اپوزیشن اخلاقی جرات کا مظاہرہ کرے، مخصوص نشستیں لینے سے انکار کرے، بیرسٹر سیف
اشاعت کی تاریخ: 8th, July 2025 GMT
خیبرپختونخوا حکومت کے مشیر اطلاعات بیرسٹر سیف نے اپوزیشن جماعتوں کو آڑے ہاتھوں لیتے ہوئے مطالبہ کیا ہے کہ مولانا فضل الرحمن اور دیگر اپوزیشن رہنما مخصوص نشستیں لینے سے انکار کر کے اخلاقی جرات کا مظاہرہ کریں اپنے بیان میں بیرسٹر سیف کا کہنا تھا کہ اگر اپوزیشن جماعتوں میں واقعی اخلاقی اصولوں کی پاسداری ہے تو وہ مخصوص نشستیں قبول نہ کریں کیونکہ یہ نشستیں صرف تحریک انصاف کا حق ہیں جنہیں عدالتی فیصلے کے ذریعے دوسروں میں تقسیم کیا جا رہا ہے انہوں نے الزام عائد کیا کہ فارم 47 کے ذریعے پہلے پی ٹی آئی کا مینڈیٹ چرایا گیا اور اب مخصوص نشستوں کو نیلامی پر لگا دیا گیا ہے جعلی حکومت نے پی ٹی آئی کے خاتمے کے لیے ہر ممکن حربہ آزمایا مگر ناکام رہی اور اس کے برعکس پارٹی مزید مضبوط ہو کر ابھری ہے بیرسٹر سیف نے امیر حیدر خان ہوتی کے مخصوص نشست نہ لینے کے اعلان کو خوش آئند قرار دیا اور کہا کہ مولانا فضل الرحمن کو بھی اسی طرح اسلامی کردار اور اخلاقی جرات کا مظاہرہ کرتے ہوئے مخصوص نشستیں لینے سے گریز کرنا چاہیے ترجمان کے مطابق مولانا فضل الرحمن نے 26ویں آئینی ترمیم کے وقت پی ٹی آئی کا ساتھ چھوڑا تھا مگر اب انہیں سیاسی مصلحت سے ہٹ کر اصولی مؤقف اپنانا ہوگا
.
ذریعہ
ذریعہ: Nawaiwaqt
کلیدی لفظ: مخصوص نشستیں بیرسٹر سیف
پڑھیں:
مہاجرین کی نشستوں کے مستقبل پر بڑا فیصلہ قریب، اہم پیش رفت سامنے آگئی
مظفرآباد: مہاجرین کی نشستیں آزاد جموں و کشمیر کی سیاست میں ایک بار پھر توجہ کا مرکز بن گئی ہیں، جہاں ان نشستوں کے مستقبل سے متعلق اہم پیش رفت سامنے آئی ہے۔ ذرائع کے مطابق وفاقی حکومت نے اس معاملے پر نرم رویہ اختیار کرتے ہوئے مکمل خاتمے کے بجائے نشستوں کی تعداد میں کمی کی تجویز پر غور شروع کر دیا ہے۔
ذرائع کا کہنا ہے کہ وادی کشمیر سے تعلق رکھنے والے مہاجرین کی چھ نشستیں کم کرنے کی ابتدائی تجویز زیر غور ہے۔ اس پیش رفت کو انتخابی اصلاحات کے حوالے سے ایک اہم قدم قرار دیا جا رہا ہے، جس سے طویل عرصے سے جاری سیاسی بحث کو کسی نتیجے تک پہنچانے میں مدد مل سکتی ہے۔
اطلاعات کے مطابق وفاقی حکومت جلد آزاد کشمیر کی قیادت کو اپنے مؤقف سے آگاہ کرے گی۔ اس سلسلے میں وزیراعظم آزاد کشمیر کی جانب سے جوائنٹ پبلک ایکشن کمیٹی سے رابطے کا بھی امکان ظاہر کیا جا رہا ہے تاکہ مختلف سیاسی اور سماجی حلقوں کو اعتماد میں لیا جا سکے۔
دوسری جانب آزاد کشمیر میں انتخابی اصلاحات کے موضوع پر کل ہونے والی آل پارٹیز کانفرنس بھی غیر معمولی اہمیت اختیار کر گئی ہے۔ سیاسی مبصرین کا کہنا ہے کہ مہاجرین کی نشستیں کم کرنے کی تجویز پر اتفاق رائے پیدا ہونے سے انتخابی نظام میں اصلاحات کی راہ ہموار ہو سکتی ہے۔
ذرائع کے مطابق اس معاملے پر مختلف سیاسی جماعتوں اور اسٹیک ہولڈرز کے درمیان مشاورت جاری ہے، جبکہ وفاقی حکومت بھی ایسا حل تلاش کرنے کی کوشش کر رہی ہے جو تمام فریقوں کے لیے قابل قبول ہو۔
سیاسی حلقوں کا ماننا ہے کہ اگر اس معاملے پر اتفاق رائے پیدا ہو جاتا ہے تو یہ آزاد کشمیر کی سیاسی تاریخ میں ایک اہم سنگ میل ثابت ہو سکتا ہے۔