اسلام آباد:

پاکستان پیلزپارٹی (پی پی پی) کے چیئرمین بلاول بھٹو زرداری نے کہا ہے کہ بھارت نے پہلگام واقعے پر اپنے عوام سے جھوٹ بولا اور اپنے لوگوں کو حقیقت سے آگاہ نہ کرنے اور اندھیرے میں رکھنے کے لیے جنگ کے دوران ڈس انفارمیشن پھیلائی۔

بھارتی میڈیا کو دیے گئے انٹرویو میں چیئرمین پی پی پی بلاول بھٹو زرداری نے بھارت کی جانب سے پاکستان پر دہشت گرد گروپس کو حملوں کی اجازت دینے کے لیے الزامات کا جواب دیا اور کہا کہ پاکستان کسی بھی گروپ کو پاکستان سے باہر اور پاکستان کے اندر بھی دہشت گردی کی اجازت نہیں دیتا، ہم خود کئی دہائیوں سے دہشت گردی کا شکار ہیں۔

انہوں نے کہا کہ پاکستان نے دہشت گردی کے خلاف سب سے بڑی جنگ لڑی ہے اور ہم نے 92 ہزار شہریوں کی قربانی دی ہے، صرف پچھلے سال ہم نے دو ہزار دہشت گردی کے حملوں میں ایک ہزار 200 سے زائد شہریوں کا نذرانہ دے چکے ہیں۔

ان کا کہنا تھا کہ دہشت گردوں نے اپنی کارروائیوں کا سلسلہ رواں برس بھی اس سے تیز کردیا ہے اور اگر یہ شرح رہی تو یہ سال پاکستان کی تاریخ میں سب سے خونی سال ہوگا۔

بلاول بھٹو نے کہا کہ میں دہشت گردی کے متاثرہ کے طور پر پہلگام واقعے کے متاثرین کے درد کو بہتر سمجھتا ہوں جو کوئی اس کا تصور بھی نہیں کرسکتا۔

ایک سوال پر انہوں نے کہا کہ اس طرح کے گروپ نائن الیون سے قبل فریڈم فائٹر کے طور پر جانے جاتے تھے اور سرد جنگ کے دوران افغانستان میں لڑائی یا سرد جنگ سے متعلق لڑائی میں ان گروپس کی حمایت کی جاتی تھی لیکن اس کے باوجود ہماری پارٹی کی پالیسی اس کی مخالف تھی۔

چیئرمین پی پی پی نے کہا کہ پاکستان میں تمام گروپس جن کا آج سامنا ہے ان سب کا افغانستان کی جنگ سے تعلق ہے اور اس کی بنیاد وہاں سے منسلک ہے، یہ گروپس بعد میں القاعدہ اور دیگر گروپس میں بٹ گئے بشمول وہ گروپ جنہوں نے کشمیر جہاد کا اعلان کیا، اسی مناسبت سے پاکستان کے معاشرے اور سیاست میں ان گروپس کی مخالفت نہیں کی گئی کیونکہ پاکستانی گروپس یا انفرادی طور پر لوگوں کو عالمی برادری نے تربیت دی تاکہ افغانستان کے حوالے سے جہاد کریں اور یہ ماضی تھا اور اس عمل کا پاکستان بھی حصہ تھا اور بھارت اس عمل کو نظرانداز کرتا ہے۔

بلاول بھٹو نے کہا کہ جنرل پرویز مشرف یا صدر آصف علی زرداری کے بیانات کا تعلق ماضی سے ہے جبکہ پاکستان نے دہشت گردی کے خاتمے کے لیے مختلف آپریشنز کیے، بینظیر بھٹو کی شہادت کے بعد ہماری حکومت نے جنوبی وزیرستان میں آپریشن شروع کیا، بعد میں آنے والی حکومت نے شمالی وزیرستان میں آپریشن کیا اور ہم نے نیشنل ایکشن پلان تشکیل دیا۔

انہوں نے کہا کہ جن گروپس کے بارے میں بھارت کو تحفظات ہیں ان گروپس کے خلاف پاکستان نے حال ہی میں ایف اے ٹی ایف کو آگاہ کیا تھا، جس کی عالمی برادری نے توثیق کی کہ پاکستان نے مذکورہ دہشت گرد گروپس کے خلاف کارروائی کی ہے اور عالمی برادری اچھی طرح آگاہ ہے۔

پہلگام واقعے کا حوالہ دیتے ہوئے ان کا کہنا تھا کہ بھارت نے دعویٰ کیا کہ اس حملے میں پاکستان ملوث ہے حالانکہ سب جانتے ہیں کہ اس واقعے کے فوری بعد وزیراعظم پاکستان نے اس حوالے سے کسی بھی غیرجانب داری تحقیقات کا حصہ بننے کے لیے پاکستان تیار ہے کیونکہ ہمیں یقین تھا کہ ہم صاف ہیں لیکن بھارت کی حکومت نے اس سے روگردانی کی۔

