بھارت میں سوشل میڈیا اکاؤنٹس کی بندش پر ’ایکس‘ کا سخت ردعمل آگیا
اشاعت کی تاریخ: 8th, July 2025 GMT
سوشل میڈیا پلیٹ فارم ایکس نے مودی سرکار کی جانب سے بھارت میں خبررساں ایجنسی رائٹرز سمیت 2 ہزار 355 اکاؤنٹس کو بلاک کرنے کے احکامات پر سخت رد عمل کا اظہار کیا ہے۔
غیر ملکی خبررساں ادارے کے مطابق بھارت میں بہت سے بلاک کیے گئے اکاؤنٹس چند گھنٹوں بعد ہی بحال کر دیے گئے تھے جب کہ نئی دہلی نے اس عمل میں اپنا کوئی کردار ہونے کی تردید کی۔
دنیا کی سب سے بڑی جمہوریت کہلانے والا بھارت سوشل میڈیا مواد کو ہٹانے کی سرکاری درخواستوں کے حوالے سے سرفہرست 5 ممالک میں شامل رہا ہے۔
ایکس کی گلوبل گورنمنٹ افیئرز ٹیم نے اپنے پلیٹ فارم پر جاری کردہ ایک بیان میں کہا کہ 3 جولائی 2025 کو بھارتی حکومت نے سوشل میڈیا پلیٹ فارم ’ایکس‘ کو بھارت میں 2 ہزار 355 اکاؤنٹس بلاک کرنے کا حکم دیا، جن میں غیر ملکی خبررساں ایجنسی رائٹرز کے دو اکاؤنٹس بھی شامل تھے۔
بیان میں کہا گیا کہ بھارت کی وزارتِ الیکٹرانکس نے ’کسی وضاحت کے بغیر ایک گھنٹے کے اندر فوری کارروائی کا مطالبہ کرتے ہوئے کہا کہ یہ اکاؤنٹس اگلے احکامات تک بلاک رہیں۔
ایکس کی جانب سے جاری بیان کے مطابق اگر ہم بھارتی حکومت کے اس حکم پر عمل نہیں کرتے تو ہمارے خلاف کارروائی کا خطرہ تھا۔
بیان میں مزید کہا گیا ’عوامی احتجاج کے بعد حکومت نے ایکس سے رائٹرز کے دونوں اکاؤنٹس کو بحال کرنے کی درخواست کی‘۔
بیان میں کہا گیا ’ہم بھارت میں جاری پریس سنسرشپ پر گہری تشویش کا اظہار کرتے ہیں‘۔
انسانی حقوق کی تنظیموں کا کہنا ہے کہ بھارت میں آزادیِ اظہار اور آزاد صحافت 2014 میں ہندو قوم پرست وزیرِ اعظم نریندر مودی کے اقتدار میں آنے کے بعد سے خطرے میں ہے۔
نئی دہلی نے ماضی میں ہنگامی حالات کے دوران کئی بار مکمل انٹرنیٹ کی بندش کی گئی۔
اپریل میں بھارت نے سوشل میڈیا پر کریک ڈاؤن کرتے ہوئے ایک درجن سے زائد پاکستانی یوٹیوب چینلز پر پابندی عائد کر دی تھی، جن پر کشمیر کے علاقے پہلگام میں حملے کے بعد ’اشتعال انگیز‘ مواد پھیلانے کا الزام تھا۔
نئی دہلی نے 2023 سے شمال مشرقی ریاست منی پور میں نسلی تشدد کے بعد وقفے وقفے سے انٹرنیٹ سروس بھی معطل کر رکھی ہے۔
بھارتی حکومت نے انٹرنیٹ اور سوشل میڈیا پر پابندیوں کو ملک میں گمراہ کن معلومات کے پھیلاؤ کو روکنے کا ایک ذریعہ قرار دیا ہے، جہاں کروڑوں افراد کو دنیا کے سب سے سستے موبائل انٹرنیٹ پیکجز میسر ہیں۔
ذریعہ
ذریعہ: Daily Mumtaz
کلیدی لفظ: سوشل میڈیا بھارت میں اکاو نٹس کے بعد
پڑھیں:
امریکا کے ایران پر مسلسل 13ویں شب بھی حملے، ٹرمپ نے مزید بڑی کارروائی کا عندیہ دے دیا، تہران کا سخت ردعمل
امریکا نے ایران کے خلاف مسلسل تیرہویں رات بھی فضائی حملے کیے ہیں، جبکہ امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ نے عندیہ دیا ہے کہ وہ ایران کے خلاف ’بہت بڑے حملے‘ کا فیصلہ کرنے کے قریب ہیں۔ دوسری جانب ایران نے خبردار کیا ہے کہ امریکی جارحیت میں مزید اضافہ ہوا تو اس کی قیمت واشنگٹن کو پہلے سے کہیں زیادہ چکانا پڑے گی۔
امریکی سینٹرل کمانڈ (سینٹکام) کے مطابق تازہ کارروائی 2 گھنٹے سے زائد جاری رہی، جس کے دوران ایران کے فوجی اہداف کو نشانہ بنایا گیا۔ امریکی فوج کا کہنا ہے کہ ان حملوں کا مقصد ایران کی عسکری صلاحیت، بالخصوص ساحلی نگرانی، فضائی دفاع اور فوجی انفراسٹرکچر کو مزید کمزور کرنا ہے۔
یہ بھی پڑھیں:ایران امریکا کشیدگی پھر شدت اختیار کرگئی، کیا مشرق وسطیٰ ایک بڑی جنگ کے دہانے پر ہے؟
ادھر امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ نے صحافیوں سے گفتگو میں کہا کہ ایران نے ابھی تک ’کافی تکلیف نہیں دیکھی‘ اور وہ ایک بڑے پیمانے کے حملے کے بارے میں فیصلہ کرنے کے قریب ہیں۔ امریکی صدر کے اس بیان نے خطے میں کشیدگی مزید بڑھا دی ہے اور عالمی سطح پر خدشات میں اضافہ ہوا ہے کہ جنگ مزید وسیع ہو سکتی ہے۔
ایران کے وزیر خارجہ عباس عراقچی نے امریکی دھمکیوں پر ردعمل دیتے ہوئے کہا کہ ’بے معنی جارحیت‘ کسی مسئلے کا حل نہیں بلکہ اس سے امریکا کو زیادہ بھاری قیمت ادا کرنا پڑے گی۔ ایرانی قیادت کا کہنا ہے کہ ملک اپنی خودمختاری اور دفاع پر کوئی سمجھوتہ نہیں کرے گا۔
???? 13TH STRAIGHT NIGHT OF POUNDING IRAN.
