بھارتی اسپانسرڈ دہشت گردوں کا قوم کی حمایت سے خاتمہ کریں گے، محسن نقوی
اشاعت کی تاریخ: 11th, July 2025 GMT
وفاقی وزیر داخلہ محسن نقوی نے بلوچستان کے علاقے سرہ ڈاکئی میں قومی شاہراہ پر پیش آنے والے دہشتگرد حملے کی شدید الفاظ میں مذمت کی ہے، جس میں نہتے اور بے گناہ مسافروں کو نشانہ بنایا گیا۔انہوں نے واقعے کو فتنہ الہندوستان کے دہشتگردوں کی بزدلانہ کارروائی قرار دیتے ہوئے کہا کہ یہ سفاکیت کی انتہا ہے۔محسن نقوی نے اس دلخراش واقعے پر گہرے دکھ اور افسوس کا اظہار کرتے ہوئے جاں بحق افراد کے لواحقین سے دلی ہمدردی اور تعزیت کی۔انہوں نے کہا کہ ہم دکھ کی اس گھڑی میں سوگوار خاندانوں کے ساتھ کھڑے ہیں اور ان کے غم میں برابر کے شریک ہیں۔وفاقی وزیر داخلہ نے کہا کہ بے گناہ اور معصوم شہریوں کو نشانہ بنا کر دشمن نے اپنی درندگی اور بدترین بربریت کا مظاہرہ کیا ہے۔ان کا کہنا تھا کہ ہم ان بھارتی اسپانسرڈ دہشتگردوں اور ان کے مقامی آلہ کاروں کا ہر جگہ پیچھا کریں گے اور انہیں انجام تک پہنچائیں گے۔محسن نقوی نے مزید کہا کہ قوم کی مکمل حمایت اور اعتماد کے ساتھ ریاست ان تمام سازشوں کو ناکام بنائے گی جو پاکستان کے امن، استحکام اور سالمیت کے خلاف کی جا رہی ہیں۔
.
ذریعہ
ذریعہ: Nawaiwaqt
پڑھیں:
میئر لندن، 16 سال سے کم عمر بچوں کیلئے سوشل میڈیا پر پابندی کی حمایت
لندن کے میئر سر صادق خان(sadiq khan) نے 16 سال سے کم عمر بچوں کے لیے سوشل میڈیا پر پابندی کی حمایت کرتے ہوئے کہا ہے کہ بچوں کو آن لائن دنیا میں درپیش خطرات اور نقصانات سے بچانے کے لیے یہ ایک ضروری اقدام ہے۔
منگل کو لندن میں انجینئرز، کاروباری شخصیات اور سرمایہ کاروں سے خطاب کے دوران صادق خان نے کہا کہ جس طرح خوراک اور ادویات تیار کرنے والی کمپنیوں کو اپنی مصنوعات کی حفاظت ثابت کرنا پڑتی ہے، اسی طرح سوشل میڈیا کمپنیوں کو بھی اپنے پلیٹ فارمز کے بچوں کے لیے محفوظ ہونے کا ثبوت دینا چاہیے۔
انہوں نے کہا کہ جب تک سوشل میڈیا کمپنیاں اپنے پلیٹ فارمز کی حفاظت ثابت نہیں کرتیں، اس وقت تک کم عمر بچوں کے لیے ان پر پابندی عائد کرنا ہی نقصانات کو روکنے کا مؤثر طریقہ ہے۔
میئر نے اس بات پر بھی تشویش کا اظہار کیا کہ آن لائن مینوسفیئر نامی رجحان نوجوان لڑکوں اور مردوں پر منفی اثرات مرتب کر رہا ہے، جس سے ایک کھوئی ہوئی نسل پیدا ہونے کا خطرہ ہے۔
یہ مؤقف برطانوی وزیر اعظم سر کیئر اسٹارمر کے مؤقف سے زیادہ سخت سمجھا جا رہا ہے، اگرچہ وزیر اعظم نے بچوں کی آن لائن حفاظت کے لیے اہم اقدامات کا وعدہ کیا ہے، تاہم انہوں نے ابھی تک سوشل میڈیا پر مکمل پابندی کی حمایت نہیں کی۔
برطانوی حکومت نے حال ہی میں بچوں کے آن لائن تحفظ سے متعلق ایک مشاورتی عمل مکمل کیا ہے، جس میں سوشل میڈیا کے لیے کم از کم عمر مقرر کرنے، ایپس کے استعمال کے اوقات محدود کرنے، لا محدود اسکرولنگ اور آٹو پلے جیسی عادت ساز خصوصیات پر پابندی لگانے اور عمر کی تصدیق کے سخت نظام متعارف کرانے جیسے اقدامات پر رائے طلب کی گئی تھی۔
مزید پڑھیں:نیشنل ہیلتھ سروسز کیلئے 22 ارب روپے کا بجٹ مختص، اہم تفصیلات سامنے آگئیں
مشاورت کے نتائج کی بنیاد پر حکومت بچوں کے تحفظ کے لیے آئندہ پالیسی اور قانون سازی کے حوالے سے فیصلے کرے گی۔