بھارتی ڈرامہ انڈسٹری  کا مشہور ترین ڈرامہ سیریل ’کیوںکہ ساس بھی کبھی بہو تھی‘ کا دوسرا سیزن جلد ہی اسٹار پلس پر نشتر کیا جائے گا جس کا شائقین بے صبری سے انتظار کر رہے ہیں۔ ڈرامے میں مرکزی کردار ادا کرنے والی اداکارہ سمرتی ایرانی کو دوبارہ تلسی کے روپ میں دیکھا جا سکے گا۔

محبوب کردار تُلسی کے طور پر ان کی واپسی نے پہلے ہی مداحوں کی پرانی یادیں تازہ کر دی ہیں۔ لیکن جو چیز سب کی توجہ کا مرکز بن گئی ہے وہ ہے سمرتی ایرانی کا فی قسط 14 لاکھ روپے کا زبردست معاوضہ۔

مختلف میڈیا رپورٹس کے مطابق سمرتی ایرانی جو تُلسی ویرآنی کے اپنے مشہور کردار میں واپسی کر رہی ہیں انہیں فی قسط 14 لاکھ روپے دیے جا رہے ہیں۔

یہ بھی پڑھیں: سمرتی ایرانی کی ’کیونکہ ساس بھی کبھی بہو تھی‘ میں واپسی، ڈرامہ کب نشر ہو گا؟

یاد رہے کہ جب یہ شو 2000 میں پہلی بار نشر ہوا تھا، اس وقت اداکارہ سے سیاستدان بننے والی سمرتی ایرانی کو مبینہ طور پر صرف 1800 روپے فی قسط دیے جاتے تھے۔ البتہ پروڈکشن ٹیم کی جانب سے اب تک ان اعداد و شمار کی کوئی باضابطہ تصدیق سامنے نہیں آئی۔

ایک انٹرویو میں سمرتی ایرانی نے یہ دلچسپ واقعہ شیئر کیا کہ انہیں تُلسی کا کردار کیسے ملا۔ انہوں نے بتایا کہ ڈرامے میں یہ کرادر میری شخصیت کی وجہ سے نہیں ملا بلکہ ایکتا کپور کے دفتر میں ایک ماہر نجوم بیٹھا تھا انہوں نے کہا یہ جو لڑکی یہاں گھوم رہی ہے، اسے روکیے، یہ کون ہے؟

سمرتی نے بتایا جب ایکتا کپور نے جب ماہر نجوم سے پوچھا کہ انہیں کیوں روکیں تو انہوں نے کہا کہ اگر آپ اسے روکیں گے، اس کے ساتھ کام کریں گے تو یہ لڑکی ملک میں بہت بڑا نام بنے گی۔

یہ بھی پڑھیں: سرکاری گھر خالی کریں، اسمرتی ایرانی سمیت ہارجانے والے وزرا کو نوٹس جاری

انہوں نے مزید کہا جیسے ہی ماہر نجوم نے یہ پیش گوئی کی تو ایکتا کپور فوراً میرے پاس آئیں اور پوچھا کہ میں کیا سائن کر رہی ہوں۔ اُس وقت میرے معاہدے کے مطابق مجھے تقریباً 1200-1300 روپے یومیہ ملنے تھے۔

سمرتی ایرانی نے یاد کیا میں اس وقت میکڈونلڈ میں جھاڑو پونچھے کا کام کرتی تھی جہاں مجھے ماہانہ 1800 روہے دیے جاتے تھے تو میرے لیے ایک دن کا 1200 روپیہ ایک مہینے کے 1800 سے کہیں زیادہ بہتر تھا۔

انہوں نے کہا کہ اگر آپ 22-23 سال کے ہیں اور آپ مہینے کے 1800 روپے کماتے ہیں، اور گھر بھی چلانا ہے، تو آپ کے پاس زیادہ آپشنز نہیں ہوتے۔ سمرتی نے مزید بتایا کہ جیسے ہی ایکتا کو یہ بات معلوم ہوئی انہوں نے پرانا معاہدہ پھاڑ دیا اور نیا معاہدہ کیا جس کے تحت انہیں 1800 روپے فی دن ملنے لگے۔

یہ بھی پڑھیں: انڈین ڈرامہ ’سی آئی ڈی‘ کا اہم ترین کردار چل بسا

واضح رہے کہ ’کیونکہ ساس بھی کبھی بہو تھی‘ کا نیا سیزن 29 جولائی سے رات 10:30 بجے اسٹار پلس پر نشر کیا جائے گا۔ اس ڈرامے سے توقع ہے کہ یہ ایک بار پھر ٹی آر ہی کی دوڑ میں سب کو پیچھے چھوڑ دے گا۔

