پاکستان میں اسٹار لنک کی آمد، ایلون مسک کی شرکت متوقع
اشاعت کی تاریخ: 12th, July 2025 GMT
data-id="863a0a8" data-element_type="widget" data-widget_type="theme-post-content.default">
اسلام آباد (نمائندہ جسارت) پاکستان میں عالمی شہرت یافتہ کمپنی اسٹار لنک جلد ہی اپنی سروسز شروع کرنے جا رہی ہے، جبکہ اس سلسلے میں منعقد کی جانے والی افتتاحی تقریب میں دنیا کے امیر ترین شخص ایلون مسک کی شرکت بھی متوقع ہے۔ معتبر ذرائع کے مطابق، معروف عالمی کمپنی اسٹار لنک نے پاکستانی قوانین اور ریگولیٹری فریم ورک کے ماتحت کام کرنے پر آمادگی ظاہر کر دی ہے، توقع ہے کہ رواں سال کے آخر تک اسٹار لنک پاکستان میں اپنی سروسز کا باقاعدہ آغاز کردے گی۔ ذرائع نے بتایا کہ دنیا کے امیر ترین شخص اور اسپیس ایکس کے بانی ایلون مسک کی اس لانچنگ تقریب میں شرکت کا بھی امکان ظاہر کیا جا رہا ہے۔ پاکستان اسپیس ایکٹویٹیز ریگولیٹری بورڈ (سپارکو) بین الاقوامی سیٹلائٹ ریگولیٹری فریم ورک کی تیاری میں مصروف ہے، جسے حتمی شکل دینے کے بعد اسٹار لنک کو باقاعدہ رجسٹریشن دی جائے گی۔ ذرائع کے مطابق، سیٹلائٹ انٹرنیٹ فراہم کرنے والی دیگر کمپنیوں کی آرا کو بھی مدنظر رکھتے ہوئے اس فریم ورک کے ڈرافٹ کو حتمی شکل دی جا رہی ہے، اس سلسلے میں گزشتہ ماہ ایک ورکشاپ میں شنگھائی ٹیلی کام، ایمازون، ون ویب سمیت کئی کمپنیوں نے شرکت کی اور دلچسپی ظاہر کی، تاہم اسٹار لنک پہلی کمپنی ہے جس نے باقاعدہ رجسٹریشن کے لیے درخواست دی ہے۔
.
ذریعہ
ذریعہ: Jasarat News
کلیدی لفظ: اسٹار لنک
پڑھیں:
بجٹ 2026-27: جائیداد کی خرید و فروخت پر ٹیکس میں بڑی کمی کی تجویز
وفاقی حکومت نے آئندہ مالی سال 2026-27 کے بجٹ(Budget) میں جائیداد کی خرید و فروخت پر عائد ٹیکسوں میں نمایاں کمی کی تجاویز تیار کر لی ہیں، جن کا مقصد ریئل اسٹیٹ اور تعمیراتی شعبے میں سرمایہ کاری کو فروغ دینا اور معاشی سرگرمیوں میں اضافہ کرنا ہے۔
ذرائع کے مطابق بجٹ تجاویز کے تحت فائلرز کے لیے غیر منقولہ جائیداد کی خریداری پر عائد ٹیکس کی شرح موجودہ 1.5 فیصد سے کم کر کے 0.25 فیصد کرنے پر غور کیا جا رہا ہے۔ اسی طرح جائیداد کی فروخت پر عائد ٹیکس کو 4.5 فیصد سے کم کر کے 1.5 فیصد کرنے کی تجویز بھی زیر غور ہے۔
ذرائع کا کہنا ہے کہ حکومت ان اقدامات کے ذریعے پراپرٹی مارکیٹ میں موجود جمود کو ختم کرنا چاہتی ہے تاکہ خرید و فروخت کی سرگرمیوں میں اضافہ ہو اور تعمیراتی شعبہ دوبارہ متحرک ہو سکے۔
تاہم ان تجاویز پر بین الاقوامی مالیاتی فنڈ (آئی ایم ایف) کے ساتھ مذاکرات جاری ہیں۔ ذرائع کے مطابق آئی ایم ایف ٹیکسوں میں مجوزہ کمی کی مخالفت کر رہا ہے اور اسے حکومتی آمدن پر ممکنہ اثرات کے تناظر میں دیکھ رہا ہے۔
مزیدپڑھیں:بحر اوقیانوس کے اوپر سیکیورٹی الرٹ، طیارہ پونے 4 گھنٹے بعد واپس لوٹ آیا
حکومتی حکام کا مؤقف ہے کہ ٹیکس شرحوں میں کمی سے جائیداد کے شعبے میں سرمایہ کاری بڑھے گی، جس کے نتیجے میں مارکیٹ میں لین دین کا حجم بڑھنے سے مجموعی ٹیکس وصولیوں میں بھی اضافہ ہو سکتا ہے۔ حکومت کا یہ بھی خیال ہے کہ تعمیراتی سرگرمیوں کے فروغ سے روزگار کے نئے مواقع پیدا ہوں گے اور معیشت کے مختلف شعبوں کو فائدہ پہنچے گا۔
ذرائع کے مطابق ان تجاویز کے حتمی خدوخال آئی ایم ایف کے ساتھ مذاکرات اور وفاقی کابینہ کی منظوری کے بعد آئندہ بجٹ میں شامل کیے جا سکتے ہیں۔