میدان کربلا کی شہادت امت محمدی کو متحد ہونے کا پیغام ہے،ملی یکجہتی کونسل
اشاعت کی تاریخ: 6th, July 2025 GMT
data-id="863a0a8" data-element_type="widget" data-widget_type="theme-post-content.default">
لاہور(نمائندہ جسارت)ملی یکجہتی کونسل پاکستان کے صدر ڈاکٹر صاحبزادہ ابو الخیر محمد زبیر، سیکرٹری جنرل لیاقت بلوچ نے کہا ہے کہ میدان کربلا میں امام حسینؓ کی قیادت میں خاندان محمدؐ کی قربانیاں تا قیامت باطل کے مقابلے میں حق کے غلبے کے لیے زندہ و پائندہ پیغا م ہے۔ ہر دور میں قرآن و سنت کے احکامات کے باغی حکمران ملک و ملت پر یزیدی نظام مسلط کرتے ہیں۔ اہل حق ہمیشہ غلبہ دین کے لیے حسینیت کا راستہ اختیار کرتے ہیں۔میدان کربلا کی شہادت محمدؐ کی امت کو متحد ہونے کا پیغام ہے۔ امت کے انتشار نے یہود و ہنود اور امریکا و یورپ کے اسلام اور مسلمانوں کے خلاف ہر اقدام کے لیے راستہ کھول دیاہے، قرآن و سنت کے احکامات اور درد مشترک قدر مشترک ہی امت کو جسد واحد بنا دے گا۔ملی یکجہتی کونسل مجلس قائدین کے رہنماوں، علامہ سید ساجد علی نقوی، حافظ نعیم الرحمن، علامہ راجا ناصرعباس جعفری، علامہ زاہد محمود قاسمی، پیر ہارون گیلانی، مفتی گلزار احمد نعیمی، حافظ عبدالغفار روپڑی، سید ضیا اللہ شاہ بخاری، پیر عبدالرحیم نقشبندی، قاری محمد یعقوب شیخ، شجاع الدین شیخ، خواجہ معین الدین محبوب کوریجہ، عبداللہ حمید گل، مولانا اللہ وسایا، پیر غلام رسول اویسی، داکٹر حضور مہدی، ڈاکٹر علی عباس نقوی، ڈاکٹر صابر ابو مریم، مولانا عبدالمالک،
قاضی ظفر الحق، خرم نواز گنڈا پور نے مشترکہ بیان میں کہا کہ تمام مسالک شہدائے کربلا کی عظیم قربانیوں کو امت کے اتحاد کاذریعہ بنا لیں۔ کسی بھی اسلامی فرقہ کو کافر اور اس کے افراد کو واجب القتل قرار دینا غیر اسلامی ہے اور قابل نفرت بھی ہے۔ مذہب کے نام پر نفرت، تعصبات، دل آزاری، دہشت گردی، قتل و غارت گری اسلام کے صریحاً خلاف ہے ایسا کرنے والے کا اسلام اور امت محمدیہؐ سے کوئی تعلق نہیں ہے۔تمام اہل ایمان یوم عاشورہ پر امن کو یقینی بنائیں ہر شرپسندی کو روک دیں، اہل سنت یا اہل تشیع میں سے جو بھی شر انگیزی، دل آزاری، مشترکہ مقدسات کی توہین کرے تو اسے روک دیا جائے اور مشترکہ بنیادوں پر قانونی کارروائی کی جائے۔لیاقت بلوچ نے کہا کہ ملی یکجہتی کونسل کے صوبائی صدور، جنرل سیکرٹریز اور صوبائی کونسلوں کے ارکان اپنے صوبوں اور اضلاع میں تمام مکاتب فکر کے مقامات مقدسہ اور عبادت گاہوں کا احترام اور تحفظ کو یقینی بنائیں۔ صوبائی حکومتیں عزاداری میں رکاوٹیں پیدا نہ کریں اور قانون اوراجازت ناموں کے مطابق مجالس کانفرنسوں اور ماتمی جلوسوں کو پابند رکھیں، اہل تشیع، اہل سنت کے رہنما امن، احترام اور عقیدت و وحدت کا ماحول برقرار رکھیں۔مرکزی رہنماوں نے کہا کہ فلسطین غزہ پر رمضان، عید الاضحی اور ماہ محرم الحرام، ایام عاشور میں بھی اسرائیلی صہیونی شیطانوں نے بم باری، قتل و غارت گری اور امداد کے حصول کے لیے جمع ہونے والے مظلوم نہتے انسانوں پر ہر وقت مسلط کر دی جو جنگی جرائم کی انتہا ہے۔ اقوام متحدہ اور او آئی سی سے غزہ پر جنگ بندی کے لیے فوری اقدام کریں امریکی صدر ٹرمپ اسرائیلی صہیونیوں کے ظلم کے سامنے بھیگی بلی بنے ہوئے ہیں ان کے اصل ٹیسٹ تو یہ ہے کہ امریکا اسرائیل کی سرپرستی ختم کرے اور فلسطینیوں کی آزادی اور جینے کا حق تسلیم کیا جائے، فلسطین فلسطینیوں کا ہے ان کویہ حق دلانا ہی عالمی برادری کی ذمے داری ہے۔
