بین اسٹوکس نے ٹیسٹ میں سابق ہم وطن کھلاڑی کا ریکارڈ برابر کر دیا
اشاعت کی تاریخ: 3rd, July 2025 GMT
کراچی:
انگینڈ کی ٹیسٹ ٹیم کے کپتان اور آل راؤنڈر بین اسٹوکس نے سابق ہم وطن کھلاڑی کا زیادہ وکٹوں کا ریکارڈ برابر کر دیا۔
برمنگھم میں جاری دوسرے ٹیسٹ کے دوران بین اسٹوکس نے بھارتی اوپنر یشسوی جیسوال کی وکٹ لیکر یہ کارنامہ سر انجام دیا۔
جیسوال اس وقت 87 رنز بنا کر وکٹ پر موجود تھے، بین اسٹوکس نے مؤثر منصوبہ بندی کے تحت بھارتی کھلاڑی کو پویلین کی راہ دکھائی۔
سابق انگلش فاسٹ بولر اینڈریو فلنٹوف نے 78 میچز کی 135 اننگز کے دوران 219 وکٹیں اپنے نام کی تھیں جبکہ بین اسٹوکس نے 113 میچز کی 165 اننگز کے دوران زیادہ وکٹوں کا ریکارڈ برابر کر دیا۔
بین اسٹوکس نے اب تک نو مرتبہ 4 اور چار مرتبہ 5 وکٹیں لینے کا اعزاز حاصل کر رکھا ہے جبکہ اینڈریو فلنٹوف نے دس مرتبہ 4 اور تین مرتبہ 5 وکٹیں لینے کا اعزاز اپنے نام کیا تھا۔
.
ذریعہ
ذریعہ: Express News
کلیدی لفظ: بین اسٹوکس نے
پڑھیں:
امریکا، اسرائیل کو جارحیت کے دوران ایرانی فضائی دفاع نے بھاری نقصان پہنچایا، ایرانی کمانڈر
ایران کی ایئرڈیفنس کے جوائنٹ ہیڈکوارٹرز کے کمانڈر بریگیڈیئر جنرل علی رضا الہامی نے کہا ہے کہ امریکا اور اسرائیل کو جنگ بندی سے قبل جارحیت کے دوران فضائی جنگی صلاحیت اور آلات کو بڑا نقصان پہنچایا۔
ایرانی میڈیا کی رپورٹ کے مطابق بریگیڈیئر جنرل علی رضا الہامی نے ایک انٹرویو میں کہا کہ امریکا اور اسرائیل کو جنگ کے دوران جدید ڈرونز سمیت جنگی آلات کی مد میں کروڑ ڈالر کا نقصان پہنچایا۔
علی رضا الہامی نے کہا کہ امریکا اور اسرائیل کو پہنچنے والے نقصانات سے انہیں ایران کے اندر اپنے اہداف کی نشان دہی اور نشانہ بنانے کی صلاحیت پر بدترین اثر پڑا اور اس کے نتیجے میں فضائی کارروائی کی صلاحیت محدود ہوگئی۔
انہوں نے کہا کہ ایران نے منفرد اور مؤثر جواب کے لیے ڈسپرشن، الیکٹرونک ڈسپشن اور درست نشانہ پر حملوں جیسی ذہین حکمت عملیوں کا استعمال کیا گیا، دشمن کے فضائی حملوں کے اثرات کو نمایاں طور پر کم کر دیا اور اس کی ڈرون صلاحیتوں کو بھی کمزور کر دیا۔
کمانڈر نے کہا کہ ایرانی ایئرڈیفنس نے امریکا اور اسرائیل کے ایئرکرافٹ، ایم کیو-9 ریپر، ہرمیس 900، آربیٹر، لیوکاس اور ہیرمس 450 اور جنگی لڑاکا طیاروں کی فلیٹ کا مقابلہ کرنے کے لیے ریڈار ڈیٹا پروسیسنگ اور دیگر ٹیکنالوجی کا استعمال کیا، دشمن کو اپنے فائر پاور اور جدید ٹیکنالوجی پر انحصار تھا۔
علی رضا الہامی نے کہا کہ ایران کے جدید اور مربوط فضائی دفاعی نیٹ ورک نے حملہ آور دشمنوں کی فضائی قوت کو ایسا بھاری نقصان پہنچایا جو فضائی جنگوں کی تاریخ کے بدترین نقصانات میں شمار ہوتے ہیں۔