یہ ڈرامہ سب سے پہلے 2000 میں نشر ہوا تھا اور کئی برسوں تک ناظرین کی پہلی پسند بنا رہا۔ اس ڈرامے نے 8 سال تک اپنی کامیاب نشریات جاری رکھی اور ناظرین کے دلوں میں ایک خاص مقام بنا لیا۔ ڈرامے کی کہانی گجرات کے ایک بڑے اور امیر خاندان کے گرد گھومتی ہے، جہاں تُلسی ایک مثالی بہو کے کردار میں جلوہ گر ہوتی ہے۔

3 جولائی کو اس ڈرامے نے اپنے پہلے شو کے نشر ہونے کے 25 سال مکمل کیے۔ یہ ان گنت مشہور شوز میں سے ایک ہے جس نے مسلسل کئی سالوں تک ٹی وی کی نمبر ون پوزیشن برقرار رکھی۔

آپ اور آپ کے پیاروں کی روزمرہ زندگی کو متاثر کرسکنے والے واقعات کی اپ ڈیٹس کے لیے واٹس ایپ پر وی نیوز کا ’آفیشل گروپ‘ یا ’آفیشل چینل‘ جوائن کریں

سمرتی ایرانی کیونکہ ساس بھی کبھی بہو تھی.

ذریعہ

ذریعہ: WE News

کلیدی لفظ: سمرتی ایرانی کیونکہ ساس بھی کبھی بہو تھی ساس بھی کبھی بہو تھی سمرتی ایرانی انہوں نے فی قسط

پڑھیں:

بلوچستان میں بیرونی فنڈنگ، بھارت کے مبینہ کردار اور انسانی حقوق کی رپورٹس پر سنگین سوالات

بلوچستان میں انسانی حقوق کی صورتحال اور لاپتا افراد سے متعلق جاری بحث ایک بار پھر شدت اختیار کر گئی ہے، جہاں بعض حلقوں کی جانب سے یہ مؤقف پیش کیا جا رہا ہے کہ حالیہ برسوں میں بلوچستان سے متعلق سرگرم بعض مبینہ انسانی حقوق اور میڈیا نیٹ ورکس کے پیچھے بھارت کے مبینہ اثر و رسوخ اور فنڈنگ کے الزامات سامنے آتے رہے ہیں۔ ان دعوؤں کے مطابق 2020 میں ’انڈین کرونیکلز‘ جیسے ناموں سے پاکستان اور خاص طور پر بلوچستان کے حوالے سے سرگرم بعض فرضی این جی اوز اور انسانی حقوق کے اداروں کے نیٹ ورک سامنے آئے، جنہیں بعض مبصرین بھارت کے بیانیہ سازی کے منصوبوں سے جوڑتے ہیں، تاہم یہ مؤقف ایک متنازع اور زیرِ بحث دعویٰ ہے جس پر مختلف آرا پائی جاتی ہیں۔

یہ بھی پڑھیں:کراچی بڑی تباہی سے بچ گیا، ماہرنگ بلوچ کا جھوٹ بے نقاب

اسی تناظر میں حال ہی میں شائع ہونے والی ایک رپورٹ، جسے بعض حلقے ’ایچ آر سی بی‘ سے منسوب کر رہے ہیں، میں لاپتا افراد کے حوالے سے اعداد و شمار اور کیسز کا ذکر کیا گیا ہے، تاہم اس کی کریڈیبلٹی پر بھی سوالات اٹھائے جا رہے ہیں۔ ان حلقوں کا دعویٰ ہے کہ رپورٹ میں شامل کئی نام اور فہرستیں ایسے نیٹ ورکس سے اخذ کی گئی ہیں جو سوشل میڈیا پر پہلے سے مخصوص دعوے کرتے ہیں، اور پھر انہی دعووں کو بغیر آزادانہ اور مکمل تصدیق کے رپورٹ کا حصہ بنا لیا جاتا ہے، جسے بعض لوگ ایک “ایکوسسٹم” یا “ایکو چیمبر” قرار دیتے ہیں۔

