خان یونس میں حماس کا اسرائیلی فورسز پر حملہ، ایک فوجی ہلاک
اشاعت کی تاریخ: 10th, July 2025 GMT
data-id="863a0a8" data-element_type="widget" data-widget_type="theme-post-content.default">
تل ابیب: اسرائیلی فوج نے دعویٰ کیا ہے کہ غزہ کے جنوبی علاقے خان یونس میں حماس کے جنگجوؤں نے سرنگ سے باہر آ کر اسرائیلی فوجیوں پر اچانک حملہ کر دیا، جس کے نتیجے میں ایک اعلیٰ تربیت یافتہ فوجی ہلاک ہو گیا، ہلاک ہونے والے اہلکار کی شناخت ماسٹر سارجنٹ (ر) ابراہم ایزولے کے نام سے کی گئی ہے جو اسرائیلی فوج کی جنوبی کمان کی انجینیئرنگ یونٹ سے وابستہ تھے۔
اسرائیلی فوج کے ترجمان کے مطابق یہ واقعہ اس وقت پیش آیا جب اسرائیلی انجینیئرنگ ٹیم زمین کھودنے کی کارروائی میں مصروف تھی اور ابراہم ایزولے ہیوی مشینری چلا رہے تھے، اس دوران حماس کے جنگجوؤں نے ایک خفیہ سرنگ سے باہر نکل کر حملہ کیا، جس میں ایزولے ہلاک ہو گئے۔
فوجی ترجمان کے مطابق ایزولے کی عمر 25 سال تھی اور وہ ہیوی انجینیئرنگ آپریٹر کے طور پر جنوبی کمان میں تعینات تھے، انہیں ایک پیشہ ور، پرعزم اور بہادر اہلکار قرار دیا گیا جو کئی مہینوں سے غزہ میں جاری کارروائیوں میں شریک تھے۔
ادھر اسرائیلی میڈیا نے بتایا ہے کہ شمالی غزہ میں بھی حماس کی مزاحمتی کارروائیوں میں تیزی دیکھی جا رہی ہے، حالیہ ایک واقعے میں حماس کی جانب سے کی گئی بمباری میں کم از کم 5 اسرائیلی فوجی ہلاک اور 15 زخمی ہو گئے، ان جھڑپوں کے نتیجے میں اسرائیلی فوج کو ایک بار پھر شدید جانی نقصان کا سامنا کرنا پڑا ہے۔
دوسری جانب حماس نے ان واقعات پر باضابطہ بیان جاری نہیں کیا، تنظیم کی عسکری شاخ القسام بریگیڈز کی جانب سے گزشتہ دنوں اسرائیلی اہداف پر کئی حملوں کی ذمہ داری قبول کی گئی تھی، جن میں اسرائیلی فوجی قافلے اور سرنگوں کے قریب موجود تنصیبات شامل تھیں۔
واضح رہے کہ اسرائیل کی جانب سے غزہ میں اکتوبر 2023 سے جاری حملوں کے دوران اب تک 57,700 سے زائد فلسطینی شہید اور ایک لاکھ سے زائد زخمی ہو چکے ہیں جبکہ لاکھوں بے گھر اور شدید انسانی بحران کا سامنا کر رہے ہیں، اس کے جواب میں حماس کی مزاحمتی کارروائیاں بھی مسلسل جاری ہیں، جن میں اسرائیلی افواج کو بھاری جانی نقصان کا سامنا ہے۔
.
ذریعہ
ذریعہ: Jasarat News
کلیدی لفظ: اسرائیلی فوج
پڑھیں:
اسرائیل میں نیتن یاہو کی ہٹ دھرمی پر تنقید میں اضافہ
تجزیہ کاروں کے مطابق نیتن یاہو کے بعض خفیہ سیاسی مقاصد بھی تھے، وہ بیروت میں فوجی کارروائیوں کے ذریعے امریکہ اور ایران کے درمیان جاری مذاکراتی عمل کو ناکام بنانا چاہتے تھے، اسی تناظر میں امریکی صدر ٹرمپ نے نیتن یاہو سے رابطہ کیا اور انہیں ممکنہ نتائج سے آگاہ کرتے ہوئے دباؤ ڈالا۔ اسلام ٹائمز۔ اسرائیل میں وزیراعظم بنیامین نیتن یاہو کی ہٹ دھرمی پر مسلسل تنقید میں اضافہ ہو رہا ہے۔ الجزیرہ ٹی وی کی رپورٹ کے مطابق اسرائیلی سیاست دانوں اور مختلف ذرائع ابلاغ کے تجزیہ کاروں کا کہنا ہے کہ بنیامین نیتن یاہو قومی اہداف کی بجائے سیاسی مفادات اور اقتدار کے تحفظ کو ترجیح دے رہے ہیں۔ اسرائیلی میڈیا میں اظہار خیال کرنے والے مبصرین نے کہا کہ بہت سے اسرائیلی شہری اور سیاسی حلقے توقع کر رہے تھے کہ نیتن یاہو ایسے اقدامات کریں گے، جنہیں وہ اسرائیل کے تزویراتی مقاصد کے حصول کیلئے ضروری سمجھتے ہیں، تاہم ان کی حالیہ پالیسیوں نے ان توقعات کو پورا نہیں کیا۔
ناقدین کا کہنا ہے کہ انہوں نے ایک بار پھر ریاستی مفادات کے بجائے اپنی سیاسی بقا کو ترجیح دی، تجزیہ کاروں کے مطابق نیتن یاہو کے بعض خفیہ سیاسی مقاصد بھی تھے، وہ بیروت میں فوجی کارروائیوں کے ذریعے امریکہ اور ایران کے درمیان جاری مذاکراتی عمل کو ناکام بنانا چاہتے تھے، اسی تناظر میں امریکی صدر ٹرمپ نے نیتن یاہو سے رابطہ کیا اور انہیں ممکنہ نتائج سے آگاہ کرتے ہوئے دباؤ ڈالا۔