9 محرم الحرام: کراچی سمیت ملک بھر میں سکیورٹی ہائی الرٹ، موبائل فون سروس جزوی معطل
اشاعت کی تاریخ: 6th, July 2025 GMT
کراچی، لاہور اور پشاور سمیت مختلف شہروں میں 9 محرم الحرام کے مرکزی جلوس سکیورٹی کے سخت ترین انتظامات کے ساتھ نکالے جا رہے ہیں، جب کہ بعض شہروں میں موبائل سروس معطل اور حساس مقامات سیل کر دیے گئے ہیں۔
کراچی میں 9 محرم کا مرکزی جلوس نشتر پارک سے دوپہر 1 بجے برآمد ہوگا، جب کہ اس سے قبل نشترپارک میں مجلس منعقد کی جائے گی جس سے علامہ شہنشاہ حسین نقوی خطاب کریں گے۔ مجلس کے اختتام پر امایہ اسٹوڈنٹس آرگنائزیشن کی جانب سے نماز ظہرین ادا کی جائے گی۔ جلوس اپنے روایتی راستوں نمائش، صدر، ریڈیو پاکستان، جامع کلاتھ، ڈینسو ہال سے ہوتا ہوا کھارادر میں حسینیہ ایرانیاں امام بارگاہ پر ختم ہوگا۔ اس سلسلے میں سکیورٹی کے تمام انتظامات مکمل کر لیے گئے ہیں۔
اُدھر پنجاب کے دارالحکومت لاہور میں پانڈو اسٹریٹ سے 9 محرم کا مرکزی جلوس صبح 10 بجے برآمد ہوا، جہاں سکیورٹی کے لیے ایک لاکھ 47 ہزار سے زائد افسران و اہلکار تعینات کیے گئے ہیں۔
ترجمان پنجاب پولیس کے مطابق صوبے بھر میں آج 1689 عزاداری جلوس اور 3895 مجالس منعقد ہو رہی ہیں، جن کی حفاظت پر ایک لاکھ سے زائد پولیس اہلکار تعینات ہیں۔ لاہور میں 79 جلوس اور 378 مجالس کی حفاظت پر 10 ہزار سے زائد اہلکار مامور ہیں۔
ڈولفن اسکواڈ اور پولیس ریسپانس یونٹ (پی آر یو) کو خصوصی ہدایات جاری کی گئی ہیں۔ تمام ٹیمیں 1122، فائر بریگیڈ، ریسکیو 15 سمیت دیگر اداروں سے مسلسل رابطے میں رہیں گی، جبکہ خواتین و بچوں کی حفاظت پر خصوصی توجہ دی جا رہی ہے۔
آئی جی پنجاب ڈاکٹر عثمان انور نے کہا ہے کہ صوبے بھر میں سیکیورٹی ہائی الرٹ ہے اور دفعہ 144 کا مکمل نفاذ کیا جا رہا ہے۔ جلوسوں و مجالس کے طے شدہ راستوں، اوقات کار، اور لاوڈ اسپیکر ایکٹ پر سختی سے عملدرآمد کیا جا رہا ہے۔
اُدھر پشاور میں سکیورٹی خدشات کے پیش نظر نویں اور دسویں محرم کو موبائل فون سروس معطل کر دی گئی ہے۔ شہر میں بی آر ٹی سروس بھی 2 دن کے لیے بند کر دی گئی ہے۔ ھسینیہ ہال سے 9 محرم کا جلوس صبح 10 بجے برآمد ہوا۔ پشاور صدر اور کینٹ کے علاقے مکمل سیل کر دیے گئے ہیں اور تجارتی مراکز بند ہیں۔
پشاور شہر میں 10 ہزار سے زائد پولیس و سکیورٹی اہلکار تعینات کیے گئے ہیں، جب کہ افغان مہاجرین کے اندرون شہر داخلے پر بھی 2 دن کے لیے پابندی عائد کی گئی ہے۔ قصہ خوانی بازار، خیبر بازار، سرکلر روڈ اور جی ٹی روڈ سمیت متعدد اہم شاہراہیں بند کر دی گئی ہیں۔
Tagsپاکستان.
ذریعہ
ذریعہ: Al Qamar Online
پڑھیں:
لاہور کی رہائشی خاتون کی منشیات برآمدگی کیس میں ضمانت منظور
سپریم کورٹ نے لاہور کی رہائشی خاتون کی منشیات برآمدگی کے کیس میں 5 لاکھ روپے کے مچلکوں کے عوض ضمانت منظور کر لی۔
جسٹس ہاشم کاکڑ کی سربراہی میں 3 رکنی بینچ نے لاہور کی رہائشی خاتون کے خلاف منشیات برآمدگی کے کیس کی سماعت کی۔
دوران سماعت ملزمہ کے وکیل نے اے این ایف ریڈ کی سی سی ٹی وی فوٹیج چلائی، عدالت نے ملزمہ کے گھر کی سی سی ٹی وی فوٹیج کا فرانزک کرانے کا حکم دے دیا۔
پولیس کے مطابق ایک کیس میں ملزمہ کے قبضے سے دستی بم بھی برآمد ہوا تھا۔
ملزمہ کے وکیل احسن بھون نے کہا ہے کہ واضح دیکھا جاسکتا ہے کہ اے این ایف اہلکار منشیات لے کر گھر آتا ہے، خود منشیات گھر میں رکھ کر جھوٹا کیس بنایا گیا، سی سی ٹی وی فوٹیج میں نظر آنے والا اہلکار کمرۂ عدالت میں موجود ہے۔
اے این ایف کے اہلکار نے فوٹیج میں موجودگی کی تردید کر دی۔
جس پر جسٹس اشتیاق ابراہیم نے کہا کہ اے این ایف کے اسلحہ بردار اہلکار تشدد کرتے نظر آرہے ہیں۔
اے این ایف کے وکیل نے کہا کہ یہ فوٹیج کسی اور گھر میں کیے گئے ریڈ کی ہے۔
جسٹس ہاشم کاکڑ نے کہا کہ اے این ایف کے 10 اہلکار تھے مگر 2 لڑکیاں پھر بھی بھاگ گئیں، اتنے ہٹے کٹے اہلکار لڑکیوں کو نہیں پکڑ سکے مگر گاڑی پکڑ لی۔
ملزمہ کے وکیل احسن بھون نے کہا کہ گاڑی کی ریکوری کا ریکارڈ بھی تبدیل کیا گیا ہے۔
جسٹس اشتیاق ابراہیم نے اے این ایف کے وکیل سے کہا کہ اے این ایف کے بیانات پر لوگوں کو پھانسی پر لٹکاتے اور عمر قید سناتے ہیں، خدا کا خوف کریں کمرۂ عدالت میں جھوٹ نہ بولیں۔
جسٹس ہاشم کاکڑ نے کہا کہ اے این ایف کیا کر رہا ہے، ملزمان تحویل میں ہوتے مار دیے جاتے ہیں، ایک کیس میں ملزم کی ہتھ کڑیوں کے ساتھ تصویر تھی جو اگلے روز مار دیا گیا، جوانی ہمیشہ نہیں رہنی کچھ خیال کیا کریں۔
جسٹس ہاشم کاکڑ نے اے این ایف کے اہلکار سے استفسار کیا کہ آپ نے کبھی چرس پی ہے؟ جس پر اہلکار نے کہا کہ نہیں سر میں نے کبھی چرس نہیں پی۔
جسٹس ہاشم کاکڑ نے ریمارکس دیے کہ چرس نہیں پی اس لیے آپ میں احساس بھی نہیں ہے، جس پر عدالت میں قہقہے لگ گئے۔