U.S. forces just completed another round of strikes on Iranian military targets.
Command centers.
Drone storage.
Communication networks.
Coastal surveillance.
Maritime capabilities.
AMERICA KEEPS WINING ✌️???????????????? https://t.co/0y5aM7FeEr pic.twitter.com/0AWYpSnco6
— Xander Xand (@Xander24Xand) July 24, 2026
ایرانی ذرائع ابلاغ کے مطابق گزشتہ چند گھنٹوں کے دوران تہران، خنداب، خرم آباد، کنارک اور جاسک سمیت مختلف شہروں میں دھماکوں، میزائل حملوں اور فضائی دفاعی نظام کی سرگرمیوں کی اطلاعات موصول ہوئی ہیں۔ بعض علاقوں میں فضائی دفاعی نظام نے آنے والے اہداف کو روکنے کی کوشش کی، تاہم نقصانات کی مکمل تفصیلات فوری طور پر سامنے نہیں آسکیں۔
دوسری جانب برطانیہ نے اعلان کیا ہے کہ اگر اس کے مفادات یا سرزمین کو کسی بھی قسم کا خطرہ لاحق ہوا تو اس کی مسلح افواج دفاع کے لیے مکمل طور پر تیار ہیں۔ یہ بیان ایران کی پاسدارانِ انقلاب کی اس وارننگ کے بعد سامنے آیا، جس میں کہا گیا تھا کہ اگر امریکی بمبار طیارے برطانوی اڈوں سے ایران پر حملوں کے لیے استعمال ہوئے تو ان اڈوں کو بھی ممکنہ اہداف سمجھا جا سکتا ہے۔
???????? U.S. STRIKES IRAN FOR 13TH CONSECUTIVE NIGHT
The U.S. military has launched another round of strikes against Iran, marking the 13th consecutive night of attacks.
CENTCOM: “US forces started another night of strikes against Iranian military targets at 6:45 p.m. ET (2245 GMT)… pic.twitter.com/iDXtuU2CJE
— Mossad Commentary (@MOSSADil) July 24, 2026
بین الاقوامی ذرائع ابلاغ کے مطابق جنگ کے پھیلنے سے عالمی توانائی منڈی شدید دباؤ کا شکار ہے۔ بحیرہ احمر اور آبنائے ہرمز میں کشیدگی بڑھنے کے باعث خام تیل کی قیمت 100 ڈالر فی بیرل سے تجاوز کر گئی، جبکہ عالمی منڈیوں میں بھی غیر یقینی صورتحال دیکھی جا رہی ہے۔ تجزیہ کاروں کا کہنا ہے کہ اگر تنازع مزید شدت اختیار کرتا ہے تو عالمی تجارت اور تیل کی سپلائی بری طرح متاثر ہو سکتی ہے۔
اقوام متحدہ کے سیکریٹری جنرل انتونیو گوتریس نے بھی صورتحال پر شدید تشویش کا اظہار کرتے ہوئے خبردار کیا ہے کہ مشرقِ وسطیٰ ایک ایسے موڑ پر پہنچ چکا ہے جہاں مزید عسکری کارروائیاں پورے خطے کو ایک بڑے بحران میں دھکیل سکتی ہیں۔ انہوں نے تمام فریقوں پر زور دیا ہے کہ کشیدگی کم کرنے اور سفارتی حل تلاش کرنے کی کوششیں تیز کی جائیں۔
آپ اور آپ کے پیاروں کی روزمرہ زندگی کو متاثر کرسکنے والے واقعات کی اپ ڈیٹس کے لیے واٹس ایپ پر وی نیوز کا ’آفیشل گروپ‘ یا ’آفیشل چینل‘ جوائن کریں
امریکا ایران خلیج صدر ٹرمپ مشرق وسطیٰ