ان کا کہنا تھا کہ جہاں تک پہلگام واقعے کی بات ہے تو پاکستان بین الاقوامی تحقیقات کا حصہ بننے کو تیار ہے لیکن بھارت کی حکومت نے انکار کردیا۔

انہوں نے کہا کہ بھارت کی حکومت اپنے عوام، پاکستان اور دنیا کو یہ بتانے سے قاصر رہی کہ اس حملے میں ملوث لوگ کون تھے، جن کا تعلق پاکستان سے تھا، وہ کیوں معلوم لوگ نہیں تھے، درحقیقت اگر یہ لوگ پاکستان سے سرحد پار دہشت گردی کے لیے بھارت کے زیرتسلط کشمیر سے گزر کر اتنے اندر جانے میں کامیاب ہوئے تو یہ ٹیکنالوجی کا دور ہے، سٹیلائٹ انفارمیشن کا زمانہ ہے اس کے ذریعے ثابت کیا جاتا اور عالمی برادری بھی مان لیتی۔

بلاول بھٹو نے کہا کہ پہلگام واقعے کے حوالے سے بھارت کے عوام کے ساتھ جھوٹ بولا گیا کیونکہ پاکستان کا اس سے کوئی تعلق نہیں تھا، یہی وجہ تھی کہ اس جنگ کے دوران بھارت کی حکومت اور بھارتی میڈیا نے ڈس انفارمیشن شروع کی کہ بھارت کے عوام کو اندھیرے میں رکھا جائے۔

انہوں نے کہا کہ پاکستان نے ایف اے ٹی ایف کے پروگرام کے تحت دہشت گردی کے خلاف کارروائیاں کیں اور دوہزار سے زائد دہشت گردوں اور تنظیموں کو انسداد دہشت گردی قانون کے تحت کالعدم قرار دیا۔

.

ذریعہ

ذریعہ: Express News

کلیدی لفظ: انہوں نے کہا کہ کہا کہ پاکستان بھارت کی حکومت کہ پاکستان نے عالمی برادری پہلگام واقعے دہشت گردی کے بلاول بھٹو کہ بھارت حکومت نے کے خلاف تھا کہ ہے اور کے لیے

پڑھیں:

پنجاب حکومت کے دو پراجیکٹ ورلڈ سمٹ انفارمیشن سوسائٹی کی ٹاپ لسٹ میں شامل، دنیا میں پاکستان کا تشخص نمایاں ہوا: مریم نواز