تنقید کرنے والے مؤقف کے مطابق اس طرزِ عمل میں ایک خاص طریقۂ کار دیکھا جاتا ہے، جس میں پہلے کسی شخص کو جبری گمشدہ قرار دینے کا دعویٰ سامنے آتا ہے، پھر سوشل میڈیا پر اس پر مہم چلتی ہے، اس کے بعد وہی معلومات رپورٹس میں شامل ہو جاتی ہیں، اور پھر بین الاقوامی سطح پر انہیں بطور حوالہ پیش کیا جاتا ہے۔ تاہم بعد ازاں بعض کیسز میں مختلف حقائق سامنے آنے کے دعوے بھی کیے جاتے ہیں، جنہیں ان رپورٹس کی ساکھ پر سوال کے طور پر پیش کیا جاتا ہے۔

یہ بھی پڑھیں:ماہرنگ اور بلوچ یکجہتی کمیٹی ایک بار پھر بے نقاب، دہشتگردوں کی پشت پناہی ثابت

اسی سلسلے میں بعض مثالوں کا حوالہ دیتے ہوئے کہا جاتا ہے کہ چند افراد کے کیسز میں بعد میں مختلف دعوے یا وضاحتیں سامنے آئیں، جنہیں ان رپورٹس کے طریقۂ کار پر تنقید کے طور پر پیش کیا جاتا ہے۔ ناقدین کے مطابق اگر رپورٹنگ کا انحصار غیر مصدقہ سوشل میڈیا دعوؤں پر ہو تو اس کی غیر جانبداری متاثر ہو سکتی ہے، خصوصاً جب اسے کسی مخصوص سیاسی یا نظریاتی بیانیے کے ساتھ جوڑا جائے۔

دوسری جانب یہ بھی کہا جا رہا ہے کہ انسانی حقوق کی کسی بھی رپورٹ میں صرف ایک پہلو نہیں بلکہ تمام متاثرین کا احاطہ ہونا چاہیے، جن میں وہ شہری بھی شامل ہیں جو دہشتگردی کے واقعات میں متاثر ہوئے۔ اس ضمن میں چمن، مچ اور دیگر علاقوں میں پیش آنے والے حملوں کے متاثرین، مسافروں، اساتذہ اور مزدوروں کا ذکر کرتے ہوئے کہا جاتا ہے کہ اگر کسی رپورٹ میں ان واقعات اور متاثرین کو نظر انداز کیا جائے تو اس کی جامعیت اور غیر جانبداری پر سوال اٹھ سکتے ہیں۔

یوں بلوچستان سے متعلق انسانی حقوق کی رپورٹس، لاپتا افراد کے اعداد و شمار اور مبینہ بیرونی اثر و رسوخ کے الزامات ایک پیچیدہ اور متنازع بحث کی صورت اختیار کر چکے ہیں، جس میں مختلف فریقین اپنے اپنے مؤقف کے ساتھ موجود ہیں اور حتمی اتفاق رائے تاحال سامنے نہیں آ سکا۔

آپ اور آپ کے پیاروں کی روزمرہ زندگی کو متاثر کرسکنے والے واقعات کی اپ ڈیٹس کے لیے واٹس ایپ پر وی نیوز کا ’آفیشل گروپ‘ یا ’آفیشل چینل‘ جوائن کریں

انڈین کرونیکلز بھارت لاپتا افراد ماہرنگ بلوچ

متعلقہ مضامین

  • پنجاب میں پہلی بار 8 لاکھ 32ہزار سےزائدکاشتکاروں کو کسان کارڈ جاری
  • بلوچستان میں بیرونی فنڈنگ، بھارت کے مبینہ کردار اور انسانی حقوق کی رپورٹس پر سنگین سوالات
  • سونے کی قیمت میں پھر ہوشربا اضافہ
  • وسیم اکرم، مصباح اور فخر عالم نے اپنی حج کی پوسٹس پر ہونے والی تنقید کا جواب دے دیا
  • 27 مئی تا یکم جون عید تعطیلات، ریلوے کی آمدن میں خاطرہ خواہ اضافہ
  • سندھ میں 20 لاکھ گھروں کی تعمیر کو ممکن بنائیں گے:بلاول بھٹو کا گلگت جلسے سے خطاب
  • سونے کی فی تولہ قیمت میں پھر سے ہزاروں روپے کا اضافہ
  • اے پی ایس شہدا کے لواحقین کو معاوضہ پیکج کی عدم ادائیگی، سپریم کورٹ نے وفاقی حکومت سے جواب طلب کرلیا
  • بھارتی سرپرستی میں ملک دشمن پروپیگنڈا، کالعدم بی ایل اے سے منسلک ملک دشمن شاعرہ حبیبہ پیرجان کی گرفتاری کے لیے 10 لاکھ روپے انعام کا اعلان
  • چیزیئس سے 40 لاکھ روپے کی ریکوری، فروخت کے اعداد و شمار میں فرق سامنے آگیا