سری نگر(کے پی آئی) آزاد کشمیر میں مقیم مقبوضہ جموں وکشمیر کے ایک اور حریت پسند غلام رسول شاہ کی جائیداد بحق سرکار ضبط کر لی گئی ہے ۔شمالی ضلع کپواڑہ کے سوگام علاقے کے رہائشی غلام رسول شاہ کی5کنال 3مرلے پر مشتمل زرعی اراضی کو غیر قانونی سرگرمیوں کی روک تھام کے کالے قانون یو اے پی اے کے تحت ضبط کی گئی ہے ۔ دوسری مقبوضہ کشمیر کے 15 جیلوں میں قیدیوں کو رکھنے کی گنجائش ختم ہوگئی ہے  قابض انتظامیہ نے 15 جیلوں میں گنجائش سے 37.

2 فیصد زیادہ قیدی رکھے ہوئے ہیں  ۔ بھارتی ٹیو یو کے مطابق  جموں وکشمیر  میں کل 15 جیلوں میں 3,860 قیدیوں کے لیے موجود گنجائش کے مقابلے میں 5,295 قیدی رکھے گئے ہیں، جو کہ جیلوں میں گنجائش سے 37.2 فیصد زیادہ قیدیوں کی موجودگی ظاہر کرتے ہیں۔ضلع پلوامہ سے ایک 54 سالہ ڈرائیور کی نعش پراسرار حالت میں برآمد ہوئی ہے۔ ڈرائیور کی نعش ضلع کے علاقے کدل بل پامپور سے ملی ہے۔ نعش کی شناخت سجاد احمد شاہ کے طور پر ہوئی ہے جو وادی کشمیر کے شمالی ضلع کپواڑہ پنزگام کا رہائشی بتایا جاتا ہے۔ ادھر کل جماعتی حری کانفرنس نے 13 جولائی کو یوم شہدائے کشمیر کے موقع پر مقبوضہ کشمیر میں مکمل ہڑتال کی کال دی ہے۔ ڈوگرہ مہاراجہ ہری سنگھ کے فوجیوں نے 13 جولائی 1931 ء کو 22 کشمیریوں کو گولیاں مار کر شہید کر دیا تھا۔ جبکہ ضلع کٹھوعہ میں شدید بارش اور لینڈ سلائیڈنگ کے دوران ایک مال بردار ریل پٹڑی سے اتر گئی۔ یہ واقعہ کٹھوعہ کے علاقے لکھن پور کے قریب لینڈ سلائیڈنگ کا ملبہ ریلوے ٹریک پر گرنے کے سبب پیش آیا۔ 

ذریعہ

ذریعہ: Nawaiwaqt

کلیدی لفظ: جیلوں میں کشمیر کے

پڑھیں:

نیشنل کانفرنس کی حکومت ہر محاذ پر ناکام ہو چکی ہے، غلام علی کھٹانہ

بی جے پی کے لیڈر نے کہا کہ ان کی جماعت جموں و کشمیر بھر سے عوامی آراء اور شکایات جمع کر رہی ہے اور عوامی مسائل کو پارلیمنٹ میں اٹھایا جائیگا۔ اسلام ٹائمز۔ بھارت میں برسراقتدار مخلوط حکومت کی اتحادی جماعت بی جے پی کے لیڈر اور راجیہ سبھا کے رکنِ پارلیمان انجینیئر غلام علی کھٹانہ نے الزام عائد کیا کہ جموں و کشمیر میں نیشنل کانفرنس کی قیادت والی حکومت عوامی مسائل کے حل میں ہر محاذ پر ناکام ثابت ہوئی ہے، جس کے باعث عوام میں بے چینی اور ناراضگی بڑھ رہی ہے۔ ضلع رامبن کے سب ڈویژن بنیہال میں منعقدہ ایک عوامی دربار سے خطاب کرتے ہوئے جس میں مقامی باشندوں اور سرکاری افسران نے شرکت کی، غلام علی کھٹانہ نے دعویٰ کیا کہ گزشتہ دو برسوں کے دوران تعلیم، صحت، پینے کے صاف پانی اور بجلی کے شعبوں کی حالت مزید خراب ہوئی ہے۔ انہوں نے وزیرِ اعلیٰ عمر عبداللہ کی قیادت والی حکومت پر عوام سے دور ہونے کا الزام عائد کرتے ہوئے زیادہ جوابدہی کا مطالبہ کیا۔

بی جے پی کے لیڈر نے کہا کہ ان کی جماعت جموں و کشمیر بھر سے عوامی آراء اور شکایات جمع کر رہی ہے اور عوامی مسائل کو پارلیمنٹ میں اٹھایا جائے گا۔ انہوں نے مرکز کے زیرِ انتظام جموں و کشمیر کی انتظامیہ کی کارکردگی پر وائٹ پیپر جاری کرنے کا مطالبہ بھی کیا اور گوجر-بکروال برادریوں اور بے گھر کشمیری پنڈتوں کے لئے مزید حفاظتی اقدامات کی ضرورت پر زور دیا۔ عوامی ملاقات کے دوران مختلف عوامی مسائل اور ترقیاتی امور پر بھی تبادلۂ خیال کیا گیا، جس میں مقامی حکام، بی جے پی رہنماؤں اور علاقے کے باشندوں نے شرکت کی۔

متعلقہ مضامین

  • فیصل ممتاز راٹھور سے چوہدری یاسین کی ملاقات
  • بجٹ 2026-27: جائیداد کی خرید و فروخت پر ٹیکس میں بڑی کمی کی تجویز
  • عشق پاکستانی نوجوان کو ایل او سی کے پار لے گیا
  • دکانیں، بازار، شاپنگ مالز اور عمومی ریٹیل کاروبار رات 9 بجے تک کھلے رکھنے کی اجازت دینے کا فیصلہ
  • اگر لداخ سیاسی اتحاد قائم کرسکتا ہے تو ہم بھی کرسکتے ہیں، محبوبہ مفتی
  • میرپور آزاد کشمیر ، مری ، کھاریاں سمیت ملک کے کئی علاقوں میں تیز ہواؤں کیساتھ بارش
  • نیشنل کانفرنس کی حکومت ہر محاذ پر ناکام ہو چکی ہے، غلام علی کھٹانہ
  • آزاد کشمیر کے ترقیاتی منصوبوں کیلئے 54 ارب روپے سے زائد فنڈز تجویز
  • ماہرین فلکیات نے مقناطیسی میدان رکھنے والے سیاروں کا سراغ لگا لیا
  • سندھ کی جیلوں میں گنجائش سے زائد قیدی موجود