جنوبی غزہ میں جھڑپ، ایک اسرائیلی فوجی ہلاک
اشاعت کی تاریخ: 10th, July 2025 GMT
اسرائیلی فوج نے اعلان کیا کہ اس کا ایک فوجی’ابراہم عزولائی‘ جنوبی غزہ میں حماس کے مزاحمت کاروں سے جھڑپ میں ہلاک ہوگیا۔
اسرائیلی فوج کا دعویٰ ہے کہ مزاحمت کار ابراہم عزولائی کو اغوا کرنا چاہتے تھے، اسی کوشش کے دوران وہ مزاحمت کاروں کی گولیوں کا نشانہ بن گیا۔ 25 سالہ عزولائی جنوبی کمانڈ کے انجینیئرنگ یونٹ میں ہیوی انجینیئرنگ آپریٹر کے طور پر کام کرتا تھا۔
یہ بھی پڑھیے مقبوضہ شمالی غزہ میں اسرائیلی فوجیوں پر حملے، کم از کم 5 ہلاک،14 زخمی، 2 کی حالت تشویشناک
فوج کے مطابق، حماس کے کچھ مسلح مزاحمت کار غزہ کے علاقہ خان یونس میں ایک سرنگ سے باہر نکلے، انہوں نے عزولائی پر حملہ کیا۔ عزولائی جو ایک کھدائی کرنے والے مشین کے ساتھ کام کر رہا تھا، ان عسکریت پسندوں کے ساتھ مقابلہ کرتے ہوئے ہلاک ہوگیا۔ بعدازاں حملہ آوروں نے اسرائیلی فوجی کی لاش کو اغوا کرنے کی کوشش کی، لیکن وہاں موجود دیگر اسرائیلی فوجیوں نے اس کوشش کو ناکام بنا دیا۔
یہ بھی پڑھیے غزہ میں جنگ بہت سخت، بوجھ ناقابل برداشت، اسرائیلی صدر کا اعتراف
کہا جارہا ہے کہ عزولائی نے اپنی شادی کے 3 ماہ بعد ہی اپنی جان گنوا دی۔
آپ اور آپ کے پیاروں کی روزمرہ زندگی کو متاثر کرسکنے والے واقعات کی اپ ڈیٹس کے لیے واٹس ایپ پر وی نیوز کا ’آفیشل گروپ‘ یا ’آفیشل چینل‘ جوائن کریں
اسرائیلی فوج خان یونس غزہ.
ذریعہ
ذریعہ: WE News
کلیدی لفظ: اسرائیلی فوج خان یونس اسرائیلی فوج
پڑھیں:
سعودی عرب ابراہام معاہدوں میں شامل ہوا تو یہ تاریخی پیش رفت ہوگی؛ اسرائیلی وزیراعظم
امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ نے سعودی عرب کے ساتھ جوہری معاہدے کے لیے اسرائیل سے تعلقات کی بحالی سے مشروط کردیا۔
عالمی خبر رساں ادارے کے مطابق اسرائیلی وزیراعظم بنیامین نیتن یاہو نے کہا ہے کہ اگر سعودی عرب ابراہام معاہدوں میں شامل ہو جاتا ہے تو یہ مشرقِ وسطیٰ میں امن کے لیے ایک ’’تاریخی جست‘‘ ثابت ہوگی۔
نیتن یاہو نے اپنے بیان میں مزید کہا کہ سعودی عرب کی ابراہام معاہدوں میں شمولیت نہ صرف اسرائیل اور عرب دنیا کے تعلقات میں ایک نئے باب کا آغاز کرے گی بلکہ پورے خطے میں استحکام اور تعاون کے امکانات بھی بڑھ جائیں گے۔
خیال رہے کہ اسرائیلی وزیراعظم کا یہ بیان امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ کی جانب سے سعودی عرب کے سول جوہری پروگرام کو اسرائیل سے تعلقات معمول پر لانے سے مشروط کرنے کے بعد سامنے آیا ہے۔
کچھ دیر قبل ہی امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ نے اپنے سوشل میڈیا پلیٹ فارم ٹروتھ سوشل پر کہا تھا کہ امریکا اور سعودی عرب کے درمیان مجوزہ سول جوہری معاہدے کی منظوری اس وقت تک نہیں دی جائے گی جب تک سعودیہ ابراہام معاہدوں میں شامل نہیں ہوجاتا۔
صدر ڈونلڈ ٹرمپ نے اپنی پوسٹ میں یہ بھی واضح کیا تھا کہ مجوزہ معاہدہ صرف پُرامن اور غیر فوجی مقاصد کے لیے ہوگا اور اس کے تحت سعودی عرب کو یورینیم افزودگی کی اجازت نہیں دی جائے گی۔
یاد ہے کہ ایک روز قبل جب جوہری معاہدے کی ابتدائی منظوری کا اعلان کیا گیا تھا تو صدر ٹرمپ نے اسے سعودی عرب کے اسرائیل سے تعلقات معمول پر لانے کی شرط سے نہیں جوڑا تھا تاہم بعد میں انھوں نے واضح کیا کہ دونوں معاملات ایک دوسرے سے منسلک ہیں۔
ادھر سعودی حکومت نے تاحال صدر ٹرمپ کے تازہ بیان پر کوئی باضابطہ ردعمل نہیں دیا تاہم ریاض متعدد مواقع پر واضح کرچکا ہے کہ وہ اس وقت تک اسرائیل کو تسلیم نہیں کرے گا جب تک فلسطینی ریاست کے قیام کے لیے قابلِ عمل اور واضح راستہ موجود نہ ہو۔
سعودی عرب کا مؤقف رہا ہے کہ 1967 کی سرحدوں کی بنیاد پر آزاد فلسطینی ریاست کا قیام، مشرقی یروشلم کو اس کا دارالحکومت بنانا اور فلسطینی عوام کے جائز حقوق کا تحفظ اسرائیل سے تعلقات کی بحالی کے لیے بنیادی شرائط ہیں۔
ابراہام معاہدے کیا ہیں؟
ابراہام معاہدے 2020 میں امریکی ثالثی کے تحت طے پائے تھے جن کے نتیجے میں متحدہ عرب امارات، بحرین، سوڈان اور مراکش نے اسرائیل کے ساتھ سفارتی تعلقات قائم کیے۔ بعد ازاں قازقستان نے بھی معاہدے کی حمایت کا اعلان کیا تاہم سعودی عرب اب تک اس کا حصہ نہیں بنا۔
ان معاہدوں کا مقصد اسرائیل کے عرب و مسلم ممالک کے ساتھ سفارتی، اقتصادی اور سکیورٹی تعاون کو فروغ دینا تھا لیکن غزہ جنگ اور فلسطینی مسئلے کے باعث سعودی عرب نے اسرائیل کے ساتھ تعلقات معمول پر لانے کا عمل روک رکھا ہے۔