لاہور (نوائے وقت رپورٹ+ نیوز رپورٹر) وزیراعلیٰ مریم نواز نے’’میرا پیارا‘‘ پراجیکٹ کو یو این گلوبل چیمپئن قرار دئیے جانے پر اظہار تشکر کیا ہے۔ تاریخ میں پہلی بار وزیراعلیٰ  کے وژنری  اقدامات کی بدولت پاکستان کے دو پراجیکٹس کواقوام متحدہ کی ورلڈ سمٹ انفارمیشن سوسائٹی نے ٹاپ لسٹ میں شامل کیا۔ مریم نواز کے ورچوئل سینٹر فار چائلڈ سیفٹی ’’میرا پیارا‘‘ پراجیکٹ کو دنیا کے ٹاپ فائیو میں شامل کیا گیا ہے۔ پنجاب کا ورچوئل ویمن پولیس سٹیشن بھی دنیا بھر کے ٹاپ 20 پراجیکٹس میں شارٹ لسٹ کیا گیا ہے۔ وزیراعلیٰ  نے ’’میرا پیارا‘‘ پراجیکٹ کی ٹیم کو ڈبلیو ایس آئی ایس کی طرف سے گلوبل چیمپئن قرار دیئے جانے پر شاباش دی ہے۔ مریم نواز  نے کہا کہ عوامی خدمات کے معتبر فورم اقوام متحدہ کے تحت (WSIS) پرائزز ڈیجیٹل گورننس پر پنجاب کے دو پروگرامز کا شامل کیا جانا اعزاز ہے۔ ورچوئل سینٹر فار چائلڈ سیفٹی ’’میرا پیارا‘‘ نے 1 لاکھ 45 ہزار سے زائد گمشدہ بچوں کے کیس کی مثال قائم کی۔ ’’میرا پیارا‘‘ پراجیکٹ کے تحت 54 ہزار سے زائد گمشدہ بچوں کے لئے مؤثر کارروائی قابل تحسین ہے۔ ’’میرا پنجاب‘‘ سے بچوں کے استحصال آن لائن ہراسگی اور دیگر معاملات میں معاونت کی گئی۔  ’’میرا پنجاب‘‘ کی عالمی سطح پر پذیرائی ٹیکنالوجی پر مبنی پبلک سروسز کی عالمی سطح پر اعتراف کا ثبوت ہے۔ گمشدہ افراد کے لئے میرا پیارا ایپ دنیا بھر میں پاکستان کا مثبت تشخص نمایاں ہوا۔ یہ امر قابل ذکر ہے کہ پنجاب کے پراجیکٹس کی بدولت پاکستان ڈبلیو ایس آئی ایس کیٹیگری میں دو شارٹ لسٹ شدہ پراجیکٹس کے ساتھ دنیا کا واحد ملک بن گیا۔ ورچوئل سینٹر فار چائلڈ سیفٹی (VCCS) کے ذریعے بچوں سے متعلق 1 لاکھ 45 ہزار سے زائد کیسز نمٹائے گئے۔ ورچوئل سینٹر فار چائلڈ سیفٹی کی بدولت 77 ہزار سے زائد گمشدہ بچے بازیاب کرایا گیا۔ مریم نواز  کی قیادت میں پنجاب حکومت حکومت نے 3 ہزار سپیشل (معذور) بچوں کو بھی تلاش کر کے خاندانوں سے ملوایا۔ ڈبلیو ایس آئی ایس کی رپورٹ کے مطابق پراجیکٹ کے تحت گمشدہ یا اغوا ہونے والے بچوں کے 54 ہزار سے زائد کیسز پر کارروائی کی گئی۔ 77 ہزار سے زائد بچے خاندانوں سے ملوائے گئے جن میں تین ہزار سپیشل بچے بھی شامل ہیں۔ مربوط ڈیجیٹل رسپانس کے ذریعے بدسلوکی، آن لائن استحصال اور کمزور بچوں کے تحفظ کے ہزاروں کیسز حل کیے گئے۔ رپورٹ کے مطابق پنجاب بھر میں اب تک مختلف کیٹیگریز کے کل 1,45,772 کیسز رپورٹ، ریکارڈ 1,36,157کیسز کو کامیابی سے حل کر لیا گیا۔  رپورٹ ہونے والے مقدمات میں سے مجموعی طور پر 26,274 ایف آئی آرز رجسٹرڈ جبکہ 7,081 چالان عدالتوں میں جمع کروا دیے گئے۔ گمشدہ اور اغوا ہونے والے 54,741بچوں میں سے 53,811بچوں کو کامیابی سے تلاش کر کے اہلخانہ سے ملایا گیا۔ ریسکیو ٹیموں کی کارروائی کے نتیجے میں 22,989بچے ملے،جن میں سے 21,178 کو فوری طور پر خاندانوں کے حوالے کیا گیا۔ رپورٹ کے مطابق اس وقت سسٹم میں 930بچے لاپتہ اور1,811بچے تاحال غیر شناخت شدہ ہیں جن کے لیے روزانہ کی بنیاد پر فالو اپ جاری ہے۔ بچوں پر تشدد اور بدسلوکی کے 15,447 کیسز رپورٹ ہوئے، جن پر فوری کارروائی کرتے ہوئے 5,075ایف آئی آرز درج کی گئیں۔ چائلڈ بدسلوکی کیسز میں اب تک 3,830 ملزمان کو گرفتار کر کے 4,168مقدمات کے چالان عدالتوں میں جمع کروائے جا چکے ہیں۔ بچوں کے خلاف آن لائن اور ڈیجیٹل بد سلوکی کے 191کیسز سامنے آئے، جن پر 14 ایف آئی آرز درج اور 5 ملزموں کو گرفتار کیا گیا۔

متعلقہ مضامین

  • پنجاب حکومت کے دو پراجیکٹ ورلڈ سمٹ انفارمیشن سوسائٹی کی ٹاپ لسٹ میں شامل، دنیا میں پاکستان کا تشخص نمایاں ہوا: مریم نواز
  • سیاستدان امیر دوستوں کو مراعات دینا، غریبوں کی مدد ختم کرنا چاہتے ہیں: بلاول
  • فورسز کی بلوچستان کے مختلف علاقوں میں کارروائیاں، 17 دہشتگرد ہلاک، آئی ایس پی آر
  • شہباز شریف کا کامیاب انسدادِ دہشت گردی کارروائیوں پر سکیورٹی فورسز کو خراجِ تحسین
  • بلاول بھٹو زرداری کی فیلڈ مارشل کی امن کوششوں کیلئے دعا
  • سندھ میں 20 لاکھ گھروں کی تعمیر کو ممکن بنائیں گے:بلاول بھٹو کا گلگت جلسے سے خطاب
  • بعض حکمران عناصر بینظر انکم سپورٹ پروگرام کو ختم کرنا چاہتے ہیں، تاہم پیپلز پارٹی ایسا نہیں ہونے دے دی، بلاول بھٹو
  • دعا گو ہیں فیلڈ مارشل کی خلیج امن کوششیں کامیاب ہوں، بلاول بھٹو
  • صدر زرداری کی اٹلی کے صدر ور عوام کو یومِ جمہوریہ پر مبارکباد
  • دعا گو ہیں جنگ کے خاتمے کیلئے فیلڈ مارشل کی کوششیں کامیاب ہوں، بلاول بھٹو