ترکیہ ، اپوزیشن جماعتوں کیخلاف کریک ڈائون ، مزید 3میئر گرفتار
اشاعت کی تاریخ: 6th, July 2025 GMT
data-id="863a0a8" data-element_type="widget" data-widget_type="theme-post-content.default">
انقرہ (انٹرنیشنل ڈیسک) ترکیہ میں اپوزیشن جماعتوں کے خلاف کریک ڈاؤن کے دوران جنوبی شہروں آدیامان، ادانا اور انطالیہ کے میئر کو حراست میں لے لیا گیا۔ خبر رساں اداروں کے مطابق ان گرفتاریوں کا مقصد مبینہ بدعنوانی اور منظم جرائم کی تحقیقات ہے، تاہم ناقدین اسے اپوزیشن کو دبانے کی کوشش قرار دے رہے ہیں۔ گرفتار ہونے والوں میں آدیامان کے میئر عبد الرحمن توتدیر اور ادانا کے میئر زیدان کارالار کا تعلق مرکزی اپوزیشن جماعت ری پبلکن پیپلز پارٹی سے ہے۔ تینوں میئرز کو متعلقہ شہروں کے پبلک پراسیکیوٹر کی جانب سے حراست میں لیا گیا اور اب مبینہ طور پر استنبول منتقل کیا جا رہا ہے۔ استنبول کے چیف پراسیکیوٹر کے دفتر سے جاری بیان میں کہا گیا ہے کہ اس کارروائی میں مجموعی طور پر 10 افراد کو گرفتار کیا گیا ہے جن پر منظم جرائم، رشوت خوری اور ٹھیکوں میں گڑبڑ کے الزامات ہیں۔ دوسری جانب پراسیکیوٹر نے میئر استنبول اکرم امام اوگلو کے یونیورسٹی سے کیے گئے ڈپلوما کے سرٹیفکیٹ کو جعلی قرار دیتے ہوئے ان کے خلاف مقدمہ شروع کرنے کا بھی اعلان کیا ہے۔یاد رہے کہ مارچ میں استنبول کے میئر اکرم امام اوغلو کو کرپشن کے الزامات میں جیل بھیجا گیا تھا،جس کے بعد ملک بھر میں شدید مظاہرے پھوٹ پڑے تھے۔ حکومت اس امر کی تردید کرتی ہے کہ یہ مقدمات سیاسی وجوہ کی بنیاد پر قائم کیے گئے ہیں۔
.
ذریعہ
ذریعہ: Jasarat News
کلیدی لفظ: کے میئر
پڑھیں:
راولپنڈی: 1300 روپے کیلئے 2 نوجوان قتل، 7 ملزمان گرفتار
— فائل فوٹوراولپنڈی میں 13 سو روپے کے لین دین پر 2 نوجوانوں کے قتل میں ملوث دونوں فریقین کے 7 افراد کو پولیس نے گرفتار کر لیا۔
پولیس کے مطابق مقتول زین شاہ کے قتل میں ملوث 6 افراد کو گرفتار کر لیا گیا ہے، ملزمان نے زین شاہ کو ٹارچر کر کے سفاکانہ طریقے سے قتل کیا تھا جبکہ مقتول سراج کے قتل میں ملوث ایک شخص کو گرفتار کیا گیا ہے۔
پولیس کا کہنا ہے کہ گرفتار ملزم نے ساتھیوں کے ہمراہ مقتول سراج پر گولی چلائی تھی، واقعہ 8 مئی کو تھانہ دھمیال کے علاقے پیر مہر علی شاہ ٹاؤن میں پیش آیا تھا۔
راولپنڈی میں کلرسیداں کے علاقے بشندوٹ میں 4 روز قبل دوران ڈکیتی قتل کا ڈراپ سین ہو گیا۔
پولیس کے مطابق مقتول زین شاہ نے مقتول سراج کی دکان سے گھر کے لیے خریداری کی تھی، مقتول سراج نے بقایا رقم 13 سو روپے کا تقاضہ کیا تو جھگڑا ہوا تھا۔
جھگڑے کے دوران گولی چلی جس سے مقتول سراج موقع پر جاں بحق ہو گیا تھا جبکہ مقتول سراج کا بدلہ لینے کے لیے اس کے رشتے داروں نے زین شاہ کو اغواء کر کے قتل کر دیا تھا۔