ترک صدر کی مخالف جماعتوں کیخلاف کریک ڈاؤن آپریشن؛ مزید 3 میئرز گرفتار
اشاعت کی تاریخ: 5th, July 2025 GMT
ترکیہ میں اپوزیشن جماعتوں کے خلاف کریک ڈاؤں آپریشن کے دوران جنوبی شہروں آدیامان، ادانا اور انطالیہ کے میئر کو حراست میں لے لیا گیا۔
ترک خبر رساں ادارے "انادولو ایجنسی" کے مطابق ان گرفتاریوں کا مقصد مبینہ بدعنوانی اور منظم جرائم کی تحقیقات ہے، تاہم ناقدین اسے اپوزیشن کو دبانے کی کوشش قرار دے رہے ہیں۔
گرفتار ہونے والوں میں آدیامان کے میئر عبد الرحمن توتدیر اور ادانا کے میئر زیدان کارالار کا تعلق مرکزی اپوزیشن جماعت ری پبلکن پیپلز پارٹی سے ہے۔
تینوں میئرز کو متعلقہ شہروں کے پبلک پراسیکیوٹر کی جانب سے حراست میں لیا گیا اور اب مبینہ طور پر استنبول منتقل کیا جا رہا ہے۔
استنبول کے چیف پراسیکیوٹر کے دفتر سے جاری بیان میں کہا گیا ہے کہ اس کارروائی میں مجموعی طور پر 10 افراد کو گرفتار کیا گیا ہے جن پر منظم جرائم، رشوت خوری اور ٹھیکوں میں گڑبڑ کے الزامات ہیں۔
خیال رہے کہ یہ گرفتاریاں ایسے وقت میں ہو رہی ہیں جب مارچ میں استنبول کے میئر اور اردوان کے ممکنہ سیاسی حریف، اکرم امام اوغلو کو بھی کرپشن کے الزامات میں جیل بھیجا جا چکا ہے، جس کے بعد ملک بھر میں شدید مظاہرے پھوٹ پڑے تھے۔
ناقدین کا کہنا ہے کہ یہ گرفتاریاں اپوزیشن کو کمزور کرنے کی منظم کوشش کا حصہ ہیں، تاہم حکومت کا مؤقف ہے کہ عدلیہ اور پراسیکیوٹرز آزادانہ کام کر رہے ہیں۔
.
ذریعہ
ذریعہ: Express News
پڑھیں:
کراچی: ہل پارک سے متصل متنازع پلاٹ پر تعمیرات کے معاملے پر میئر کراچی نے وفاقی حکومت کو خط لکھ دیا
کراچی میں ہل پارک سے متصل متنازع پلاٹ پر تعمیرات کے معاملے پر میئر کراچی مرتضیٰ وہاب نے وفاقی حکومت کو خط لکھ دیا۔
میئر کراچی نے وفاقی وزارت ہاؤسنگ اینڈ ورکس سے پلاٹ نمبر 39-G-4 کا مکمل ریکارڈ طلب کرتے ہوئے کہا ہے کہ 1959 کے اصل منظور شدہ پی ای سی ایچ ایس ماسٹر پلان میں پلاٹ نمبر 39-G-4 موجود نہیں تھا۔
مرتضیٰ وہاب کے مطابق ابتدائی جانچ میں متنازع مقام پر پانچ سو گز کا پلاٹ اصل منظور شدہ لے آؤٹ میں ظاہر نہیں ہوتا، جبکہ اصل ماسٹر پلان کے مطابق مذکورہ مقام پر صرف تقریباً دو سو گز بقایا اراضی بنتی ہے۔
یئر کراچی نے سوال اٹھایا کہ پانچ سو گز کا پلاٹ کس قانونی بنیاد پر ظاہر کیا گیا، متعلقہ حکام اس کی وضاحت فراہم کریں۔
خط میں مطالبہ کیا گیا ہے کہ پلاٹ کے تمام ٹائٹل دستاویزات، الاٹمنٹ آرڈرز، لیز، میوٹیشن ریکارڈ، اصل اور نظرثانی شدہ لے آؤٹ پلانز سمیت تمام تبدیلیوں کی تفصیلات فراہم کی جائیں۔
میئر کراچی نے پلاٹ کی ملکیت، الاٹمنٹ ہسٹری، سروے تفصیلات، حدبندی کارروائی، ریگولرائزیشن، تبادلے، انضمام، سب ڈویژن یا ریکنسٹیٹیوشن سے متعلق تمام ریکارڈ بھی طلب کیا ہے۔
مرتضیٰ وہاب نے کہا کہ ہل پارک سے متصل اراضی عوامی زمین میں شامل تھی یا نہیں، اس کی وضاحت بھی کی جائے، جبکہ ہل پارک، اوپن اسپیس، امنیٹی یا سرکاری زمین پر تجاوزات سے متعلق تفصیلات بھی فراہم کی جائیں۔
میئر کراچی کا کہنا ہے کہ عوامی مفاد اور بلدیاتی اثاثوں کے تحفظ کے لیے متنازع پلاٹ کی جامع تحقیقات ضروری ہیں اور ہل پارک سے متصل زمین کے تمام قانونی اور ملکیتی ریکارڈ کی فوری تصدیق کی جانی چاہیے۔
مرتضیٰ وہاب نے مطالبہ کیا کہ متنازع پلاٹ سے متعلق تمام حقائق اور دستاویزی شواہد فوری فراہم کیے جائیں، جبکہ کے ایم سی بلدیاتی اثاثوں اور عوامی سہولتوں کے تحفظ کے لیے قانون کے مطابق کارروائی کا حق محفوظ رکھتی ہے۔