Daily Ausaf:
2026-06-03@00:25:50 GMT

نوراورظلمت کاتصادم

اشاعت کی تاریخ: 8th, July 2025 GMT

(گزشتہ سے پیوستہ)
مئی کی پاک بھارت جنگ میں امریکانے ابتدامیں’’لاتعلقی‘‘کارویہ اپناتے ہوئے کہا، ’’ہمارا اس سے کوئی لینادینانہیں‘‘۔مگرجیسے ہی اسرائیلی آپریٹڈ ڈرونزنے پاکستان پرحملے کیے، پاکستان نے بھرپورجوابی کارروائی کی۔ پاکستانی شاہینوں نے بھارت اور اسرائیل دونوں کو پیغام دیاکہ جس مقام سےیہ حملے کئےگئے ہیں،وہ ہماری دسترس میں ہیں، اسرائیلی آپریٹر مارے گئے۔ اسرائیل کی معاونت کاپردہ چاک ہوا،امریکی پالیسی میں زلزلہ آگیا۔اسرائیلی ہاروپ ڈرونزاور آپریٹرزکی ہلاکت نے واشنگٹن کویہ احساس دلایاکہ پاکستان کی صلاحیت محض روایتی محاذتک محدودنہیں۔ امریکانے سیزفائرکی دوڑاس لیے لگائی کیونکہ پاکستان کاممکنہ حملہ اسرائیل تک پھیل سکتاتھا۔ واشنگٹن جانتاتھاکہ پاکستان کی میزائل صلاحیت محض بھارت تک محدود نہیں۔امریکاکویہ بھی علم تھاکہ پاکستان اسرائیل پرناقابلِ تصور تباہی مسلط کرسکتاہے چنانچہ ٹرمپ نے فوراسیزفائرکی دوڑدھوپ شروع کی۔
مئی کی جنگ میں اسرائیلی(ہاروپ ڈرون) کابھارت کی مددکوآنا،امریکاکاابتدائی طورپرغیر جانبداری کاڈرامہ،پاکستان کی جوابی کارروائی پرسیزفائرکی بھاگ دوڑیہ ظاہرکرتاہے کہ تہذیبوں کا تصادم محض تصوراتی نہیں،زمینی حقیقت بن چکاہے ۔حالیہ پاک بھارت جنگی محاذمحض پاکستان اور بھارت تک محدودنہیں تھا۔اسرائیلی ڈرونزاور آپریٹرز کامیدانِ کار زار میں شامل ہونااس امرکا ثبوت ہےکہ تہذیبی محاذآرائی اس خطے تک پھیل چکی ہے۔ امریکاکااسرائیل اوربھارت کی حمایت میں دوہر امعیار اس بات کاعکاس ہے کہ امریکا اس محاذمیں محض تماشائی نہیں بلکہ حصہ دارہے۔
حالیہ ایران اسرائیل جنگ میں امریکاکود پڑا ہے۔فردو،نطنزاوراصفہان کی جوہری تنصیبات پر امریکی حملےجہاں اس بات کااعلان ہیں کہ جب تک اسرائیل کی سلامتی کاضامن امریکاہے،اسے کوئی گزندتک نہیں پہنچاسکتاگویاتہذیبوں کاتصادم نئے باب میں داخل ہوچکاہے۔ امریکامیں برنی سینڈرزاوردیگرسیاسی رہنمائوں نے اس جارحانہ اقدام کی سخت مذمت کی۔
سینڈرزکاکہناتھاکہ امریکانے آئین کی خلاف ورزی کرتے ہوئے ایران پرحملہ کیا‘‘۔ گویا امریکانے ایران کی جوہری تنصیبات پرحملہ کرکے تہذیبوں کی جنگ کو مزید مہمیزدی ہے۔ امریکا کا ایران کی جوہری تنصیبات پرحملہ محض ایران کی عسکری صلاحیت کومفلوج کرنے کاعمل نہیں تھا ۔ اس کامقصدایران اور امریکا، اسرائیل کی محاذ آرائی کونئے عروج تک پہنچانا تھا۔یہ حملہ اس امر کا عکاس ہے کہ امریکابیک وقت دو محاذوں (روس اورچین)پر عسکری چیلنج کامتحمل نہیں۔اس لیے مشرقِ وسطی میں اسرائیل اور ایران کی محاذ آرائی کواستعمال کرتے ہوئے خطے کاتوازن بگاڑاجا رہاہے۔
حیرت کی بات یہ ہے کہ اوآئی سی نے ایران کی حمایت کااعلان محض24گھنٹے قبل کیالیکن امریکا نے اس اجلاس کی سیاہی خشک ہونے سے قبل حملہ کرکے اسلامی ممالک کوپیغام دیا کہ تمہاری قراردادوں اوربیانات کی حیثیت صفرہے۔اوآئی سی اجلاس اوراس کے بعدامریکاکاحملہ جہاں مسلم دنیاکی سیاسی کمزوری کاثبوت ہے وہاں ان ملکوں میں بسنے والے مسلمانوں کوبھی اپنی اس بے بسی کا علاج سوچنا ہوگاکہ ہم موجودہ حکمرانوں کے تسلط میں کب تک اس قعرمذلت میں اپنی غلامانہ روش پرقائم رہیں گے۔
