data-id="863a0a8" data-element_type="widget" data-widget_type="theme-post-content.default">

اسلام آباد: چیئرمین سینیٹ اور سابق وزیراعظم یوسف رضا گیلانی نے صدر مملکت آصف زرداری کی تبدیلی یا ان کی صحت سے متعلق خبروں کو محض افواہیں قرار دیتے ہوئے کہا ہےکہ آصف زرداری اپنے عہدے پر برقرار ہیں اور بخوبی اپنے آئینی فرائض سر انجام دے رہے ہیں۔

میڈیا سے گفتگو کرتے ہوئے یوسف رضا گیلانی نے کہا کہ ان کے خلاف جھوٹے اور سیاسی بنیادوں پر مقدمات قائم کیے گئے تھے، جن میں اب ایک ایک کر کے انصاف سامنے آ رہا ہے، وہ ہمیشہ عدالتوں کا احترام کرتے آئے ہیں اور قانون کے سامنے سر جھکایا ہے۔

چیئرمین سینیٹ نے کہا کہ پیپلز پارٹی نے حکومت کا حصہ نہ بننے کا فیصلہ اپنی سینٹرل ایگزیکٹو کمیٹی (CEC) کے ذریعے کیا تھا۔ انہوں نے کہا کہ اگر پارٹی کی اعلیٰ قیادت اور سی ای سی چاہے تو اس فیصلے پر نظرثانی بھی کی جا سکتی ہے۔

ان کا کہنا تھا کہ پیپلز پارٹی اصولوں کی سیاست پر یقین رکھتی ہے اور عوام کے مفادات کے لیے فیصلے کرتی ہے، نہ کہ ذاتی فائدے کے لیے، پارلیمنٹ اور جمہوری اداروں کی بالادستی کے لیے تمام جماعتوں کو مل کر کام کرنا ہو گا۔

یوسف رضا گیلانی کی جانب سے صدر زرداری کی تبدیلی یا طبی صورتحال سے متعلق افواہوں کی سختی سے تردید کے بعد یہ واضح پیغام سامنے آیا ہے کہ ایوان صدر میں کسی قسم کی تبدیلی زیر غور نہیں اور صدر مملکت پوری توانائی کے ساتھ اپنی ذمہ داریاں نبھا رہے ہیں۔

خیال رہےکہ  عدالت نے انہیں ٹریڈ ڈویلپمنٹ اتھارٹی آف پاکستان (ٹڈاپ) سے متعلق میگا کرپشن کیس کے 9 مقدمات میں باعزت بری کر دیا، یہ مقدمات وفاقی تحقیقاتی ادارے (ایف آئی اے) کی جانب سے درج کیے گئے تھے۔

 یاد رہے کہ ایف آئی اے نے ٹڈاپ کرپشن اسکینڈل میں مجموعی طور پر 26 مقدمات قائم کیے تھے، جن میں سے اب تک یوسف رضا گیلانی 18 مقدمات میں بری ہو چکے ہیں۔

.

ذریعہ

ذریعہ: Jasarat News

کلیدی لفظ: یوسف رضا گیلانی کی تبدیلی

پڑھیں:

ٹرمپ کو ریلیف مل گیا؛ امریکی سینیٹ نے ایران جنگ ختم کرنے کی قرارداد مسترد کر دی

امریکی سینیٹ نے ایران کے ساتھ جاری فوجی تنازع میں امریکا کی شمولیت ختم کرنے کے لیے پیش کی گئی جنگی اختیارات کی قرارداد مسترد کر دی۔

عالمی خبر رساں ادارے کے مطابق امریکی سینیٹ نے جمعرات کو صدر ڈونلڈ ٹرمپ کو ایران کے خلاف جاری فوجی کارروائیوں سے امریکی افواج واپس بلانے کی ہدایت دینے والی قرارداد منظور کرنے سے انکار کر دیا۔

میری لینڈ سے تعلق رکھنے والے ڈیموکریٹ سینیٹر کرس وین ہولن کی پیش کردہ وار پاورز ریزولوشن پر ووٹنگ ہوئی تاہم قرارداد 47 کے مقابلے میں 49 ووٹوں سے مسترد ہوگئی اور مطلوبہ حمایت حاصل نہ کرسکی۔

ریپبلکن سینیٹر سوسن کولنز نے اپنی جماعت کی پالیسی کے برعکس قرارداد کے حق میں ووٹ دیا جبکہ ڈیموکریٹ سینیٹر جان فیٹرمین نے اپنی پارٹی سے اختلاف کرتے ہوئے قرارداد کی مخالفت کی۔

