اسلام آباد (ڈیلی پاکستان آن لائن) خیبرپختونخوا میں سینیٹ انتخابات کے تناظر میں جمعیت علمائے اسلام کے سربراہ مولانا فضل الرحمان ایک بار پھر سیاسی مرکزِ نگاہ بن گئے ہیں۔ اس موقع پر پیپلزپارٹی کا وفد خورشید شاہ کی قیادت میں ان سے ملاقات کیلئے پہنچا۔ وفد میں گورنر خیبرپختونخوا فیصل کریم کنڈی اور ظاہر شاہ شامل تھے، جبکہ جے یو آئی کی جانب سے اکرم خان درانی، مولانا لطف الرحمان، اسعد محمود اور اسجد محمود شریک ہوئے۔

ملاقات میں خیبرپختونخوا میں سینیٹ انتخابات سے متعلق تفصیلی مشاورت ہوئی، اور باہمی تعاون سے انتخابی حکمت عملی اختیار کرنے پر غور کیا گیا۔

معصوم جانوں کے قاتل کسی رعایت کے مستحق نہیں: وزیرِ اعلیٰ بلوچستان

نجی ٹی وی جیو نیوز نے  ذرائع کے حوالے سے دعویٰ کیا ہے کہ ن لیگ، پیپلزپارٹی اور جے یو آئی کے درمیان خیبرپختونخوا میں مشترکہ انتخابی حکمت عملی طے پانے کا امکان ہے، جبکہ اے این پی کو بھی ساتھ ملانے کی کوششیں کی جا رہی ہیں۔

یہ بھی بتایا گیا ہے کہ صوبائی اسمبلی کے آزاد ارکان سے بھی رابطے کیے جائیں گے تاکہ سینیٹ انتخابات میں زیادہ مؤثر اتحاد قائم ہو۔

یاد رہے کہ چند روز قبل مسلم لیگ (ن) کا وفد بھی مولانا فضل الرحمان سے ملاقات کرچکا ہے۔

واضح رہے کہ خیبرپختونخوا اسمبلی میں سینیٹ انتخابات کیلئے پولنگ 21 جولائی

پاک بحریہ میں عسکری اعزازات تفویض کرنے کی تقریب، چیف آف نیول سٹاف کی بطور مہمان خصوصی شرکت

کو ہوگی۔

مزید :.

ذریعہ

ذریعہ: Daily Pakistan

کلیدی لفظ: سینیٹ انتخابات

پڑھیں:

آزاد کشمیر الیکشن کے حوالے سے میڈیا کیلیے ضابطہ اخلاق جاری

الیکشن کمیشن آزاد کشمیر نے انتخابات 2026 کے لیے نیا میڈیا ضابطہ اخلاق جاری کر دیا، پالیسی کا مقصد انتخابی عمل میں شفافیت، غیرجانبداری اور ذمہ دارانہ صحافتی روایات کو یقینی بنانا ہے۔

الیکشن کمیشن کے مطابق تمام میڈیا اداروں کو ہدایت کی گئی ہے کہ وہ انتخابی کوریج کے دوران مکمل غیرجانبداری کا مظاہرہ کریں اور ضابطہ اخلاق پر سختی سے عمل درآمد کریں۔

اعلامیے میں کہا گیا ہے کہ پولنگ اسٹیشن کے اندر صرف مجاز میڈیا نمائندوں کو کوریج کی اجازت ہوگی تاہم پولنگ بوتھ کے اندر ووٹنگ کی خفیہ کارروائی کی کسی بھی قسم کی ریکارڈنگ یا فوٹوگرافی سختی سے ممنوع ہوگی۔

الیکشن کمیشن نے پولنگ ختم ہونے سے قبل کسی بھی قسم کے ایگزٹ پول، نتائج یا رجحانات نشر کرنے پر مکمل پابندی عائد کر دی ہے۔ نفرت انگیز، اشتعال انگیز یا فرقہ وارانہ مواد نشر کرنے سے گریز کرنے کی تاکید کی ہے۔

اسی طرح غلط، غیر مصدقہ یا گمراہ کن معلومات نشر کرنا بھی ممنوع قرار دیا گیا۔تمام امیدواروں کو انتخابی کوریج میں مساوی اور منصفانہ نمائندگی دینے کی ہدایت کی گئی ہے۔

الیکشن کمیشن نے واضح کیا ہے کہ ضابطہ اخلاق کی خلاف ورزی پر متعلقہ میڈیا ادارے کی ایکریڈیٹیشن منسوخ کی جا سکتی ہے اور قانونی کارروائی بھی عمل میں لائی جائے گی۔

کمیشن نے تمام میڈیا اداروں سے اپیل کی ہے کہ وہ انتخابی ضابطہ اخلاق پر مکمل عمل درآمد یقینی بنائیں تاکہ انتخابی عمل کے اعتماد اور شفافیت کو برقرار رکھا جا سکے۔

متعلقہ مضامین

  • وفاقی آئینی عدالت، سہیل آفریدی کیخلاف درخواستیں سماعت کیلئے مقرر
  • خیبر پی کے میں بلدیاتی انتخابات 2 مراحل میں ہونے کا امکان 
  • مسئلہ کشمیر کا منصفانہ حل جنوبی ایشیا میں امن کی بنیاد، دہشتگردی عالمی سلامتی کیلئے سنگین خطرہ: اسحاق ڈار
  • شہدا ء کا مقام اور فضیلت
  • اسحاق ڈار ایس سی او وزرائے خارجہ اجلاس کیلئے کرغزستان پہنچ گئے
  • خیبر پختونخوا میں بلدیاتی انتخابات مرحلہ وار ہونے کا امکان
  • آزاد کشمیر انتخابات: استحکام پاکستان پارٹی اور مسلم کانفرنس میں انتخابی اتحاد، سیٹ ایڈجسٹمنٹ پر اتفاق
  • آزاد کشمیر الیکشن کے حوالے سے میڈیا کیلیے ضابطہ اخلاق جاری
  • مولانا محمد علی جوہر یونیورسٹی کو بچانے کیلئے طلباء کا احتجاج جاری، ہزاروں طلباء کا احتجاج
  • جامعہ کراچی میں سالانہ یومِ حسینؑ، شیعہ سنی علماء کا خطاب، اساتذہ و طلباء کی شرکت