3سیمنٹ ساز کمپنیاں پی آئی اے کی خریداری کی دوڑ میں شامل
اشاعت کی تاریخ: 9th, July 2025 GMT
اسلام آباد:
نجکاری کمیشن بورڈ کی جانب سے پاکستان انٹرنیشنل ایئر لائنز (پی آئی اے) کی نجکاری کے حوالے سے اہم پیش رفت سامنے آئی ہے۔ جس کے مطابق چار مقامی پارٹیوں کو بولی کیلیے اہل قرار دے دیا ہے جن میں سے تین کا تعلق سیمنٹ کی صنعت سے ہے۔
وزیراعظم کے مشیر برائے نجکاری محمد علی کی زیر صدارت اجلاس میں بورڈ نے پانچ امیدوار گروپوں کی طرف سے جمع کرائے گئے "اسٹیٹمنٹ آف کوالیفیکیشن" کا جائزہ لیا اور تکنیکی، مالیاتی، دستاویزی تقاضوں کی بنیاد پر چار پارٹیوں کو موزوں قرار دیا۔
پہلا اہل قرار دیا گیا کنسورشیم لکی سیمنٹ لمیٹڈ، حب پاور ہولڈنگز لمیٹڈ، کوہاٹ سیمنٹ کمپنی لمیٹڈ اور میٹرو وینچرز (پرائیویٹ) لمیٹڈ پر مشتمل ہے۔
دوسرا کنسورشیم عارف حبیب کارپوریشن لمیٹڈ، فاطمہ فرٹیلائزر کمپنی لمیٹڈ، سٹی اسکولز (پرائیویٹ) لمیٹڈ اور لیک سٹی ہولڈنگز (پرائیویٹ) لمیٹڈ پر مشتمل ہے۔
فوجی فاؤنڈیشن کی ملکیت فوجی فرٹیلائزر کمپنی لمیٹڈ کو بھی بطور نجی کمپنی بولی کیلیے اہل قرار دیا گیا جبکہ ایئر بلو (پرائیویٹ) لمیٹڈ واحد کمپنی ہے جو ایئر لائن چلاتی ہے، اسے بھی اہل قرار دیا گیا۔
نجکاری کمیشن کے مطابق اہل قرار دی گئی پارٹیاں اب اگلے مرحلے میں داخل ہوں گی جو شفاف نجکاری کے عمل کا اہم مرحلہ ہے۔ ادھر کابینہ کمیٹی برائے نجکاری نے نائب وزیراعظم اسحاق ڈار کی سربراہی میں نیویارک میں واقع مہنگے روزویلٹ ہوٹل کی نجکاری کیلیے مشترکہ منصوبے کے ماڈل کی منظوری دیدی ہے۔
مالی مشیر جونز لینگ لاسالے کی رپورٹ کے مطابق حکومت پاکستان زمین کی قیمت کو بطور سرمایہ مشترکہ منصوبے میں شامل کرے گی اور کوئی اضافی رقم ادا نہیں کرے گی، مشترکہ منصوبے کیلیے ابتدائی معاہدہ فوری جبکہ حتمی معاہدہ 2027 میں ہوگا۔
پی آئی اے کی اکثریتی شیئرز اور انتظامی کنٹرول کی فروخت کیلیے 51 فیصد سے 100 فیصد حصص کی نجکاری کی پیشکش دی گئی ہے۔ مشیر وزیر اعظم محمد علی کے مطابق بولی کا عمل رواں سال کی آخری سہ ماہی (اکتوبر تا دسمبر) میں متوقع ہے۔
.
