لیاری میں گرنے والی عمارت کا مقدمہ درج، ایک ڈائریکٹر کے علاوہ تمام ملزمان گرفتار
اشاعت کی تاریخ: 10th, July 2025 GMT
کراچی کے علاقے لیاری میں 5 منزلہ عمارت گرنے کا مقدمہ محکمہ بلدیات کی مدعیت میں درج کر لیا گیا۔
مقدمے میں ایس بی سی اے میں سال 2022 سے 2025 تک تعینات 6 ڈائریکٹرز، 2 ڈپٹی ڈائریکٹرز اور 3 بلڈنگ انسپکٹرز کو نامزد کیا گیا ہے، ایک ڈائریکٹر کے علاوہ تمام ملزمان کو گرفتار کر لیا گیا، مقدمے کے مطابق ایس بی سی اے کے افسران اور عملے نے غفلت اور لاپروائی برتی ہے۔
عمارت گرنے کے مقدمے کی کاپی جیو نیوز نے حاصل کرلی، مقدمہ کے مطابق گرنے والی عمارت کا پلاٹ 527.
عمارت کی مالکن کے بھتیجے نے جیو نیوز سے گفتگو کرتے ہوئے بتایا کہ ان کے خاندان کے افراد چوتھی منزل پر رہتے تھے، خاتون کو تشویش ناک حالت میں نکالا گیا ہے، بیٹا انتقال کر گیا، تین رشتہ دار اب بھی پھنسے ہوئے ہیں۔
پلاٹ نمبر 18 ایل وائی کا رقبہ 527.3 گز ہے، 1986میں اس پر گراؤنڈ پلس فائیو عمارت تعمیر کی گئی، خطرناک اور ناقابل رہائش اسٹرکچر کے باوجود عمارت میں 20 فلیٹ تعمیر کیے گئے تھے، 2022 میں عمارت کی خستہ حالی سے متعلق ایس بی سی اے افسران اور عملے کو معلومات تھیں، مقدمے میں 2022 سے 2025 تک ڈائریکٹر سید آصف رضوی، سید ضرغام، سید عرفان، اشفاق، جلیس صدیقی، فہیم مرتضیٰ، ڈپٹی ڈائریکٹر عاصم خان، فہیم صدیقی، بلڈنگ انسپکٹر ظفر اقبال، ذوالفقار شاہ، منصور ابڑو اور اسسٹنٹ ڈائریکٹر ظفر اقبال کو مقدمے میں نامزد کیا گیا ہے۔
لیاری کے علاقے بغدادی میں پانچ منزلہ عمارت گرگئی، حادثے میں 5افراد جاں بحق ، 7 زخمی ہوگئے، ملبے تلے 25 سے 30 افراد کے دبے ہونے کا خدشہ ہے۔
نامزد افسران اور دیگر عملے نے غفلت اور لا پروائی برتی اور دفتری ریکارڈ میں عمارت کی خستہ حالی کا اندراج نہیں کیا، مقدمے میں عمارت کے موجودہ مالکان رحیم بخش، تاج محمد، نثار احمد عبدلعزیز اور دیگر مالکان کو بھی نامزد کیا گیا ہے۔
ڈی آئی جی ساؤتھ اسد رضا نے بتایا کہ مالکان نے عمارت میں موجود فلیٹس اقلیتی کمیونٹی کو کرائے پر دیے۔ مقدمے میں نامزد ڈائریکٹر آصف رضوی کے علاوہ تمام ملزمان گرفتار ہیں، عمارت گرنے سے 27 افراد جاں بحق اور 4 زخمی ہوئے۔
خیال رہے کہ 4 جولائی 2025 کو لیاری میں عمارت گرنے سے 27 افراد جاں بحق اور 4 زخمی ہوئے۔
ذریعہ
ذریعہ: Jang News
کلیدی لفظ: ایس بی سی اے افسران اور لیاری میں گرنے والی عمارت کی گیا ہے
پڑھیں:
سوات: گھر کی چھت اور ہوٹل کا کمرہ گرنے سے بچیوں سمیت 3 افراد جاں بحق
سوات (ڈیلی پاکستان آن لائن) سوات کے مختلف علاقوں میں چھتیں منہدم ہونے کے دو الگ الگ واقعات میں بچیوں سمیت 3 افراد جاں بحق جبکہ 3 زخمی ہوگئے۔
نجی ٹی وی چینل ایکسپریس نیوز کے مطابق چارباغ کے علاقے گنڈھیرئی میں ایک گھر کی چھت اچانک گر گئی، جس کے نتیجے میں 8 سالہ شیما اور 6 سالہ مناہل جاں بحق ہوگئیں، جبکہ حورین اور ان کی والدہ زخمی ہوئیں۔
واقعے کی اطلاع ملتے ہی ریسکیو 1122 سوات کی ڈیزاسٹر ریسپانس اور میڈیکل ٹیمیں موقع پر پہنچ گئیں۔
مقامی افراد نے ملبے تلے دبے چار افراد کو نکال لیا تھا، جنہیں ریسکیو اہلکاروں نے طبی امداد فراہم کی۔ زخمیوں کو مزید علاج کے لیے تحصیل ہیڈکوارٹر اسپتال منگلور منتقل کر دیا گیا جبکہ جاں بحق بچیوں کی لاشیں بھی اسپتال منتقل کر دی گئیں۔
ایف آئی اے نے جعلی دستاویزات پر بیرون ملک جانے والی 2 خواتین کو آف لوڈ کر دیا ، 2 ایجنٹ گرفتار
دوسری جانب کالام کے علاقے بلوگا میں ایک کچے ہوٹل کے کمرے کی چھت گرنے سے 32 سالہ وقاص جاں بحق جبکہ دو افراد زخمی ہوگئے۔ جاں بحق ہونے والے شخص کا تعلق ملاکنڈ سے بتایا جاتا ہے۔
ریسکیو 1122 کی ٹیمیں فوری طور پر موقع پر پہنچیں اور زخمیوں کو ابتدائی طبی امداد فراہم کرنے کے بعد تحصیل ہیڈکوارٹر اسپتال کالام منتقل کر دیا۔
ریسکیو حکام کے مطابق دونوں واقعات کی مزید تحقیقات جاری ہیں۔
اس سے قبل، شانگلہ کے علاقے کوزہ الپوری، رحیم آباد میں ایک گھر میں کمرے کی چھت گرنے سے 6 بچے جاں بحق جبکہ ایک بچی زخمی ہوگئی تھی۔
پنجاب میں آندھی اور طوفان سے تباہی ، ایک شہری جاں بحق، 46 گھر متاثر
مزید :