ڈاکٹرز کا شبلی فراز کی اوپن ہارٹ سرجری کرنے پر غور، اسپتال ذرائع
اشاعت کی تاریخ: 11th, July 2025 GMT
ڈاکٹرز پی ٹی آئی کے رہنما اور سینیٹ میں قائد حزب اختلاف شبلی فراز کی اوپن ہارٹ سرجری کرنے پر غور کر رہے ہیں۔
شبلی فراز پشاور انسٹی ٹیوٹ آف کارڈیالوجی میں زیرِ علاج ہیں جہاں ڈاکٹرز ان کے کچھ ٹسیٹوں کا انتظار کر رہے ہیں۔
اسپتال ذرائع کے مطابق شبلی فراز کو بعض اوقات دل میں درد محسوس ہوتا ہے اور بلڈ پریشر بھی ہائی رہتا ہے، دل کی مرکزی شریانوں میں سے ایک شریان پر مسلز بریج ہے، شریانوں میں رکاوٹ کے باعث ہارٹ اٹیک کا خطرہ ہے۔
دوسری جانب شبلی فراز نے کہا ہے کہ دل کی بیماری کافی عرصے سے ہے لیکن احتیاط نہیں کر رہا تھا، ادویات بھی صیح طریقے سے نہیں لی تھیں اور معمولی ٹینشن بھی تھی۔
شبلی فراز نے کہا ہے کہ مستقبل میں احتیاط کروں گا، قوم میری صحت کے لیے دعا کرے۔
.
ذریعہ
ذریعہ: Jang News
کلیدی لفظ: شبلی فراز
پڑھیں:
’ابھی ہو گیا، بس‘، سونو نگم نے نیٹ احتجاج پر تبصرہ کرنے سے انکار کر دیا
معروف بھارتی گلوکار سونو نگم نے نیٹ احتجاج پر تبصرہ کرنے سے انکار کرتے ہوئے میڈیا نمائندوں سے کہا کہ اس معاملے پر ان سے مزید سوال نہ کیے جائیں۔
سونو نگم سے ایک حالیہ میڈیا گفتگو کے دوران مبینہ نیٹ پرچہ لیک اور تعلیمی اصلاحات کے مطالبے پر جاری احتجاج کے حوالے سے سوال کیا گیا، تاہم انہوں نے اس موضوع پر اپنی رائے دینے سے گریز کیا۔
رپورٹرز کی جانب سے مسلسل سوالات کیے جانے پر سونو نگم نے واضح کیا کہ وہ اس معاملے پر بات نہیں کرنا چاہتے۔ بار بار سوالات کیے جانے پر وہ کچھ برہم دکھائی دیے اور مختصراً کہا، ’’ابھی ہو گیا، بس۔‘‘ اس جملے کے ذریعے انہوں نے اشارہ دیا کہ وہ اس موضوع پر مزید گفتگو نہیں کرنا چاہتے۔
رپورٹس کے مطابق، یہ میڈیا گفتگو کہاں اور کس موقع پر ہوئی، اس حوالے سے کوئی تفصیلات سامنے نہیں آئیں۔
View this post on Instagram
نیٹ احتجاج پر متعدد شوبز شخصیات کا ردِعمل
سونو نگم کی خاموشی ایسے وقت میں سامنے آئی ہے جب بھارتی فلم انڈسٹری کی کئی معروف شخصیات نیٹ احتجاج پر اپنے خیالات کا اظہار کر رہی ہیں۔
اداکار سلمان خان، عالیہ بھٹ، دُلکر سلمان، وجے ورما، نصیرالدین شاہ، انوپم کھیر، ہیما مالنی، پریتی زنٹا اور عمران خان سمیت متعدد فنکار اس معاملے پر مختلف رائے کا اظہار کر چکے ہیں۔ بعض نے طلبہ کی حمایت کرتے ہوئے مذاکرات اور تعلیمی اصلاحات کا مطالبہ کیا جبکہ دیگر نے مختلف مؤقف اختیار کیا۔
واضح رہے کہ نیٹ امتحان میں مبینہ پرچہ لیک کے بعد ملک بھر میں طلبہ کی جانب سے احتجاج جاری ہے۔ مظاہرین امتحانی نظام میں شفافیت، ذمہ دار عناصر کے خلاف کارروائی اور احتساب کا مطالبہ کر رہے ہیں۔