مسلم امہ کی تزویراتی ناکامی کایہ سب سے زیادہ بزدلانہ فعل ہے کہ وہ محض قراردادوں اور نعروں تک محدودہے۔ایران،پاکستان اور دیگرمسلم ریاستوں کا جغرافیائی،اقتصادی اور عسکری مرکزبننے کاتصورمحض کتابی نعروں تک محدودہوکررہ گیاہے۔ادھرترکی نے اسرائیل کوامن کی راہ کا سب سے بڑاروڑاقراردیا اور اس حملے کو ’’مذاکرات کوسبوتاژکرنے‘‘کی سازش قراردیا۔ یہ حملے ایران اور امریکامذاکرات کوسبوتاژ کرنے کی دانستہ کوشش ہے،حقیقت یہ ہے یہ محض بیانات کادور ہے۔ مسلمانوں کارویہ بے بسی اور مصلحت کا شکار ہے ۔ مجھے آج عالم اسلام کے ایک عظیم مفکرمولانا مودودیؒ کایہ قول بری طرح ستارہاہے کہ جہاں طاقت اوراصول کامعرکہ ہو، وہاں محض گفتارکاحصہ کبھی تاریخ نہیں بن سکتا۔
چین کے لئے مشرق وسطی سستاتیل اورتجارتی راستوں کی ضمانت ہے۔چین،تجارتی راہداریوں اور مصلحتوں کی سیاست میں الجھاہواہے۔ کھلی جنگ چین کی معاشی راہداریوں کے لئے خطرہ ہے،اس لیے وہ محض بیانات تک محدودہے۔سوال یہ ہے کہ سستاتیل اورمشرقِ وسطی کی تزویراتی راہداریاں چین کی محض اقتصادی فکرتک محدودرہیں گی،یابیجنگ میدانِ عمل میں اترے گا؟روس اورچین کامحض الفاظ تک محدودرہنااس امرکاغمازہے کہ وہ سردجنگ جیسی محاذآرائی کاحصہ بننے کوتیارنہیں۔ روس اورچین کامحض بیانات تک محدودرہنا اس امر کاعندیہ ہے کہ طاقت کی سیاست میں محض الفاظ کی کوئی حیثیت نہیں۔ یقیناچین مشرقِ وسطی میں سستاتیل اورتجارتی روٹس کی حفاظت کاخواہاں ہے۔ اس لیے وہ امریکااور اسرائیل سے محاذآرائی کرنے کی بجائے مصالحانہ رویہ اپنائے ہوئے ہے۔ امریکانے ایران پرحملہ کر کے چین کویہ پیغام دیاہے کہ اس خطے کا سیاسی ، اقتصادی اور عسکری کنٹرول واشنگٹن کے ہاتھ میں ہے۔
پاکستان کے لئے اب سب سے بڑاچیلنج امریکا، بھارت،اسرائیل گٹھ جوڑہے۔مودی،نیتن یاہواور ٹرمپ کاتکون،پاکستان کومحاصرے میں لینا چاہتا ہے۔ امریکی پالیسی یہ ہے کہ اسرائیل اوربھارت کوپاکستان کیخلاف کھلی چھٹی دے دی جائے۔ پاکستان کامؤقف تاریخی،سیاسی اور ایمانی تناظر میں یوں ہے کہ پاکستان، مسلم دنیاکی واحد ذمہ دارایٹمی طاقت ہے۔اس حالیہ پاک بھارت جنگ میں پاکستان نے یہ ثابت بھی کردیا کہ پاکستان کنونشنل جنگ میں بھی بھارت اوراسرائیل کے ساتھ نمٹ سکتاہے اس لئے دشمن ٹرائیکانے ایک اوراوچھاوارکیا ہے۔
ہندوستان کے وزیرخارجہ نے سندھ طاس معاہدے کوتوڑدینے کااعلان کردیاہے اوردہمکی دی ہے کہ پاکستان کوایک قطرہ پانی بھی نہیں دیاجائے گاجبکہ پاکستان اس عمل کواعلانِ جنگ قراردے چکاہے۔یہ اس بات کی طرف اشارہ ہے کہ تہذیبوں کایہ تصادم جنوبی ایشیاتک پھیلنے والاہے۔مودی کاٹرمپ کی دعوت پر امریکاآنے سے معذرت،پاک امریکا تعلقات اورنئے محاذکی طرف اشارہ ہے۔کیاامریکااس نازک مرحلے پرپاکستان کاساتھ دے گایابھارت اوراسرائیل کی پشت پناہی کرتے ہوئے پاکستان کومحض مہرہ بنائے گا؟ گویا ٹرائیکااپنی اس سازش سے پاکستان کومفلوج کردینا چاہتا ہے۔ حقیقت میں یہ محاذمحض سرحدی جنگ نہیں، بلکہ تہذیبوں کامعرکہ ہے۔
بھارتی وزیرخارجہ کابیان پاکستان کی بقاء اور آزادی کاچیلنج ہے۔بھارت کاجارحانہ رویہ پاکستان کونئے محاذوں پرالجھانے کی کوشش ہے۔ ہم سب جانتے ہیں کہ پاکستان کی ایٹمی صلاحیت اوراس کی جغرافیائی حیثیت امریکا،انڈیا اوراسرائیل تینوں کی آنکھ کاکانٹاہے۔
( جاری ہے )