ذریعہ
ذریعہ: Jasarat News
کلیدی لفظ: ملی یکجہتی کونسل کے لیے
پڑھیں:
بھارت امن دشمن ہے، جموں و کشمیر نہ اُس کا اٹوٹ انگ ہے اور نہ ہی داخلی معاملہ، پاکستان
اقوام متحدہ کی سلامتی کونسل میں پاکستان کی جانب سے بھارت کو مؤثر جواب دیتے ہوئے کہا گیا ہے کہ بھارت خود امن دشمن ہے، جموں و کشمیر نہ اُس کا اٹوٹ انگ ہے اور نہ ہی داخلی معاملہ۔
قرارداد 2788 کے تناظر میں تنازعات کے پرامن حل پر مباحثے کے دوران پاکستان مشن کی قونصلر صائمہ سلیم نے حق جواب میں کہا کہ ایک وفد نے تنازعات کے پُرامن حل پر ہونے والی بحث کو حقائق مسخ کرنے، انکار اور بے بنیاد الزامات کے ذریعے متاثر کرنے کی کوشش کی۔
انہوں نے کہا کہ بھارت کا امن کا درس دینا مضحکہ خیز ہے، جو خود بین الاقوامی قانون اور سلامتی کونسل کی قراردادوں کی خلاف ورزی، ہمسایوں کے خلاف جارحیت اور خطے میں ریاستی سرپرستی میں دہشت گردی کا مرتکب ہے۔
پاکستانی مندوب برائے اقوام متحدہ کا کہنا تھا کہ جموں و کشمیر نہ بھارت کا نام نہاد اٹوٹ انگ ہے اور نہ داخلی معاملہ؛ بھارت کا انکار اس تنازع کی بین الاقوامی حیثیت کو تبدیل نہیں کر سکتا۔ بھارت خود جموں و کشمیر کا مسئلہ سلامتی کونسل میں لے کر آیا تھا، مگر آج اسی کونسل کی قراردادوں سے انحراف کر رہا ہے۔ قراردادوں کی کوئی میعاد ختم نہیں ہوتی۔
قونصلر صائمہ سلیم نے کہا کہ آزاد جموں و کشمیر اور بھارت کے غیر قانونی زیر قبضہ جموں و کشمیر کے حالات میں واضح فرق ہے۔ ایک طرف سیاسی آزادی ہے، دوسری طرف جبر، گرفتاریوں اور انسانی حقوق کی پامالیوں کا سلسلہ جاری ہے۔
انہوں نے کہا کہ حقوق کا استعمال اور حقوق سے محرومی ایک جیسی چیزیں نہیں ہو سکتیں۔ کشمیری عوام کے ناقابل تنسیخ حقِ خودارادیت سے انکار نہیں کیا جا سکتا۔ سندھ طاس معاہدے کو یکطرفہ طور پر معطل کرنے کا بھارتی فیصلہ بین الاقوامی قانون اور اقوام متحدہ کے منشور سے بے اعتنائی کا مظہر ہے۔
پاکستانی مندوب نے حق جواب میں کہا کہ دریائے سندھ کا پانی پاکستان کے 24 کروڑ عوام کی زندگی کا ذریعہ ہے، جنگ کا ہتھیار نہیں۔ ایسے غیر ذمہ دارانہ اقدامات علاقائی امن کو خطرے میں ڈال سکتے ہیں۔ پاکستان دہشت گردی کا سب سے بڑا متاثرہ ملک ہے؛ ہزاروں بے گناہ شہریوں کی قربانیاں اس بات کا ثبوت ہیں کہ دہشت گردی کے خلاف پاکستان کی جدوجہد حقیقی ہے۔
قونصلر صائمہ سلیم کا کہنا تھا کہ بھارت سے منسلک دہشت گردی کے نیٹ ورک علاقائی حدود سے نکل کر عالمی سطح تک پہنچ چکے ہیں۔ کلبھوشن یادیو کیس اس کا ایک واضح ثبوت ہے۔ بھارت میں ہندوتوا پر مبنی انتہا پسند نظریات نے اسلاموفوبیا کو ریاستی پالیسی کا رنگ دے دیا ہے، جبکہ اقلیتیں امتیازی سلوک اور جبر کا سامنا کر رہی ہیں۔
انہوں نے کہا کہ پاکستان نے اشتعال انگیزی اور جارحیت کے باوجود تحمل کا مظاہرہ کیا، مذاکرات کا راستہ کھلا رکھا اور تنازعات کے پُرامن حل کو ترجیح دی۔ جنوبی ایشیا میں امن کا راستہ انکار یا ہٹ دھرمی نہیں بلکہ اقوام متحدہ کے منشور، بین الاقوامی قانون اور سلامتی کونسل کی قراردادوں کی پاسداری سے ہو کر گزرتا ہے۔
پاکستانی مندوب نے کہا کہ بھارت کو چاہیے کہ قرارداد 2788 پر اس کی روح اور متن کے مطابق عمل کرے، اپنے معاہداتی وعدے پورے کرے اور جموں و کشمیر تنازع کے پُرامن حل کے لیے سنجیدہ کردار ادا کرے۔