data-id="863a0a8" data-element_type="widget" data-widget_type="theme-post-content.default">

راولپنڈی: انسدادِ دہشت گردی عدالت نے جی ایچ کیو حملہ کیس میں سابق وفاقی وزرا، ارکانِ پارلیمنٹ اور دیگر اہم سیاسی رہنماؤں سمیت 15اشتہاری ملزمان کی جائیداد ضبط کرنے کا حکم جاری کردیا۔

عدالت کی جانب سے نئے حکم نامے میں واضح کیا گیا ہے کہ تمام نامزد افراد کو پہلے ہی سنائی جانے والی سزاؤں کے باوجود وہ عدالت کے سامنے پیش نہیں ہوئے، جس کے باعث کارروائی کو اگلے مرحلے میں آگے بڑھایا جا رہا ہے۔

سماعت کے دوران عدالت کو آگاہ کیا گیا کہ یہ تمام ملزمان طویل عرصے سے قانون کی دسترس سے باہر ہیں اور باقاعدہ اشتہاری قرار دیے جا چکے ہیں۔ فہرست میں سابق قائد حزبِ اختلاف عمر ایوب، سابق قائد حزبِ اختلاف سینیٹ شبلی فراز، سابق وزیر زرتاج گل، شیخ راشد شفیق، حسن نواز، شکیل نیازی سمیت وہ تمام افراد شامل ہیں جن کے خلاف فیصل آباد کی انسدادِ دہشت گردی عدالت پہلے ہی 40، 40 سال قید کی سزا سنا چکی ہے۔

عدالت نے اپنے تحریری حکم میں کہا کہ تمام اشتہاری ملزمان کو ایک بار پھر حکم دیا جاتا ہے کہ وہ عدالت کے روبرو پیش ہو کر اپنی موجودگی یقینی بنائیں، بصورتِ دیگر ان کی مکمل منقولہ اور غیرمنقولہ جائیداد ضبط کر لی جائے گی۔ عدالت نے یہ بھی ہدایت دی کہ جائیداد کی ضبطی کے بعد متعلقہ ریونیو حکام اسے قانون کے مطابق اوپن نیلامی کے ذریعے فروخت کرنے کا عمل بھی مکمل کریں۔

.

ذریعہ

ذریعہ: Jasarat News

پڑھیں:

وفاقی آئینی عدالت: پولٹری فیڈ ملز سے 4 فیصد اضافی ٹیکس کی وصولی غیرقانونی قرار

اسلام آباد (ڈیلی پاکستان آن لائن) بجٹ سے چند روز قبل ہی آئینی عدالت سے حکومت کو ریونیو کی مد میں بڑا جھٹکا، وفاقی آئینی عدالت نے پولٹری فیڈ ملز سے 4 فیصد اضافی ٹیکس کی وصولی غیرقانونی قرار دے دی۔

نجی وی چینل دنیا نیوز کے مطابق وفاقی آئینی عدالت نے غیر رجسٹرڈ پولٹری فارمز کو فیڈ سپلائی کرنے سے متعلق اہم فیصلہ جاری کر دیا۔ جسٹس عامر فاروق کی سربراہی میں دو رکنی بنچ نے فیصلہ جاری کیا۔

 وفاقی آئینی عدالت نے اپنے فیصلے میں کہا کہ ٹیکس قانون کے سیکشن 31 اے میں ابہام ہے، حکومت نے غیررجسٹرڈ پولٹری فارمز کو فیڈسپلائی کرنے پر مل مالکان پر اضافی ٹیکس عائد کیا، اضافی ٹیکس سال 2024 کے فنانس ایکٹ کی مد میں وصول کیا جا رہا تھا۔

لاہور ائیرپورٹ اغواء کیس کا ڈراپ سین، غیرملکی خاتون دوست کے ساتھ رضامندی سے گئی

فیصلے میں کہا گیا کہ قانون کے مطابق پولٹری فارمز کو ٹیکس سے مستثنیٰ قرار دیا گیا ہے، قانون کے مطابق استثنی ملنے پر پولٹری فارمز رجسٹریشن کے پابند نہیں ہیں، قانون غیررجسٹرڈ پولٹری فارمز کو مکمل تحفظ فراہم کرتا ہے۔

وفاقی آئینی عدالت نے فیصلے میں مزید لکھا کہ رجسٹریشن کی قانونی پابندی نہ ہونے پر پولٹری فارمز اور فیڈ ملز کو سزا نہیں دی جا سکتی۔

وفاقی آئینی عدالت نے لاہور ہائیکورٹ کا فیصلہ کالعدم قرار دے دیا۔ لاہور ہائیکورٹ نے پولٹری فیڈ ملز سے 4 فیصد اضافی ٹیکس کی وصولی کو درست قرار دیا تھا۔ پولٹری فیڈ ملز مالکان نے اضافی ٹیکس کی وصولی کیخلاف عدالت سے رجوع کیا تھا۔

ڈیل مکمل جھوٹ ہے ، پی ٹی آئی کوئی ڈیل نہیں کررہی، عمران خان کو خاموش کروانے کے لیے قید تنہائی میں رکھاگیا ہے،علیمہ خان

مزید :

متعلقہ مضامین

  • بجٹ 2026-27: جائیداد کی خرید و فروخت پر ٹیکس میں بڑی کمی کی تجویز
  • کوٹ عبدالمالک: بیٹی‘ سابق بیوی پر تشدد‘ تیزاب پھینک دیا‘ دونوں جھلس گئیں
  • وفاقی جماعتوں کے تمام مرکزی قائدین گلگت بلتستان انتخابات میں متحرک
  • مالی سال 26-2025 کے اختتام پر کلیمز جمع کرانے کی آخری تاریخ 12 جون مقرر
  • وفاقی آئینی عدالت نے پولٹری فیڈ ملز سے 4 فیصد اضافی ٹیکس کی وصولی غیرقانونی قرار دے دی
  • وزیراعظم کی زیر صدارت اجلاس، معیشت کی مجموعی ترقی اور پالیسی اقدامات پر جائزہ
  • نواز شریف ایک روزہ دورے پر گلگت بلتستان پہنچ گئے
  • وفاقی آئینی عدالت: پولٹری فیڈ ملز سے 4 فیصد اضافی ٹیکس کی وصولی غیرقانونی قرار
  • کراچی: ہل پارک سے متصل متنازع پلاٹ پر تعمیرات کے معاملے پر میئر کراچی نے وفاقی حکومت کو خط لکھ دیا
  • وفاقی بجٹ میں سابق قبائلی علاقوں کے لیے ٹیکس استثنیٰ ختم کیے جانے کا امکان