زرداری مستعفی نہیں ہورہے، فیلڈ مارشل نے کبھی صدر بننے کی خواہش ظاہر نہیں کی، وزیراعظم
اشاعت کی تاریخ: 12th, July 2025 GMT
زرداری مستعفی نہیں ہورہے، فیلڈ مارشل نے کبھی صدر بننے کی خواہش ظاہر نہیں کی، وزیراعظم WhatsAppFacebookTwitter 0 12 July, 2025 سب نیوز
اسلام آباد(آئی پی ایس) وزیراعظم شہباز شریف نے واضح الفاظ میں افواہوں کو مسترد کر دیا ہے جن میں کہا جا رہا تھا کہ صدر آصف علی زرداری کو استعفیٰ دینے کا کہا جا سکتا ہے یا آرمی چیف فیلڈ مارشل عاصم منیر صدر بننے کے خواہش مند ہیں۔
وزیراعظم نے ان قیاس آرائیوں کو ’محض افواہیں‘ قرار دیتے ہوئے کہا کہ اس میں کوئی صداقت نہیں۔
میڈیا رپورٹس کے مطابق وزیراعظم نے کہا ہے کہ فیلڈ مارشل عاصم منیر نے کبھی صدر بننے کی خواہش ظاہر نہیں کی اور نہ ہی حکومت یا اسٹیبلشمنٹ کے کسی حلقے میں ایسا کوئی منصوبہ زیر غور ہے۔
شہباز شریف نے مزید کہا کہ ان کی، صدر زرداری کی اور آرمی چیف کی باہمی عزت اور پاکستان کی ترقی کے مشترکہ مقصد پر مبنی مضبوط شراکت داری ہے۔
وزیر داخلہ محسن نقوی نے بھی سوشل میڈیا پلیٹ فارم ایکس (سابق ٹوئٹر) پر اس حوالے سے جاری بیان میں ان افواہوں کو ’شرانگیز مہم‘ قرار دیا اور کہا کہ ہم جانتے ہیں کہ اس مہم کے پیچھے کون عناصر ہیں۔
محسن نقوی نے کہا کہ نہ ایسی کوئی بات ہوئی ہے اور نہ ہی ایسی کوئی تجویز زیر غور ہے کہ صدر کو مستعفی ہونے کا کہا جائے یا آرمی چیف صدر بننے کا ارادہ رکھتے ہوں۔
انہوں نے الزام لگایا کہ اس افواہ ساز مہم میں بیرونی دشمن عناصر بھی ملوث ہو سکتے ہیں۔
ان کا کہنا تھا کہ آپ دشمن قوتوں کے ساتھ مل کر جو مرضی کر لیں، ہم پاکستان کو دوبارہ مضبوط بنانے کے لیے ہر ممکن اقدام کریں گے، ان شاء اللہ۔
چیئرمین سینیٹ اور سابق وزیراعظم یوسف رضا گیلانی نے بھی ان خبروں کو جھوٹ اور گمراہ کن معلومات” قرار دے کر مسترد کر دیا۔
حکومت اور اتحادیوں کی جانب سے مشترکہ طور پر ان افواہوں کی تردید سے واضح ہوتا ہے کہ یہ سب خبریں سیاسی مقاصد کے تحت پھیلائی گئی ہیں اور ان کی کوئی حقیقت نہیں۔
روزانہ مستند اور خصوصی خبریں حاصل کرنے کے لیے ڈیلی سب نیوز "آفیشل واٹس ایپ چینل" کو فالو کریں۔
WhatsAppFacebookTwitter پچھلی خبرامریکی عدالت نے نائن الیون کے مبینہ ماسٹر مائنڈ خالد شیخ سے رعایتی معاہدہ کالعدم کر دیا امریکی عدالت نے نائن الیون کے مبینہ ماسٹر مائنڈ خالد شیخ سے رعایتی معاہدہ کالعدم کر دیا لکی مروت پولیس کی بروقت کارروائی، تھانے پر فتنہ الخوارج کا حملہ ناکام بنگلا دیش: سابق پولیس سربراہ نے انسانیت کے خلاف جرائم کا اعتراف کرلیا، حسینہ واجد پر فرد جرم قانون کی حکمرانی تک ملک ترقی نہیں کر سکتا، شاہد خاقان عباسی لاہور تا رائیونڈ صرف 16 کلومیٹر کی موٹروے؟ ،قائمہ کمیٹی اجلاس میں انکشاف معطل اراکین کا معاملہ ، اسپیکر پنجاب اسمبلی اور اپوزیشن کی ملاقات کی اندرونی کہانی سب نیوز پرCopyright © 2025, All Rights Reserved
رابطہ کریں ہمارے بارے ہماری ٹیم.
