فرسودہ نظام سے ترقی ممکن نہیں، وزیراعظم کی ماہرین پر مشتمل ماڈل اپنانے کی ہدایت WhatsAppFacebookTwitter 0 11 July, 2025 سب نیوز

اسلام آباد(آئی پی ایس) وزیراعظم شہباز شریف نے وزارتوں کی کارکردگی بڑھانے کیلئے ہر شعبے کے ماہرین کی خدمات حاصل کرنے کی ہدایت کردی۔

تفصیلات کے مطابق وزیراعظم شہباز شریف کی زیر صدارت اجلاس میں وزارت بجلی کی جانب سے گورننس کی بہتری اور اصلاحات کیلئے ماہرین پر مشتمل نظام پر تفصیلی بریفنگ دی گئی۔

اجلاس سے خطاب میں وزیراعظم شہباز شریف نے کہا کہ سات دہائیوں سے اس ملک کو جس نظام سے چلانے کی کوشش کی گئی اُس سے پاکستان کی ترقی ممکن نہیں، فرسودہ نظام کو عصری تقاضوں سے ہم آہنگ کئے بغیر معاشی ترقی اور خوشحالی نہیں آسکتی۔

وزیراعظم نے کہا کہ پاکستان وسائل سے مالامال ہے، پاکستان کی نوجوان افرادی قوت پاکستان کا سب سے قیمتی اثاثہ ہے، باصلاحیت پاکستانی پوری دنیا میں ملک و قوم کا نام روشن کررہے ہیں۔

انہوں نے کہا کہ حکومت کی اولین ترجیحات میں فرسودہ نظام کو جدید ڈیجیٹل اور مؤثر گورننس کے نظام میں تبدیل کرنا ہے، اویس لغاری اور انکی ٹیم کی انتھک محنت قابل تعریف ہے، وزارت بجلی کی اصلاحات، نقصانات میں کمی اور قومی خزانے کو اربوں روپے کی بچت باقی وزارتوں کیلئے قابل تقلید مثال ہے۔

وزیرِاعظم نے کہا کہ نظام کی تبدیلی کیلئے بین الاقوامی شہرت یافتہ ماہرین کی معاونت انتہائی ضروری ہے، شعبے کے ماہرین اور کنسلٹنٹس جدید دور کے تقاضوں کے مطابق اصلاحات سے نئی سوچ اور گورننس کے طریقہ کار کو رائج کرنے میں معاون ہونگے۔

وزیراعظم نے بہترین افرادی قوت کی بھرتی، وزارتوں کو جدید نظام سے ہم آہنگ کرنے اور اصلاحات سے گورننس کی بہتری کی تجاویز کے حوالے سے کمیٹی کے قیام کی بھی ہدایت کردی، کمیٹی وزارت بجلی کی اصلاحات کو مد نظر رکھتے ہوئے باقی وزارتوں و اداروں کی تنظیمِ نو کے حوالے سے قابل عمل تجاویز کو حتمی شکل دے گی۔

اجلاس میں بتایا گیا کہ نیشنل الیکٹرسٹی پلان کے تحت وزارت میں 134 تزویراتی ہدایات پر عمل درآمد یقینی بنایا گیا ہے، اجلاس کو شعبے کے ماہرین کی پروفائلز اور رائج کردہ نظام کے تحت وزارت کی موجودہ ورکنگ کے حوالے سے بھی تفصیلی بریفنگ دی گئی۔

اجلاس میں وفاقی وزراء ڈاکٹر مصدق ملک، احد خان چیمہ، سردار اویس خان لغاری، شزہ فاطمہ خواجہ، علی پرویز ملک، وزیر مملکت بلال اظہر کیانی، چیف کوارڈینیٹر مشرف زیدی اور متعلقہ اعلیٰ حکام نے شرکت کی۔

روزانہ مستند اور خصوصی خبریں حاصل کرنے کے لیے ڈیلی سب نیوز "آفیشل واٹس ایپ چینل" کو فالو کریں۔

WhatsAppFacebookTwitter پچھلی خبروزیر داخلہ محسن نقوی کی یو اے ای کے نائب وزیراعظم سے ملاقات، ویزا سہولیات پر اتفاق وزیر داخلہ محسن نقوی کی یو اے ای کے نائب وزیراعظم سے ملاقات، ویزا سہولیات پر اتفاق حمیرا اصغر کی پوسٹ مارٹم رپورٹ منظر عام پر، مزید چونکا دینے والے انکشافات بحری ترقی میں نجی شعبے کا کردار قابل تحسین ہے، وفاقی وزیر بحری امور اپوزیشن کے 26معطل ارکان کی نااہلی ریفرنس پر اسپیکر پنجاب سے ملاقات عمران خان کے بیٹوں کا پاکستان آنے کا معاملہ کھٹائی میں پڑگیا سپریم کورٹ کا پی ٹی سی ایل پنشنرز کے حق میں فیصلہ ، 90 دن میں ادائیگی کا حکم TikTokTikTokMail-1MailTwitterTwitterFacebookFacebookYouTubeYouTubeInstagramInstagram

Copyright © 2025, All Rights Reserved

رابطہ کریں ہمارے بارے ہماری ٹیم.