.

ذریعہ

ذریعہ: Daily Ausaf

کلیدی لفظ: اسرائیل کی پاکستان کی تہذیبوں کا کہ پاکستان ایران کی یہ ہے کہ اس لیے

پڑھیں:

امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ اسرائیلی حملوں پر برہم، نیتن یاہو کو سخت پیغام

امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ نے لبنان میں اسرائیلی فوجی کارروائیوں میں اضافے پر اسرائیلی وزیراعظم بنجمن نیتن یاہو کو سخت تنبیہ کرتے ہوئے خبردار کیا ہے کہ مزید حملے نہ صرف خطے میں کشیدگی بڑھا سکتے ہیں بلکہ اسرائیل کو عالمی سطح پر مزید تنہائی کا شکار بھی کر سکتے ہیں۔

یہ بھی پڑھیں: لبنان جنگ بندی پراتفاق ہونے کے بعد امریکا، ایران مذاکرات دوبارہ تیز رفتاری سے شروع ہو گئے ہیں، ڈونلڈ ٹرمپ کا اعلان

امریکی میڈیا رپورٹس کے مطابق پیر کو دونوں رہنماؤں کے درمیان ہونے والی ٹیلیفونک گفتگو خاصی کشیدہ رہی جس میں ٹرمپ نے لبنان میں جاری اسرائیلی کارروائیوں اور بیروت میں ممکنہ حملوں کے منصوبوں پر شدید تحفظات کا اظہار کیا۔

