محمد سیراج کا انگلینڈ کے خلاف ٹیسٹ میں نیا ریکارڈ
اشاعت کی تاریخ: 5th, July 2025 GMT
BIRMINGHAM:
انگلینڈ اور بھارت کے درمیان جاری ٹیسٹ سیریز کے دوسرے میچ میں فاسٹ بولر محمد سیراج نے شان دار کارکردگی کا مظاہرہ کرتے ہوئے نیا ریکارڈ بنالیا۔
برمنگھم میں جاری دوسرے ٹیسٹ میں ہاردک پانڈیا کی جگہ بھارتی فاسٹ بولنگ کی سربراہی کرتے ہوئے محمد سیراج نے پہلی اننگز میں انگلینڈ کے 6 کھلاڑیوں کو آؤٹ کیا جو بھارت کی جانب سے ایک ریکارڈ ہے۔
محمد سیراج نے انگلینڈ کے اوپنر زیک کراؤلی، مایہ ناز بیٹر جو روٹ، کپتان بین اسٹوکس، برائیڈن کرس، جوش ٹونگ اور شعیب بشیر کی وکٹ حاصل کی۔
ان کی شان دار کارکردگی کی بدولت انگلیںڈ کی ٹیم پہلی اننگز میں بھارت کے 587 رنز کے جواب میں 407 رنز بنا کر آؤٹ ہوگئی اور بھارت کا برتری حاصل ہوئی۔
انگلینڈ کی سرزمین میں محمد سیراج بھارت کی جانب سے 6 وکٹیں حاصل کرنے والے پہلے بولر نہیں ہیں تاہم انہوں نے اس سے قبل جنوبی افریقہ میں بھی ایک اننگز میں 6 وکٹیں حاصل کی تھیں۔
محمد سیراج انگلینڈ اور جنوبی افریقہ دونوں ممالک میں ٹیسٹ کرکٹ کی ایک اننگز میں 6 وکٹیں حاصل کرنے والی پہلے بھارتی بولر ہیں۔
انگلینڈ کے خلاف پہلی اننگز میں محمد سیراج نے مجموعی طور پر 19.
ذریعہ
ذریعہ: Express News
کلیدی لفظ: انگلینڈ کے وکٹیں حاصل
پڑھیں:
بحرین میں ہَیْہَاتَ مِنَّا الذِّلَّة کا نعرہ لگانے پر پابندی عائد
رپورٹ میں مزید کہا گیا ہے کہ محرم کے آغاز سے قبل سکیورٹی اقدامات میں اضافہ اس امر کی نشاندہی کرتا ہے کہ بحرینی حکام عاشورا کے پیغام اور عزاداری کی مجالس کے سماجی اور ثقافتی اثرات کے حوالے سے تشویش رکھتے ہیں۔ ہیئت امورِ قیدیانِ بحرین نے زور دے کر کہا کہ یہ پابندیاں ان متعدد اقدامات کا تسلسل ہیں جو گزشتہ برسوں کے دوران مختلف علماء، خطباء اور مذہبی شخصیات کے خلاف گرفتاریوں، طلبیوں اور دباؤ کی صورت میں سامنے آتے رہے ہیں۔ اسلام ٹائمز۔ شیعہ نشین عرب ملک بحرین میں قیدیوں کے لیے کام کرنیوالی تنظیم نے میڈیا کو بتایا ہے کہ ملک کے سکیورٹی اداروں نے ماہِ محرم کی آمد کے موقع پر مجالس عزا پڑھنے والے خطباء اور مقررین کو وسیع پیمانے پر طلب کر کے نئی پابندیاں عائد کرتے ہوئے شیعہ مذہبی مراسم پر دباؤ میں اضافہ کر دیا ہے۔ رپورٹ کے مطابق بحرینی سکیورٹی اداروں نے محرم الحرام سے قبل متعدد خطباء اور ذاکرین کو طلب کیا ہے اور عزاداری کی مجالس اور مذہبی شعائر کے انعقاد کے لیے کئی نئی پابندیاں نافذ کی ہیں۔ ان پابندیوں میں مجالسِ عزاء کے لیے چالیس منٹ کی وقت کی حد مقرر کرنا، بعض حسینی نعروں خصوصاً ہَیْہَاتَ مِنَّا الذِّلَّة کے بلند کرنے یا دہرانے پر پابندی لگانا، نیز خطباء کو ظلم و استبداد کے خلاف جدوجہد سے وابستہ تاریخی اور سیاسی شخصیات کا تذکرہ کرنے سے روکنا شامل ہے۔
ہیئت امورِ قیدیانِ بحرین نے ان فیصلوں پر تنقید کرتے ہوئے انہیں بحرین کی شیعہ اکثریتی آبادی کے خلاف اختیار کی جانے والی محدودیت پسند پالیسیوں کا حصہ قرار دیا اور کہا کہ یہ اقدامات مذہبی مناسبتوں پر نگرانی اور کنٹرول بڑھانے کے مقصد سے کیے جا رہے ہیں۔ رپورٹ میں مزید کہا گیا ہے کہ محرم کے آغاز سے قبل سکیورٹی اقدامات میں اضافہ اس امر کی نشاندہی کرتا ہے کہ بحرینی حکام عاشورا کے پیغام اور عزاداری کی مجالس کے سماجی اور ثقافتی اثرات کے حوالے سے تشویش رکھتے ہیں۔ ہیئت امورِ قیدیانِ بحرین نے زور دے کر کہا کہ یہ پابندیاں ان متعدد اقدامات کا تسلسل ہیں جو گزشتہ برسوں کے دوران مختلف علماء، خطباء اور مذہبی شخصیات کے خلاف گرفتاریوں، طلبیوں اور دباؤ کی صورت میں سامنے آتے رہے ہیں۔ بیان کے مطابق ایسی پالیسیوں کا تسلسل مذہبی شعائر کی آزادانہ ادائیگی اور بحرینی معاشرے کی دینی و ثقافتی شناخت کے تحفظ پر منفی اثرات مرتب کر سکتا ہے۔