نو مئی حملہ:عمر ایوب، شبلی فراز، زرتاج گل سمیت پی ٹی آئی کے 18 رہنما اشتہاری قرار
اشاعت کی تاریخ: 2nd, December 2025 GMT
نو مئی حملہ:عمر ایوب، شبلی فراز، زرتاج گل سمیت پی ٹی آئی کے 18 رہنما اشتہاری قرار WhatsAppFacebookTwitter 0 2 December, 2025 سب نیوز
راولپنڈی(آئی پی ایس) انسداد دہشت گردی عدالت نے 9 مئی جی ایچ کیو حملہ کیس میں پی ٹی آئی کے 18 غیر حاضر ملزمان کو اشتہاری قرار دے دیا۔
انسداد دہشتگردی عدالت کی جانب سے اشتہاری قرار دیے گئے ملزمان میں شبلی فراز، عمر ایوب، کنول شوذب، شیخ راشد شفیق اور زرتاج گل شامل ہیں۔
اس کے علاوہ مہر جاوید، محمد احمد چٹھہ، رائے حسن نواز، بلال اعجاز، مرتضیٰ خان، اشرف سوہنا، چوہدری آصف، شکیل نیازی، محمد انصر اقبال، حیدر محمود، شاہیر سکندر اور حمزہ لطیف کو بھی اشتہاری قرار دیا گیا ہے۔
عدالت نے تمام ملزمان کی غیرمنقولہ جائیداد ضبط کرنے کے احکامات جاری کردیے جب کہ اس سلسلے میں ملزمان کے متعلقہ اضلاع کے ریونیو افسران کو بھی احکامات دیے گئے ہیں۔
عدالت نے ریونیو افسران کو ملزمان کی جائیداد قرق کرنے کا حکم دیتے ہوئے کہا ہےکہ ملزمان مقررہ تاریخ کے اندر عدالت کے سامنے سرنڈر نہیں کرتے تو ان کی جائیداد نیلام کی جائے، عدالت نے ملزمان کے ضامنوں کو بھی نوٹسز جاری کردیے ہیں۔
روزانہ مستند اور خصوصی خبریں حاصل کرنے کے لیے ڈیلی سب نیوز "آفیشل واٹس ایپ چینل" کو فالو کریں۔
WhatsAppFacebookTwitter پچھلی خبرپارلیمنٹ کا مشترکہ اجلاس، قومی کمیشن برائے اقلیتی حقوق بل منظور، اپوزیشن کا احتجاج پارلیمنٹ کا مشترکہ اجلاس، قومی کمیشن برائے اقلیتی حقوق بل منظور، اپوزیشن کا احتجاج سینیٹر عرفان صدیقی کی خالی سینیٹ نشست پر ضمنی انتخاب کا اعلان اسلام آباد پولیس کا غیر قانونی افغان باشندوں، قبضہ مافیا اور منشیات فروشوں کے خلاف سخت کریک ڈاؤن کا اعلان بنوں: گاڑی پر فائرنگ، اسسٹنٹ کمشنر شاہ ولی خان اور 2 پولیس اہلکار شہید سی ڈی اے نے ضابطہ خلاف ورزیوں پر بحریہ ٹاؤن کے خلاف باضابطہ کارروائی شروع کر دی سپریم کورٹ میں مستقل جج کی تعیناتی، جوڈیشل کمیشن آف پاکستان کا اجلاس آج ہوگاCopyright © 2025, All Rights Reserved
رابطہ کریں ہماری ٹیم.
ذریعہ
ذریعہ: Daily Sub News
کلیدی لفظ: اشتہاری قرار عدالت نے
پڑھیں:
مستونگ میں سیشن جج عبدالحکیم کاکڑ فائرنگ میں شہید، گن مین بھی جاں بحق
بلوچستان کے ضلع مستونگ میں قومی شاہراہ پر نامعلوم مسلح افراد کی فائرنگ کے نتیجے میں سیشن جج عبدالحکیم کاکڑ اور ان کے گن مین شہید ہوگئے، جبکہ ایڈیشنل سیشن جج طارق لاشاری سمیت دو افراد شدید زخمی ہو گئے۔ واقعے کے بعد قانون نافذ کرنے والے اداروں نے علاقے کو گھیرے میں لے کر حملہ آوروں کی تلاش اور تحقیقات کا آغاز کر دیا ہے۔
ڈپٹی کمشنر مستونگ بہرام سلیم کے مطابق سیشن جج عبدالحکیم کاکڑ کوئٹہ سے مستونگ جا رہے تھے کہ قومی شاہراہ پر نامعلوم مسلح افراد نے ان کی گاڑی پر اندھا دھند فائرنگ کر دی۔ حملے کے نتیجے میں سیشن جج اور ان کے گن مین موقع پر ہی شہید ہوگئے، جبکہ گاڑی میں سوار ایڈیشنل سیشن جج طارق لاشاری سمیت دو افراد شدید زخمی ہوئے۔
واقعے کے فوری بعد شہداء اور زخمیوں کو قریبی اسپتال منتقل کیا گیا، جہاں زخمیوں کو طبی امداد فراہم کی جا رہی ہے۔ سکیورٹی فورسز نے جائے وقوعہ کو گھیرے میں لے کر شواہد اکٹھے کیے اور حملہ آوروں کی گرفتاری کے لیے سرچ آپریشن شروع کر دیا ہے۔
دوسری جانب بلوچستان بار کونسل نے حملے کو نظامِ انصاف پر دہشت گردانہ حملہ قرار دیتے ہوئے شدید مذمت کی ہے۔ بار کونسل نے واقعے کے خلاف صوبہ بھر میں دو روزہ عدالتی ہڑتال اور تین روزہ سوگ کا اعلان کیا ہے۔ اعلامیے میں ججز، وکلا اور شہریوں کی سکیورٹی یقینی بنانے، حملے میں ملوث عناصر کی فوری گرفتاری اور انہیں قانون کے مطابق سزا دینے کا مطالبہ بھی کیا گیا۔
وزیراعلیٰ بلوچستان میر سرفراز بگٹی اور صوبائی وزیر داخلہ میر ضیاء اللہ لانگو نے بھی واقعے کی سخت الفاظ میں مذمت کرتے ہوئے شہداء کے اہل خانہ سے اظہار تعزیت کیا۔ انہوں نے متعلقہ اداروں کو حملہ آوروں کی فوری گرفتاری اور واقعے کی جامع تحقیقات کی ہدایت دیتے ہوئے کہا کہ ذمہ دار عناصر کو قانون کی گرفت سے نہیں بچنے دیا جائے گا۔