امریکی صدر نے نیتن یاہو کو باور کرایا کہ بیروت پر حملہ خطے میں حالات کو مزید خراب کر سکتا ہے، اسرائیل کی بین الاقوامی ساکھ کو نقصان پہنچا سکتا ہے اور ایران کے ساتھ جاری سفارتی مذاکرات کو بھی پیچیدگیوں سے دوچار کر سکتا ہے۔

یکم جون کو جنوبی لبنان کے شہر صور میں ایک اسپتال کے قریب اسرائیلی حملے کے مقام پر امدادی کارکن اور ریسکیو اہلکار جمع ہیں۔

یہ گفتگو ایسے وقت میں ہوئی جب ایران نے لبنان میں اسرائیلی کارروائیوں پر تشویش ظاہر کرتے ہوئے امریکا کے ساتھ جاری مذاکرات سے دستبرداری کا عندیہ دیا ہے۔ ٹرمپ کے قریبی ذرائع کے مطابق امریکی صدر کو خدشہ ہے کہ اگر تنازع مزید پھیلا تو خطے میں استحکام کے لیے جاری سفارتی کوششیں متاثر ہو سکتی ہیں۔

اطلاعات کے مطابق ٹرمپ نے اسرائیل کے دفاع کے حق کو تسلیم کرتے ہوئے کہا کہ حزب اللہ کی جانب سے حملوں کا جواب دینا اسرائیل کا حق ہے تاہم انہوں نے یہ بھی واضح کیا کہ موجودہ فوجی ردعمل ضرورت سے زیادہ ہے اور اس کے نتیجے میں شہری ہلاکتوں اور تباہی میں اضافہ ہو رہا ہے۔

مزید پڑھیے: امریکا کی 250ویں سالگرہ کی تقریبات تنازع کا شکار، فنکاروں کی علیحدگی پر صدر ٹرمپ برہم

رپورٹس کے مطابق امریکی صدر نے خاص طور پر ان کارروائیوں پر اعتراض کیا جن میں حزب اللہ کے کمانڈروں کو نشانہ بنانے کے لیے رہائشی عمارتوں پر وسیع بمباری کی جاتی ہے۔ ان کا مؤقف تھا کہ اس طرزِ عمل سے اسرائیل کے خلاف عالمی تنقید میں اضافہ ہو رہا ہے۔

حکام کے مطابق گفتگو کے دوران ٹرمپ نے نیتن یاہو کو خبردار کیا کہ بیروت پر حملے کی منظوری اسرائیل کو مزید عالمی تنہائی کی طرف دھکیل سکتی ہے اور اتحادی ممالک میں بھی تشویش پیدا کر سکتی ہے۔

ذرائع کا کہنا ہے کہ اس سخت مؤقف کے بعد اسرائیل نے بیروت میں بعض اہداف پر مجوزہ حملوں کا منصوبہ مؤخر کر دیا۔ بعد ازاں ایک اسرائیلی عہدیدار نے بھی اشارہ دیا کہ فی الحال بیروت پر حملے کا کوئی فوری منصوبہ نہیں تاہم جنوبی لبنان میں فوجی کارروائیاں جاری رہیں گی۔

ٹرمپ سے گفتگو کے بعد جاری بیان میں نیتن یاہو نے کہا کہ اگر حزب اللہ کی جانب سے حملے جاری رہے تو بیروت میں اہداف کو نشانہ بنانے کا آپشن بدستور موجود ہے۔ انہوں نے کہا کہ اسرائیل اپنی سلامتی کے خلاف خطرات کے خاتمے کے لیے کارروائیاں جاری رکھے گا۔

مزید پڑھیں: امریکی صدر ٹرمپ کا طبی معائنہ: کام کے لیے ِفٹ قرار، صحت بہترین، وزن کم کرنے کا مشورہ

