جسٹس جنید غفار سندھ ہائیکورٹ کے نئے چیف جسٹس بن گئے
اشاعت کی تاریخ: 8th, July 2025 GMT
گورنر کامران خان ٹیسوری نے چیف جسٹس سندھ ہائیکورٹ سے ان کے عہدے کا حلف لیا۔ تقریب حلف برداری میں وزیر اعلیٰ سندھ سید مراد علی شاہ ، ایڈووکیٹ جنرل سندھ جواد ڈیرو، قونصل جنرل آف جاپان، قونصل جنرل متحدہ عرب امرات، قونصل جنرل سعودی عرب، قونصل جنرل اومان، قونصل جنرل بنگلہ دیش سمیت دیگر موجود تھے۔ اسلام ٹائمز۔ جسٹس جنید غفار سندھ ہائیکورٹ کے نئے چیف جسٹس بن گئے۔ کراچی میں گورنر ہاؤس سندھ میں جسٹس محمد جنید غفار نے چیف جسٹس سندھ ہائیکورٹ کا حلف اٹھایا، گورنر کامران خان ٹیسوری نے چیف جسٹس سندھ ہائیکورٹ سے ان کے عہدے کا حلف لیا، تقریب حلف برداری پہلی بار اس جگہ ہوئی جہاں بانی پاکستان قائد اعظم محمد علی جناح نے پہلے گورنر جنرل کے عہدہ کا حلف لیا تھا۔ تقریب حلف برداری میں وزیر اعلیٰ سندھ سید مراد علی شاہ ، ایڈووکیٹ جنرل سندھ جواد ڈیرو، قونصل جنرل آف جاپان، قونصل جنرل متحدہ عرب امرات، قونصل جنرل سعودی عرب، قونصل جنرل اومان، قونصل جنرل بنگلہ دیش، سندھ ہائیکورٹ کے جسٹس عمر سیال، جسٹس ارشد حسین، جسٹس آغا فیصل، جسٹس ذولفقار سانگی، جسٹس مبین لاکھو اور دیگر ججز سمیت انسپکٹر جنرل (آئی جی) سندھ پولیس غلام نبی میمن بھی موجود تھے۔ جسٹس جنید غفار سندھ ہائیکورٹ نے چھبیسویں چیف جسٹس بن گئے، جس کے بعد چیف جسٹس سندھ ہائیکورٹ نے مزار قائد پر حاضری دی، فاتحہ خوانی کی اور پھولوں کی چادر چڑھائی۔
.
ذریعہ
ذریعہ: Islam Times
کلیدی لفظ: چیف جسٹس سندھ ہائیکورٹ جنید غفار کا حلف
پڑھیں:
باپ اپنے نابالغ بچے کے نان و نفقہ کی ذمہ داری سے بری الذمہ نہیں ہو سکتا ،لاہور ہائیکورٹ
لاہور (اُردو پوائنٹ اخبارتازہ ترین - اے پی پی۔ 02 جون2026ء) لاہور ہائیکورٹ نے قرار دیا ہے کہ مالی مشکلات یا کسی نجی معاہدے کی بنیاد پر باپ اپنے نابالغ بچے کے نان و نفقہ کی ذمہ داری سے بری الذمہ نہیں ہو سکتا اور یہ ذمہ داری اسلامی تعلیمات کے مطابق مستقل اور قابل نفاذ فریضہ ہے۔جسٹس محسن اختر کیانی نے 15 صفحات پر مشتمل تفصیلی فیصلہ جاری کرتے ہوئے باپ اختر حسین اعوان کی درخواست خارج کر دی اور فیملی کورٹ و اپیلٹ کورٹ کے فیصلے برقرار رکھے۔عدالت نے قرار دیا کہ نابالغ بچے کا نان و نفقہ صرف قانونی نہیں بلکہ اخلاقی اور مذہبی ذمہ داری بھی ہے۔ غیر ادا شدہ نان و نفقہ باپ پر قرض تصور ہوگا جو وقت گزرنے سے ختم نہیں ہو سکتا۔فیصلے میں سور البقرہ، سور الطلاق اور متعدد احادیث نبوی کے حوالے دیتے ہوئے کہا گیا کہ معاہدے یا رضامندی کے ذریعے نابالغ بچے کے حقوق ختم نہیں کیے جا سکتے، خصوصا جب بچہ معذوری کی حالت میں ہو۔(جاری ہے)
درخواست گزار کا موقف تھا کہ 2005 میں فریقین کے درمیان ہونے والے رضامندی نامے کے تحت تاحیات خرچہ طے ہو چکا تھا اور ماضی کے نان و نفقہ کی وصولی قانونا چھ سال سے زائد مدت کے لیے نہیں کی جا سکتی۔عدالت نے ماضی کے نان و نفقہ سے متعلق اسلامی اصولوں کی روشنی میں نئی قانون سازی کی سفارش کرتے ہوئے فیصلے کی نقل لا اینڈ جسٹس کمیشن اور وزارت قانون و انصاف کو ارسال کرنے کا حکم بھی دیا۔