ذریعہ
ذریعہ: Express News
کلیدی لفظ: کے مطابق اہل قرار قرار دیا
پڑھیں:
ایمریٹس کپتان دنیا کے سب سے زیادہ معاوضہ لینے والے پائلٹس میں شامل
مشرقِ وسطیٰ کی سب سے بڑی فضائی کمپنی ایمریٹس ایئرلائن (Emirates Airline)نے 2026 میں بھی دنیا کی سب سے زیادہ پرکشش اور زیادہ تنخواہیں دینے والی ایئرلائنز میں اپنی مضبوط پوزیشن برقرار رکھی ہے۔
تازہ رپورٹس کے مطابق ایمریٹس نہ صرف اپنے پائلٹس کو خطیر تنخواہیں فراہم کر رہی ہے بلکہ انہیں متعدد اضافی مراعات بھی دی جا رہی ہیں، جس کی وجہ سے دنیا بھر کے تجربہ کار پائلٹس اس ایئرلائن میں ملازمت کو ترجیح دیتے ہیں۔ اعلیٰ معیارِ زندگی، ٹیکس فری آمدن اور بہتر کیریئر مواقع اسے عالمی سطح پر ایک نمایاں ایئرلائن بناتے ہیں۔
اعداد و شمار کے مطابق ایمریٹس میں کام کرنے والے فرسٹ آفیسرز کی سالانہ آمدن تقریباً 4 لاکھ 20 ہزار سے 6 لاکھ 20 ہزار درہم کے درمیان ہوتی ہے، جو امریکی کرنسی میں تقریباً 1 لاکھ 14 ہزار سے 1 لاکھ 69 ہزار ڈالر کے برابر بنتی ہے۔ تنخواہ کا انحصار طیارے کی قسم اور تجربے پر ہوتا ہے، خاص طور پر بوئنگ 777 اور ایئربس A380 جیسے طویل فاصلے کے طیاروں پر تعینات پائلٹس زیادہ آمدن حاصل کرتے ہیں۔
دوسری جانب کپتانوں کی تنخواہیں اس سے کہیں زیادہ ہیں۔ رپورٹ کے مطابق 2026 میں ایمریٹس کے کپتان سالانہ 9 لاکھ سے 14 لاکھ 50 ہزار درہم تک کما سکتے ہیں، جو تقریباً 2 لاکھ 45 ہزار سے 3 لاکھ 95 ہزار امریکی ڈالر کے برابر ہے۔ الٹرا لانگ ہال طیاروں جیسے ایئربس A380 کے کپتان اضافی الاؤنسز اور فلائنگ ڈیوٹی کی وجہ سے اس سے بھی زیادہ آمدن حاصل کر سکتے ہیں۔
مزیدپڑھیں:بجٹ میں عوام کو ریلیف دینے کیلئے پر عزم ہیں،شہباز شریف
ایمریٹس کی سب سے بڑی کشش اس کی ٹیکس فری تنخواہ ہے، جس کے باعث پائلٹس کی خالص آمدن دیگر مغربی ممالک کی ایئرلائنز کے مقابلے میں زیادہ ہو جاتی ہے۔ اس کے علاوہ کمپنی اپنے ملازمین کو رہائش یا ہاؤسنگ الاؤنس، سفری الاؤنس، میڈیکل اور انشورنس سہولیات، اہل خانہ کے لیے سفری رعایتیں، بچوں کی تعلیم میں مدد اور بیرون ملک قیام کے دوران ہوٹل و کھانے کے اخراجات جیسی مراعات بھی فراہم کرتی ہے۔
بیڑے کے حوالے سے ایمریٹس دنیا کے سب سے بڑے وائیڈ باڈی طیاروں کے آپریٹرز میں سے ایک ہے، جس میں 116 ایئربس A380، 118 بوئنگ 777-300ER، 10 بوئنگ 777-200LR اور 19 ایئربس A350-900 شامل ہیں۔ کمپنی نے مستقبل کے لیے مزید 359 طیاروں کے بڑے آرڈرز بھی دیے ہیں جن میں بوئنگ 777-9، بوئنگ 777-8، بوئنگ 787 اور ایئربس A350 شامل ہیں۔
پائلٹ بننے کے لیے ایمریٹس میں سخت معیار مقرر ہیں۔ فرسٹ آفیسر کے لیے کم از کم 2 ہزار فلائنگ آورز جبکہ کپتان کے لیے 7 ہزار سے زائد فلائنگ آورز کے ساتھ ساتھ ہزاروں گھنٹوں کا کمانڈ تجربہ لازمی ہوتا ہے۔ اس کے علاوہ بین الاقوامی سول ایوی ایشن کے لائسنس، میڈیکل سرٹیفکیٹ اور انگریزی زبان میں مہارت بھی بنیادی شرائط میں شامل ہیں۔