ذریعہ
ذریعہ: Daily Sub News
کلیدی لفظ: فیلڈ مارشل
پڑھیں:
کالم نگار کو بیوروکریسی کے بارے میں مبینہ ریمارکس پر نوٹس صرف مؤقف حاصل کرنے کے لیے جاری کیا گیا تھا، اس پر کوئی ایف آئی آر درج نہیں کی گئی، سینیٹ کی قائمہ کمیٹی برائے اطلاعات و نشریات کے اجلاس میں این سی سی آئی کی بریفنگ
اسلام آباد (ڈیلی پاکستان آن لائن)سینیٹر سرمد علی کی قائم مقام صدارت میں پی ٹی وی ہیڈ کوارٹر اسلام آباد میں سینیٹ کی قائمہ کمیٹی برائے اطلاعات و نشریات کا اجلاس منعقد ہوا جس میں این سی سی آئی اے کی جانب سے سوشل میڈیا کے اعداد و شمار اور میٹا کی جانب سے قابلِ اعتراض مواد ہٹانے کے حوالے سے بریفنگ دی گئی۔ این سی سی آئی اے نے واضح کیا کہ اس سے قبل کمیٹی کو جو اعداد و شمار فراہم کیے گئے تھے، وہ میٹا کے عوامی سطح پر دستیاب ڈیٹا پر مبنی تھے۔ کمیٹی نے اس وضاحت کو قبول کیا اور تصدیق شدہ حقائق کی بنیاد پر ذمہ دارانہ رپورٹنگ کی ضرورت پر زور دیا۔
کمیٹی نے بیوروکریسی کے بارے میں مبینہ متنازعہ ریمارکس پر ایک اخبار کے کالم نگار کو نوٹس جاری کرنے کے معاملے کا بھی جائزہ لیا۔ این سی سی آئی اے نے کمیٹی کو بتایا کہ یہ نوٹس پاس (PAS) افسران ایسوسی ایشن کے صدر کی طرف سے درج کرائی گئی شکایات کے بعد صرف کالم نگار کا مؤقف حاصل کرنے کے لیے جاری کیا گیا تھا۔ مزید آگاہ کیا گیا کہ پیکا کے تحت کوئی ایف آئی آر درج نہیں کی گئی، کالم نگار نے تاحال نوٹس کا جواب نہیں دیا، اور یہ مضمون اخبار کے ای پیپر سے ہٹا دیا گیا ہے، اگرچہ یہ کالم نگار کے فیس بک پیج پر اب بھی دستیاب ہے۔
سینیٹ کی قائمہ کمیٹی برائے اطلاعات و نشریات کا اجلاس،فلم "بلھا" پر پابندی یا نام تبدیلی کی سفارش، صحافیوں کے ہاؤسنگ کوٹے اور پیکا کیسز پر اہم فیصلے
بحث کے دوران اراکین نے پارلیمنٹ میں دی گئی حکومت کی اس یقین دہانی کو دہرایا کہ پیکا کا استعمال اخبارات اور ٹیلی ویژن کی ویب سائٹس یا ڈیجیٹل پلیٹ فارمز کے خلاف نہیں کیا جائے گا کیونکہ ان کے منظم کردہ مواد کو بالترتیب پریس کونسل اور پیمرا کنٹرول کرتے ہیں۔ سینیٹر پرویز رشید نے اس بات پر زور دیا کہ حقائق واضح کرنے کے لیے کالم نگار کو نوٹس کا جواب دینے کا کہا جائے۔ کمیٹی نے متفقہ طور پر مشاہدہ کیا کہ ہر فرد کی عزت اور تقدس کا احترام کیا جانا چاہیے۔ مشاورت کے بعد، قائم مقام چیئرمین نے این سی سی آئی اے کو ہدایت کی کہ وہ شکایت اور شکایات کنندہ دونوں کو پریس کونسل آف پاکستان کے پاس بھیجیں، جو کہ شائع شدہ کالم کا جائزہ لینے اور اس معاملے پر فیصلہ کرنے والا مناسب فورم ہے۔
کمیٹی نے صوبائی حکام سے پیکا کے مقدمات کی این سی سی آئی اے کو منتقلی کا بھی جائزہ لیا۔ سینیٹر وقار مہدی کے سوال پر این سی سی آئی اے کے حکام نے کمیٹی کو بتایا کہ سندھ سے اب تک صرف نو مقدمات منتقل کیے گئے ہیں، جبکہ دیگر صوبوں میں مقدمات کی منتقلی کا عمل ابھی باقی ہے۔ تفصیلی غوروخوض کے بعد، سینیٹر سرمد علی نے ہدایت کی کہ تمام متعلقہ صوبائی حکام کو خطوط بھیجے جائیں تاکہ عمل درآمد کے لیے سینیٹ کی ذیلی کمیٹی برائے اطلاعات و نشریات کی سفارشات اور رپورٹ کے ساتھ زیر التوا مقدمات کی منتقلی کو تیز کیا جا سکے۔
پاکستانی تاجروں نے چین کو 60ہزار ٹن چاول برآمد کرنے کے آرڈرز حاصل کرلئے
مزید :