ٹرمپ کے بیان کے بعد روسی ردِعمل: 728 ڈرونز کے ساتھ یوکرین پر سب سے بڑا فضائی حملہ کردیا
اشاعت کی تاریخ: 10th, July 2025 GMT
کیف / ماسکو / واشنگٹن: روس نے یوکرین کے خلاف جنگ کے دوران اب تک کا سب سے بڑا ڈرون حملہ کر دیا، جس میں ایک ہی رات میں ریکارڈ 728 ڈرونز استعمال کیے گئے۔
غیر ملکی خبر ایجنسی اے ایف پی کے مطابق حملہ امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ کی جانب سے کیف کو مزید دفاعی ہتھیار فراہم کرنے کے وعدے اور روسی صدر ولادیمیر پیوٹن پر براہِ راست تنقید کے بعد کیا گیا۔
یوکرین کی فضائیہ نے دعویٰ کیا ہے کہ انہوں نے تقریباً تمام ڈرونز کو تباہ کر دیا، جس میں الیکٹرانک جیمنگ سسٹمز کا استعمال بھی شامل تھا۔ حملہ حالیہ ہفتوں میں بڑھتے ہوئے روسی فضائی حملوں کا تسلسل ہے۔
یوکرینی صدر ولادیمیر زیلنسکی نے کہا ہے کہ روس کی جنگی فنڈنگ کے ذرائع، خاص طور پر روسی تیل خریدنے والے ممالک پر فوری طور پر سخت پابندیاں عائد کرنے کی ضرورت ہے۔
زیلنسکی نے امریکا سے فضائی دفاعی نظام اور اسلحہ کی فوری فراہمی کے لیے رابطے تیز کرنے کی ہدایت بھی جاری کی ہے۔
اس سے قبل ٹرمپ نے عندیہ دیا تھا کہ وہ ایک ایسے قانون کی حمایت کریں گے جس کے تحت روسی برآمدات پر 500 فیصد ٹیرف عائد کیا جائے گا، جس میں تیل، گیس، یورینیم بھی شامل ہوں گے۔
صدر ٹرمپ نے کہا: "ہم کچھ سرپرائز رکھنا چاہتے ہیں" اور پیوٹن کو "خوش اخلاق مگر بے معنی" قرار دیا۔
ادھر یورپی یونین بھی ماسکو پر نئی پابندیاں لگانے پر غور کر رہا ہے۔
یاد رہے کہ ٹرمپ نے دوبارہ صدارت سنبھالنے سے قبل یوکرین جنگ کے جلد خاتمے کا وعدہ کیا تھا، تاہم اب تک روس نے ٹرمپ کی غیر مشروط جنگ بندی کی تجویز قبول نہیں کی، جبکہ یوکرین اسے تسلیم کر چکا ہے۔
.
ذریعہ
ذریعہ: Express News
پڑھیں:
ایرانی اثاثے ضبط کرنے کی ٹرمپ کی دھمکی خطرناک نظیر ہے، عباس عراقچی کا سخت ردعمل
تہران: ایران کے وزیر خارجہ عباس عراقچی نے امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ کے اس بیان پر شدید ردعمل دیا ہے جس میں انہوں نے بحری جہازوں کو ہونے والے ممکنہ نقصانات کا ازالہ ایرانی اثاثوں سے کرنے کی بات کی تھی۔ ایران نے اس مؤقف کو بین الاقوامی قوانین کے لیے ایک خطرناک اور اشتعال انگیز نظیر قرار دیا ہے۔
عباس عراقچی نے سماجی رابطے کے پلیٹ فارم ایکس پر جاری اپنے بیان میں کہا کہ کسی ملک کے اثاثوں کو مستقبل کے غیر متعلقہ دعووں کی بنیاد پر ضبط کرنا ایک ایسا اقدام ہے جو عالمی مالیاتی نظام اور بین الاقوامی قوانین کے لیے سنگین نتائج پیدا کر سکتا ہے۔
انہوں نے کہا کہ کسی دوسرے ملک کے اثاثے مستقبل کے غیر متعلقہ نقصانات کی ادائیگی کے لیے ضبط کرنا ایک اشتعال انگیز نظیر ہے۔
ایرانی وزیر خارجہ نے مزید کہا کہ جو ممالک یا ادارے اس طرح کے ضبط شدہ اثاثوں سے فائدہ اٹھانے یا اس اقدام کی حمایت کرنے کی کوشش کریں گے، انہیں یہ بات ذہن میں رکھنی چاہیے کہ اگر حکومتیں اس طرز عمل کو معمول بنا لیں تو پھر دنیا میں کسی بھی ملک کے اثاثے محفوظ نہیں رہیں گے۔
عباس عراقچی کے مطابق اس طرح کے اقدامات عالمی مالیاتی نظام میں بے یقینی، افراتفری اور قانونی تنازعات کو جنم دے سکتے ہیں، جن کے نتائج نہ صرف غیر خوشگوار بلکہ عالمی امن و استحکام کے لیے بھی نقصان دہ ثابت ہوں گے۔
ان کا بیان ایسے وقت میں سامنے آیا ہے جب امریکا اور ایران کے درمیان کشیدگی برقرار ہے اور آبنائے ہرمز میں بحری جہاز رانی، اقتصادی پابندیوں اور سفارتی تعلقات کے حوالے سے دونوں ممالک کے درمیان سخت بیانات کا تبادلہ جاری ہے۔
Seizing another nation's assets to pay for unrelated future claims is an incendiary precedent.
Those who celebrate or profit from such funds should remember: once governments normalize confiscation, no one's assets are safe. Ensuing chaos will not be pretty or peaceful.
تجزیہ کاروں کے مطابق اگر اثاثوں کی ضبطی جیسے اقدامات عملی شکل اختیار کرتے ہیں تو اس سے عالمی سرمایہ کاری، بین الاقوامی تجارت اور ممالک کے درمیان مالیاتی اعتماد پر بھی منفی اثرات مرتب ہو سکتے ہیں۔