افراد کو بھی تحفظ فراہم کیا۔
انہوں نے کہا کہ احتجاج کرنے والے طلبہ کے تین بنیادی مطالبات ہیں، جن میں وزیر تعلیم دھرمندر پردھان کو عہدے سے ہٹانا، طلبہ سے باضابطہ معافی مانگنا اور احتجاج کے دوران طلبہ پر مبینہ تشدد میں ملوث افراد کے خلاف کارروائی شامل ہے۔
واضح رہے کہ ملک میں تعلیمی اصلاحات اور امتحانی نظام میں شفافیت کے مطالبات کے حوالے سے احتجاجی تحریک جاری ہے۔ حالیہ دنوں میں طلبہ اور پولیس کے درمیان جھڑپوں کے بعد یہ معاملہ مزید شدت اختیار کر گیا ہے، جبکہ امتحانی پرچے لیک ہونے کے واقعات نے بھارت کے تعلیمی نظام پر سنجیدہ سوالات کھڑے کر دیے ہیں۔