سوشل میڈیا پلیٹ فارم ایکس نے مودی سرکار کی جانب سے بھارت میں خبررساں ایجنسی رائٹرز سمیت 2 ہزار 355 اکاؤنٹس کو بلاک کرنے کے احکامات پر سخت رد عمل کا اظہار کیا ہے۔
غیر ملکی خبررساں ادارے کے مطابق بھارت میں بہت سے بلاک کیے گئے اکاؤنٹس چند گھنٹوں بعد ہی بحال کر دیے گئے تھے جب کہ نئی دہلی نے اس عمل میں اپنا کوئی کردار ہونے کی تردید کی۔
دنیا کی سب سے بڑی جمہوریت کہلانے والا بھارت سوشل میڈیا مواد کو ہٹانے کی سرکاری درخواستوں کے حوالے سے سرفہرست 5 ممالک میں شامل رہا ہے۔
ایکس کی گلوبل گورنمنٹ افیئرز ٹیم نے اپنے پلیٹ فارم پر جاری کردہ ایک بیان میں کہا کہ 3 جولائی 2025 کو بھارتی حکومت نے سوشل میڈیا پلیٹ فارم ’ایکس‘ کو بھارت میں 2 ہزار 355 اکاؤنٹس بلاک کرنے کا حکم دیا، جن میں غیر ملکی خبررساں ایجنسی رائٹرز کے دو اکاؤنٹس بھی شامل تھے۔
بیان میں کہا گیا کہ بھارت کی وزارتِ الیکٹرانکس نے ’کسی وضاحت کے بغیر ایک گھنٹے کے اندر فوری کارروائی کا مطالبہ کرتے ہوئے کہا کہ یہ اکاؤنٹس اگلے احکامات تک بلاک رہیں۔
ایکس کی جانب سے جاری بیان کے مطابق اگر ہم بھارتی حکومت کے اس حکم پر عمل نہیں کرتے تو ہمارے خلاف کارروائی کا خطرہ تھا۔
بیان میں مزید کہا گیا ’عوامی احتجاج کے بعد حکومت نے ایکس سے رائٹرز کے دونوں اکاؤنٹس کو بحال کرنے کی درخواست کی‘۔
بیان میں کہا گیا ’ہم بھارت میں جاری پریس سنسرشپ پر گہری تشویش کا اظہار کرتے ہیں‘۔
انسانی حقوق کی تنظیموں کا کہنا ہے کہ بھارت میں آزادیِ اظہار اور آزاد صحافت 2014 میں ہندو قوم پرست وزیرِ اعظم نریندر مودی کے اقتدار میں آنے کے بعد سے خطرے میں ہے۔
نئی دہلی نے ماضی میں ہنگامی حالات کے دوران کئی بار مکمل انٹرنیٹ کی بندش کی گئی۔
اپریل میں بھارت نے سوشل میڈیا پر کریک ڈاؤن کرتے ہوئے ایک درجن سے زائد پاکستانی یوٹیوب چینلز پر پابندی عائد کر دی تھی، جن پر کشمیر کے علاقے پہلگام میں حملے کے بعد ’اشتعال انگیز‘ مواد پھیلانے کا الزام تھا۔
نئی دہلی نے 2023 سے شمال مشرقی ریاست منی پور میں نسلی تشدد کے بعد وقفے وقفے سے انٹرنیٹ سروس بھی معطل کر رکھی ہے۔
بھارتی حکومت نے انٹرنیٹ اور سوشل میڈیا پر پابندیوں کو ملک میں گمراہ کن معلومات کے پھیلاؤ کو روکنے کا ایک ذریعہ قرار دیا ہے، جہاں کروڑوں افراد کو دنیا کے سب سے سستے موبائل انٹرنیٹ پیکجز میسر ہیں۔

Post Views: 5.

ذریعہ

ذریعہ: Daily Mumtaz

کلیدی لفظ: سوشل میڈیا بھارت میں اکاو نٹس کے بعد

پڑھیں:

اے این پی نے سوشل میڈیا پر مذہبی اشتعال انگیز مہم کیخلاف این سی سی آئی اے میں درخواست جمع کرادی

پشاور(ڈیلی پاکستان آن لائن)عوامی نیشنل پارٹی (اے این پی) کے خلاف  سوشل میڈیا پر مذہبی اشتعال انگیز مہم کے معاملے پر اے این پی کے صوبائی صدر  میاں افتخار حسین نے نیشنل  سائبرکرائم  انوسٹی گیشن ایجنسی (این سی سی آئی اے)  میں  درخواست جمع کرادی۔

 ایک شخص کےخلاف آئی جی اور سیکرٹری داخلہ کو بھی درخواست دی گئی ہے۔

نجی ٹی وی چینل جیو نیوز کے مطابق میاں افتخار کا کہنا ہے کہ اے این پی کے خلاف سوشل میڈیا  پر مذہبی بنیادوں  پر نفرت انگیز اور اشتعال انگیز  مہم  قابل مذمت ہے، پارٹی کے خلاف نفرت پھیلا کر  سیاسی فائدہ حاصل کرنے کی کوشش کی جارہی ہے، اے این پی آئین کی بالادستی، جمہوریت، عدم تشدد  اور انتہا پسندی کے خلاف جدوجہد کی علمبردار ہے۔

امریکی فورسز نے متعدد ایرانی بیلسٹک میزائل اور ڈرونز کو تباہ کر دیا: سینٹکام

میاں افتخار نے مطالبہ کیا ہےکہ  این سی سی آئی اے، آئی جی اور سیکرٹری داخلہ فوری  اور شفاف  تحقیقات کرائیں، نفرت انگیز مواد  پھیلانے اور جھوٹے بیانیے تشکیل دینے والوں کے خلاف کارروائی کی جائے۔

مزید :

متعلقہ مضامین

  • ایچ ای سی نے ڈیٹا لیک سے متعلق سوشل میڈیا پر گردش کرنے وا لی خبروں کی تردید کردی
  • ڈیٹا لیک ہونے کی خبریں؛ہائر ایجوکیشن کمیشن کی وضاحت آگئی
  • انتقال کی خبریں بے بنیاد،طاہرہ سید نے ویڈیو پیغام جاری کر دیا
  • طاہرہ سید کے انتقال کی افواہیں، گلوکارہ کا ویڈیو پیغام سامنے آگیا
  • روس سے طالبان کے بڑھتے روابط پر افغان سوشل میڈیا میں بحث، ملا عمر کی جدوجہد اور موجودہ پالیسیوں کا موازنہ
  • اے این پی نے سوشل میڈیا پر مذہبی اشتعال انگیز مہم کیخلاف این سی سی آئی اے میں درخواست جمع کرادی
  • بھارت میں ’کاکروچ جنتا پارٹی‘ کیا ہے اور یہ بھارتی حکومت کے لیے دردِ سر کیوں بن گئی ہے؟
  • میں بالکل ٹھیک اور صحت مند ہوں؛گلوکارہ طاہرہ سید کی سوشل میڈیا افواہوں کی تردید
  • معروف میکسیکن انفلوئنسر گھر میں مردہ پائی گئیں، قتل کا شبہ
  • میئر لندن، 16 سال سے کم عمر بچوں کیلئے سوشل میڈیا پر پابندی کی حمایت