تجزیہ کاروں کے مطابق اگرچہ ٹرمپ اور نیتن یاہو ایران سمیت کئی علاقائی معاملات پر قریبی رابطے میں رہے ہیں تاہم لبنان کے معاملے پر حالیہ اختلافات دونوں رہنماؤں کے درمیان بڑھتے ہوئے مؤقف کے فرق کی نشاندہی کرتے ہیں۔

صدر ٹرمپ کی تشویش کی ایک بڑی وجہ ایران کے ساتھ جاری مذاکرات ہیں جنہیں امریکی انتظامیہ خطے میں کشیدگی کم کرنے کی وسیع تر حکمت عملی کا حصہ سمجھتی ہے۔

ٹیلیفونک گفتگو کے کچھ ہی دیر بعد ٹرمپ نے سوشل میڈیا پر کہا کہ ایران کے ساتھ مذاکرات تیزی سے آگے بڑھ رہے ہیں تاہم امریکی حکام کا ماننا ہے کہ لبنان کی صورتحال ان مذاکرات کے مستقبل پر براہِ راست اثر انداز ہو سکتی ہے۔

ماہرین کے مطابق یہ صورتحال امریکا کے لیے ایک نازک توازن کی عکاسی کرتی ہے جہاں ایک جانب واشنگٹن اسرائیل کی سلامتی کی حمایت جاری رکھنا چاہتا ہے جبکہ دوسری جانب وہ خطے میں وسیع جنگ کے خدشات کو کم کرنے کے لیے سفارتی کوششوں کو بھی آگے بڑھا رہا ہے۔

یہ بھی پڑھیے: امریکا ایران ممکنہ معاہدہ: نیتن یاہو کی برسوں پر محیط ایران پالیسی کو بڑا دھچکا لگنے کا خدشہ

جنوبی لبنان میں جاری کشیدگی اور ایران کے ساتھ مذاکرات کے تناظر میں آنے والے ہفتے مشرقِ وسطیٰ کی سلامتی اور علاقائی سفارت کاری کے لیے انتہائی اہم قرار دیے جا رہے ہیں۔

آپ اور آپ کے پیاروں کی روزمرہ زندگی کو متاثر کرسکنے والے واقعات کی اپ ڈیٹس کے لیے واٹس ایپ پر وی نیوز کا ’آفیشل گروپ‘ یا ’آفیشل چینل‘ جوائن کریں

اسرائیلی وزیراعظم بنجمن نیتن یاہو امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ ٹرمپ نیتن یاہو پر برہم لبنان پر اسرائیل کے حملے لبنان جنگ

متعلقہ مضامین

  • سرینڈر کا امریکی مطالبہ مسترد، ایران کا حملے کی صورت میں نئے محاذ کھولنے کا اعلان
  • اسرائیل کی عدم آمادگی امریکا ایران معاہدے کو خطرے میں ڈال سکتی ہے، تجزیہ کار
  • امریکا ایران جنگ سے معاشی بحران پیدا ہوا ہے اور مہنگائی بھی بےتحاشہ بڑھ گئی ہے
  • امریکا اور ایران کے درمیان بات چیت جاری، کوئی نہیں جانتا انجام کیا ہوگا، ڈونلڈ ٹرمپ
  • ایران سے مذاکرات کے امکانات روشن ہیں، معاہدے کا حتمی نہیں کہہ سکتے، امریکی وزیر خارجہ مارکو روبیو
  • امریکا، اسرائیل کو جارحیت کے دوران ایرانی فضائی دفاع نے بھاری نقصان پہنچایا، ایرانی کمانڈر
  • امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ اسرائیلی حملوں پر برہم، نیتن یاہو کو سخت پیغام
  • ایران، امریکا مذاکرات: یورپی یونین بھی پاکستان کے کردار کی معترف لیکن مسئلے کا حل تاحال تاخیر کا شکار کیوں؟
  • خطے میں تنازعات کے پُرامن حل کیلئے کوششیں جاری رکھیں گے: اسحاق ڈار
  • امریکی کانگریس میں اہم بل، اسرائیل کو امریکی دفاعی ٹیکنالوجی تک غیرمعمولی رسائی ملنے کا امکان