آزاد کشمیر الیکشن، ن لیگ نے مشاورتی کمیٹی قائم کر دی
اشاعت کی تاریخ: 11th, July 2025 GMT
data-id="863a0a8" data-element_type="widget" data-widget_type="theme-post-content.default">
مظفرآباد (آن لائن) آزاد کشمیر میں آئندہ انتخابات کے پیش نظر مسلم لیگ (ن) نے بھرپور سیاسی حکمت عملی ترتیب دینے کے لیے اعلیٰ سطحی مشاورتی کمیٹی قائم کر دی ہے۔ پارٹی قیادت کی جانب سے وزیراعظم کے سیاسی مشیر رانا ثنااللہ کو کمیٹی کا کنوینر مقرر کیا گیا ہے۔
مشاورتی کمیٹی کا پہلا اجلاس رانا ثنااللہ کی زیر صدارت منعقد ہو چکا ہے، جس میں آئندہ انتخابات کے حوالے سے اہم فیصلے متوقع ہیں۔ کمیٹی میں وفاقی وزیر امور کشمیر انجینئر امیر مقام، جو کہ ن لیگ خیبرپختونخوا کے صدر بھی ہیں، کو شامل کیا گیا ہے۔ آزاد کشمیر مسلم لیگ (ن) کے صدر اور رکن قانون ساز اسمبلی شاہ غلام قادر، سابق وزیراعظم راجہ فاروق حیدر، سینئر نائب صدر مشتاق منہاس، سیکرٹری جنرل چودھری طارق فاروق، اور ڈاکٹر نجیب نقی خان بھی کمیٹی کا حصہ ہوں گے۔
ذریعہ
ذریعہ: Jasarat News
پڑھیں:
آزاد کشمیر مہاجرین نشستوں کے معاملے پر وفاقی حکومت نرم
ذرائع کے مطابق وفاقی حکومت مہاجرین کی نشستیں مکمل طور پر ختم کرنے کے بجائے ان کی تعداد کم کرنے کی تجویز پر غور کر رہی ہے۔ اسلام ٹائمز۔ آزاد جموں و کشمیر قانون ساز اسمبلی میں مہاجرین کی مخصوص نشستوں کے معاملے پر وفاقی حکومت نے اہم پیش رفت کرتے ہوئے جوائنٹ ایکشن کمیٹی کے بڑے مطالبے کو تسلیم کرنے پر آمادگی ظاہر کر دی ہے۔ ذرائع کے مطابق وفاقی حکومت مہاجرین کی نشستیں مکمل طور پر ختم کرنے کے بجائے ان کی تعداد کم کرنے کی تجویز پر غور کر رہی ہے۔ ذرائع کا کہنا ہے کہ وفاقی حکومت نے مہاجرین کی نشستوں میں کمی سے متعلق اپنا مؤقف آزاد کشمیر حکومت تک پہنچا دیا ہے، جبکہ وزیراعظم آزاد کشمیر جلد جوائنٹ ایکشن کمیٹی سے رابطہ کر کے وفاقی حکومت کے پیغام سے آگاہ کریں گے۔ حکومتی ذرائع کے مطابق وفاق کی جانب سے ویلی کی نشستوں میں اضافے اور مہاجرین کی نشستوں میں کمی کی تجویز زیر غور ہے، جس کا مقصد نمائندگی کے موجودہ تناسب میں توازن پیدا کرنا ہے۔
دوسری جانب اس معاملے پر سیاسی سرگرمیاں بھی تیز ہو گئی ہیں اور کل ہونے والی کل جماعتی کانفرنس کے اجلاس میں اہم فیصلوں اور مشترکہ لائحہ عمل کے اعلان کا امکان ظاہر کیا جا رہا ہے۔ سیاسی مبصرین کے مطابق مہاجرین اور ویلی نشستوں کے تناسب سے متعلق کسی بھی فیصلے کے آزاد کشمیر کی سیاسی ساخت اور انتخابی نظام پر دور رس اثرات مرتب ہو سکتے ہیں، جس کے باعث تمام متعلقہ حلقے صورتحال پر گہری نظر رکھے ہوئے ہیں۔