برہان وانی زندہ، آزادی کی اذان جلد بلند ہوگی: مشعال ملک
اشاعت کی تاریخ: 9th, July 2025 GMT
اسلام آباد(این این آئی) حریت رہنما یاسین ملک کی اہلیہ اور کشمیر کاز کی سرگرم رکن مشعال ملک نے کہا ہے کہ برہان وانی زندہ ہے اور آزادی کی اذان جلد بلند ہوگی۔کشمیری نوجوان رہنما برہان مظفر وانی کی برسی پر ایک جذباتی ویڈیو پیغام جاری کرتے ہوئے مشعال ملک نے کہا ہے کہ سلام ہے اس ماں پر جس نے برہان کو جنم دیا اور اس بیٹے پر جو زندہ ہو کر بھی شہادت کی چادر اوڑھ گیا۔مشعال ملک نے اپنے پیغام میں کہا ہے کہ کشمیر آج بھی برہان وانی کی صدا سے گونج رہا ہے اور ان شاء اللہ وہ دن ضرور آئے گا جب آزادی کی اذان بلند ہو گی، برہان صرف ایک فرد نہیں تھا بلکہ ایک سوچ، ایک تحریک اور ہر کشمیری کی امید تھا۔انہوں نے مزید کہا ہے کہ برہان نے بندوق نہیں اٹھائی، اس نے شعور جگایا، وہ نہ جھکا، نہ رکا، نہ بکا، ظلم کے ہر وار پر اس کی مسکراہٹ ہی جواب تھی، وہ مجاہد نہیں ایک نظریہ ہے۔مشعال ملک نے کہا کہ جس دن برہان شہید ہوا اس دن کشمیر کی آنکھوں نے انقلاب دیکھ لیا، آج ہر کشمیری نوجوان برہان کے قدموں کے نشان پر چل رہا ہے اور آزادی کے سفر کو جاری رکھے ہوئے ہے۔انہوں نے برہان کو ایک ایسا چراغ قرار دیا جو جل کر اندھیروں کو روشنی میں بدل گیا۔ ان کے بقول 8 جولائی صرف ایک تاریخ نہیں بلکہ شہادت کی شروعات ہے، برہان مرا نہیں وہ سانس بن گیا ہے ہر کشمیری کی، جب تک کشمیر زندہ ہے برہان کی للکار گونجتی رہے گی۔
.
ذریعہ
ذریعہ: Nawaiwaqt
کلیدی لفظ: مشعال ملک نے کہا ہے کہ
پڑھیں:
سلامتی کونسل میں پاکستان نے بھارت کو لاجواب کر دیا
قونصلر صائمہ سلیم— فائل فوٹواقوامِ متحدہ میں پاکستانی مشن کی قونصلر صائمہ سلیم نے سلامتی کونسل میں بھارت کو لاجواب کر دیا۔
اپنے بیان میں صائمہ سلیم نے کہا ہے کہ بھارت کا امن کا درس دینا مضحکہ خیز ہے، جو خود بین الاقوامی قانون اور سلامتی کونسل کی قراردادوں کی خلاف ورزی، ہمسایوں کے خلاف جارحیت اور خطے میں ریاستی سرپرستی میں دہشت گردی کا مرتکب ہے۔
انہوں نے کہا کہ آزاد جموں و کشمیر اور بھارت کے غیر قانونی زیرِ قبضہ جموں و کشمیر کے حالات میں واضح فرق ہے۔
صائمہ سلیم نے کہا کہ ایک طرف سیاسی آزادی ہے اور دوسری طرف جبر، گرفتاریوں اور انسانی حقوق کی پامالیوں کا سلسلہ جاری ہے، حقوق کا استعمال اور حقوق سے محرومی ایک جیسی چیزیں نہیں ہو سکتیں۔
اقوامِ متحدہ میں پاکستانی کونسلر صائمہ سلیم نے کہا کہ افغان سرزمین سے حملوں کی منصوبہ بندی اور سہولت کاری ہوئی۔
انہوں نے کہا کہ کشمیری عوام کے ناقابلِ تنسیخ حقِ خودارادیت سے انکار نہیں کیا جا سکتا، جموں و کشمیر نہ بھارت کا اٹوٹ انگ ہے اور نہ داخلی معاملہ، بھارت کا انکار اس تنازع کی بین الاقوامی حیثیت تبدیل نہیں کر سکتا۔
قونصلر صائمہ سلیم نے کہا کہ بھارت خود مسئلہ کشمیر سلامتی کونسل میں لایا اور آج قراردادوں سے انحراف کر رہا ہے، مقبوضہ کشمیر میں جبر اور انسانی حقوق کی پامالیاں جاری ہیں۔
انہوں نے مزید کہا کہ سندھ طاس معاہدے کی معطلی کا بھارتی فیصلہ بین الاقوامی قانون کی خلاف ورزی ہے، دریائے سندھ کا پانی زندگی کا ذریعہ ہے، جنگ کا ہتھیار نہیں۔
صائمہ سلیم نے یہ بھی کہا کہ بھارت سے منسلک دہشت گردی کے نیٹ ورک عالمی سطح تک پھیل چکے ہیں، بھارت میں ہندوتوا نظریات نے اسلاموفوبیا کو ریاستی پالیسی بنا دیا ہے۔