خیبرپختونخوا حکومت کے مشیر اطلاعات بیرسٹر سیف نے اپوزیشن جماعتوں کو آڑے ہاتھوں لیتے ہوئے مطالبہ کیا ہے کہ مولانا فضل الرحمن اور دیگر اپوزیشن رہنما مخصوص نشستیں لینے سے انکار کر کے اخلاقی جرات کا مظاہرہ کریں اپنے بیان میں بیرسٹر سیف کا کہنا تھا کہ اگر اپوزیشن جماعتوں میں واقعی اخلاقی اصولوں کی پاسداری ہے تو وہ مخصوص نشستیں قبول نہ کریں کیونکہ یہ نشستیں صرف تحریک انصاف کا حق ہیں جنہیں عدالتی فیصلے کے ذریعے دوسروں میں تقسیم کیا جا رہا ہے انہوں نے الزام عائد کیا کہ فارم 47 کے ذریعے پہلے پی ٹی آئی کا مینڈیٹ چرایا گیا اور اب مخصوص نشستوں کو نیلامی پر لگا دیا گیا ہے جعلی حکومت نے پی ٹی آئی کے خاتمے کے لیے ہر ممکن حربہ آزمایا مگر ناکام رہی اور اس کے برعکس پارٹی مزید مضبوط ہو کر ابھری ہے بیرسٹر سیف نے امیر حیدر خان ہوتی کے مخصوص نشست نہ لینے کے اعلان کو خوش آئند قرار دیا اور کہا کہ مولانا فضل الرحمن کو بھی اسی طرح اسلامی کردار اور اخلاقی جرات کا مظاہرہ کرتے ہوئے مخصوص نشستیں لینے سے گریز کرنا چاہیے ترجمان کے مطابق مولانا فضل الرحمن نے 26ویں آئینی ترمیم کے وقت پی ٹی آئی کا ساتھ چھوڑا تھا مگر اب انہیں سیاسی مصلحت سے ہٹ کر اصولی مؤقف اپنانا ہوگا

.

ذریعہ

ذریعہ: Nawaiwaqt

کلیدی لفظ: مخصوص نشستیں بیرسٹر سیف

پڑھیں:

مہاجرین کی نشستوں کے مستقبل پر بڑا فیصلہ قریب، اہم پیش رفت سامنے آگئی

مظفرآباد: مہاجرین کی نشستیں آزاد جموں و کشمیر کی سیاست میں ایک بار پھر توجہ کا مرکز بن گئی ہیں، جہاں ان نشستوں کے مستقبل سے متعلق اہم پیش رفت سامنے آئی ہے۔ ذرائع کے مطابق وفاقی حکومت نے اس معاملے پر نرم رویہ اختیار کرتے ہوئے مکمل خاتمے کے بجائے نشستوں کی تعداد میں کمی کی تجویز پر غور شروع کر دیا ہے۔

ذرائع کا کہنا ہے کہ وادی کشمیر سے تعلق رکھنے والے مہاجرین کی چھ نشستیں کم کرنے کی ابتدائی تجویز زیر غور ہے۔ اس پیش رفت کو انتخابی اصلاحات کے حوالے سے ایک اہم قدم قرار دیا جا رہا ہے، جس سے طویل عرصے سے جاری سیاسی بحث کو کسی نتیجے تک پہنچانے میں مدد مل سکتی ہے۔

اطلاعات کے مطابق وفاقی حکومت جلد آزاد کشمیر کی قیادت کو اپنے مؤقف سے آگاہ کرے گی۔ اس سلسلے میں وزیراعظم آزاد کشمیر کی جانب سے جوائنٹ پبلک ایکشن کمیٹی سے رابطے کا بھی امکان ظاہر کیا جا رہا ہے تاکہ مختلف سیاسی اور سماجی حلقوں کو اعتماد میں لیا جا سکے۔

دوسری جانب آزاد کشمیر میں انتخابی اصلاحات کے موضوع پر کل ہونے والی آل پارٹیز کانفرنس بھی غیر معمولی اہمیت اختیار کر گئی ہے۔ سیاسی مبصرین کا کہنا ہے کہ مہاجرین کی نشستیں کم کرنے کی تجویز پر اتفاق رائے پیدا ہونے سے انتخابی نظام میں اصلاحات کی راہ ہموار ہو سکتی ہے۔

ذرائع کے مطابق اس معاملے پر مختلف سیاسی جماعتوں اور اسٹیک ہولڈرز کے درمیان مشاورت جاری ہے، جبکہ وفاقی حکومت بھی ایسا حل تلاش کرنے کی کوشش کر رہی ہے جو تمام فریقوں کے لیے قابل قبول ہو۔

سیاسی حلقوں کا ماننا ہے کہ اگر اس معاملے پر اتفاق رائے پیدا ہو جاتا ہے تو یہ آزاد کشمیر کی سیاسی تاریخ میں ایک اہم سنگ میل ثابت ہو سکتا ہے۔

متعلقہ مضامین

  • ایمریٹس کپتان دنیا کے سب سے زیادہ معاوضہ لینے والے پائلٹس میں شامل
  • کے پی اسمبلی میں حکومتی ناراض ارکان کا مذاکرات سے انکار
  • متوسط اور تنخواہ دار طبقہ پس رہا ہے، حکومت بجٹ میں سہولیات دے، حافظ نعیم الرحمن
  • مہاجرین کی نشستوں کے مستقبل پر بڑا فیصلہ قریب، اہم پیش رفت سامنے آگئی