ذریعہ

ذریعہ: Daily Sub News

پڑھیں:

مودی کا امتحانی پرچے لیک کرنے والوں کے خلاف فاسٹ ٹریک عدالتیں قائم کرنے کا اعلان

بھارتی وزیراعظم نریندر مودی نے امتحانی پرچوں کے لیک ہونے کے بڑھتے ہوئے واقعات کے خلاف سخت اقدامات کا اعلان کرتے ہوئے کہا ہے کہ ایسے جرائم میں ملوث افراد کو جلد انصاف کے کٹہرے میں لانے کے لیےفاسٹ ٹریک عدالتیںقائم کی جائیں گی۔ انہوں نے واضح کیا کہ طلبہ کے مستقبل سے کھیلنے والوں کے ساتھ کسی قسم کی رعایت نہیں برتی جائے گی۔

سوشل میڈیا پلیٹ فارم ایکس (X) پر جاری اپنے بیان میں وزیراعظم مودی نے کہا کہ نوجوانوں کا مستقبل حکومت کی اولین ترجیح ہے اور امتحانی نظام میں بدعنوانی یا پرچے لیک کرنے جیسے جرائم میں ملوث عناصر کو سخت اور فوری سزا دی جائے گی۔

یہ امتحانی پرچوں کے لیک ہونے کے معاملے پر وزیراعظم مودی کا پہلا عوامی بیان ہے۔ تاہم ان کے ردعمل کے بعد بھی ملک بھر میں جاری طلبہ احتجاج میں کمی نہیں آئی۔ متعدد طلبہ اور سماجی حلقوں نے سوال اٹھایا کہ حکومت نے اس حساس معاملے پر ردعمل دینے میں اتنی تاخیر کیوں کی۔

دوسری جانب لوک سبھا میں قائد حزب اختلاف راہل گاندھی نے وزیراعظم کے بیان کو تنقید کا نشانہ بناتے ہوئے حکومت پر تعلیمی نظام کو کمزور کرنے کا الزام عائد کیا۔

راہل گاندھی نے ایکس پر اپنی پوسٹ میں لکھا کہ نوجوانوں کے مستقبل کو سب سے زیادہ نقصان موجودہ حکومت نے پہنچایا ہے۔ ان کے مطابق حکومت نے نہ صرف تعلیمی نظام کو تباہ ہونے دیا بلکہ ذمہ دار افراد کو بھی تحفظ فراہم کیا۔

انہوں نے کہا کہ احتجاج کرنے والے طلبہ کے تین بنیادی مطالبات ہیں، جن میں وزیر تعلیم دھرمندر پردھان کو عہدے سے ہٹانا، طلبہ سے باضابطہ معافی مانگنا اور احتجاج کے دوران طلبہ پر مبینہ تشدد میں ملوث افراد کے خلاف کارروائی شامل ہے۔

واضح رہے کہ ملک میں تعلیمی اصلاحات اور امتحانی نظام میں شفافیت کے مطالبات کے حوالے سے احتجاجی تحریک جاری ہے۔ حالیہ دنوں میں طلبہ اور پولیس کے درمیان جھڑپوں کے بعد یہ معاملہ مزید شدت اختیار کر گیا ہے، جبکہ امتحانی پرچے لیک ہونے کے واقعات نے بھارت کے تعلیمی نظام پر سنجیدہ سوالات کھڑے کر دیے ہیں۔

متعلقہ مضامین

  • وزارتِ خارجہ کی اپوسٹل سروسز کے ٹھیکوں پر سوالات، آڈٹ میں قواعد کی مبینہ خلاف ورزیوں کی نشاندہی
  • غیر ضروری وزارتیں ختم کرکے سالانہ 5 ہزار ارب روپے کی بچت ممکن ہے، سینیٹ کمیٹی
  • پیٹرول مہنگا، کیا دفتروں کے لیے ہفتہ دوبارہ 3 یا 4 روز پر مشتمل ہوسکتا ہے؟
  • جرمنی کا بڑا فیصلہ، یکم اگست سے توسیع شدہ افغان پاسپورٹ تسلیم نہیں کیے جائیں گے
  • وزیراعظم کا  آئی ٹی برآمدات 4.6 ارب ڈالر تک پہنچنے پر اطمینان کا اظہار
  • مودی کا امتحانی پرچے لیک کرنے والوں کے خلاف فاسٹ ٹریک عدالتیں قائم کرنے کا اعلان
  • وزیراعلی سندھ مراد علی شاہ کا مون سون کے پیش نظر انتظامیہ کو الرٹ رہنے کا حکم
  • پاکستان کے دفاع، سیکیورٹی کے شعبے میں ٹیکنالوجی کا استعمال قابل فخر ہے، وزیراعظم
  • پاکستان میں اسمارٹ فون کا استعمال 62 سے بڑھ کر 72 فیصد تک پہنچ گیا، وزیراعظم کو بریفنگ
  • شہباز شریف سمیت حکومتی شخصیات کو 21 تحائف ملے، توشہ خانہ کا ریکارڈ جاری