تین سینیٹرز نے رائے شماری میں حصہ نہیں لیا جن میں سینیٹر کیٹی برٹ، مچ میک کونل، لیزا مرکووسکی اور رینڈ پال شامل ہیں۔

اس قرارداد میں مطالبہ کیا گیا تھا کہ اگر کانگریس باقاعدہ جنگ کا اعلان نہ کرے یا صدر کو خصوصی اجازت نہ دے، تو صدر ٹرمپ ایران کے اندر یا ایران کے خلاف جاری فوجی کارروائیوں سے امریکی افواج کو واپس بلائیں۔

ڈیموکریٹ ارکان اور بعض ریپبلکن قانون سازوں کا مؤقف ہے کہ ایران کے خلاف موجودہ فوجی کارروائیوں میں صدر ٹرمپ نے کانگریس کے اس آئینی اختیار کو نظر انداز کیا ہے جس کے تحت صرف کانگریس کو جنگ کا اعلان کرنے کا اختیار حاصل ہے۔

اس سے چند گھنٹے قبل امریکی ایوانِ نمائندگان نے ایران جنگ محدود کرنے کی اپنی وار پاورز قرارداد منظور کی تھی تاہم اسے گزشتہ ماہ کے مقابلے میں ایک ووٹ کم ملا جس سے کانگریس میں بھی اس معاملے پر اختلافات نمایاں ہیں۔

گزشتہ ماہ بھی سینیٹ نے اسی نوعیت کی ایک قرارداد 50 کے مقابلے میں 48 ووٹوں سے منظور کی تھی۔ اس وقت چند ریپبلکن ارکان نے بھی ڈیموکریٹس کا ساتھ دیا تھا لیکن اس وقت ایران اور امریکا کے درمیان جنگ بندی نافذ تھی اور مزید امریکی جانی نقصان نہیں ہوا تھا۔

آئینی ماہرین کے مطابق 1973 کے وار پاورز ایکٹ کا مقصد صدر کے فوجی اختیارات پر کانگریس کی نگرانی کو یقینی بنانا تھا لیکن اب تک کسی بھی امریکی صدر نے اسے مکمل طور پر پابند قانون کے طور پر تسلیم نہیں کیا۔

مزید یہ کہ اس قانون کی آئینی حیثیت پر کبھی امریکی عدالتوں نے حتمی فیصلہ نہیں دیا اسی لیے اگر قرارداد منظور بھی ہو جاتی تو اس کے نتیجے میں صدر کو فوری طور پر فوج واپس بلانے کا قانونی پابند بنانا مشکل ہوتا۔

 

 

متعلقہ مضامین

  • صدر مملکت سے بلوچستان کے وزراء کی ملاقات، مجموعی صورتحال پر تبادلہ خیال
  •  صدر آصف علی زرداری سے بلوچستان کے صوبائی وزراء کی ملاقات
  • صدر مملکت سے بلوچستان کے صوبائی وزراء کی ملاقات، مجموعی صورتحال پر تبادلہ خیال
  • نیب مقدمات کی سماعت کا اختیار وفاقی آئینی عدالت کو منتقل، سپریم کورٹ نے محفوظ فیصلہ سنا دیا
  • سپریم کورٹ  نے نیب ترمیم کے بعد عدالتی دائرہ اختیار سے متعلق کیس کا فیصلہ سنا دیا
  • مبینہ مقابلے‘ 45 سے زائد مقدمات کا ملزم گوجرانوالہ‘ 2 ڈ اکو پیر محل میں ہلاک 
  • ایڈیشنل ایڈووکیٹ جنرل  کے پی انعام یوسف زئی مستعفی
  • ٹرمپ کو ریلیف مل گیا؛ امریکی سینیٹ نے ایران جنگ ختم کرنے کی قرارداد مسترد کر دی
  • سینیٹ کی قائمہ کمیٹی برائے اطلاعات و نشریات کا اجلاس،فلم "بلھا" پر پابندی یا نام تبدیلی کی سفارش، صحافیوں کے ہاؤسنگ کوٹے اور پیکا کیسز پر اہم فیصلے
  • جدہ قونصل خانے میں اہم انتظامی تبدیلی، فرینہ ارشد نے ڈپٹی قونصل جنرل کا عہدہ سنبھال لیا